نیواڈا کا دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کے منصوبے کیخلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی ریاست نیواڈا نے دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کے منصوبے کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر کر دیا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دریائے کولوراڈو راکی ماؤنٹینز سے نکلتا ہے اور خشک امریکی جنوب مغرب کے وسیع علاقوں میں زراعت کو ممکن بناتا ہے، یہ خطے میں رہنے والے تقریباً 4 کروڑ افراد کو پینے کا پانی بھی فراہم کرتا ہے، جن میں فینکس جیسے بڑے شہر بھی شامل ہیں۔
تاہم کئی دہائیوں سے پانی کے ضرورت سے زیادہ استعمال اور مسلسل خشک سالی نے اس دریا پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، دریا کے پانی کا انتظام پہلے ہی دستیاب وسائل سے زیادہ پانی مختص کیے جانے کی بنیاد پر ہوتا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے وفاقی حکومت نے اعلان کیا کہ زیریں طاس کی ریاستوں یعنی ایریزونا، کیلیفورنیا اور نیواڈا کے لیے قابلِ استعمال پانی کی مقدار کم کی جائے گی، جبکہ بالائی طاس کی ریاستوں یعنی کولوراڈو، نیو میکسیکو، یوٹاہ اور وائیومنگ کے حصے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
اس منصوبے کے تحت تینوں زیریں طاس ریاستوں کی مجموعی پانی کی کھپت میں 2036 تک ہر سال 3.7 ارب مکعب میٹر تک کمی کی جا سکتی ہے، اب نیواڈا نے اس تبدیلی کو روکنے کے لئے عدالت سے رجوع کیا ہے۔
ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے نتیجے میں نیواڈا کے پانی کے حصے میں دو تہائی تک کمی ہو سکتی ہے، جس سے صحرائی شہر لاس ویگاس کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، کیونکہ شہر اپنی 90 فیصد پانی کی ضروریات کے لیے دریائے کولوراڈو پر انحصار کرتا ہے۔
ریپبلکن گورنر جو لومبارڈو نے کہاکہ یہ سیاسی دکھاوا نہیں ہے، یہ اس کمیونٹی کی بقا کا معاملہ ہے جو ہماری ریاست کے تقریباً دو تہائی شہریوں اور معیشت کے سب سے بڑے حصے کی نمائندگی کرتی ہے۔
وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ پانی کے استعمال میں کمی ضروری ہے کیونکہ دریائے کولوراڈو پر انحصار کرنے والی سات ریاستیں آپس میں کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو دریا پر قائم وہ ڈیم، جو پن بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، کام کرنا بند کر سکتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments