ایران کیساتھ فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے: ترجمان وائٹ ہاؤس

واشنگٹن: (دنیا نیوز) وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے یا کسی نئے معاہدے کے لیے براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ محسوس نہ ہو کہ ایران بامعنی مذاکرات کے لیے سنجیدگی سے میز پر آنے کو تیار ہے۔

کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد امریکا نے اب اقتصادی دباؤ بڑھانے پر توجہ مرکوز کرلی ہے، تاہم صدر ٹرمپ کے پاس فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز اب بھی موجود ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی راستہ بحال کرنے کے لیے سرگرم ہے، قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے جمعرات کو تہران کا دورہ کیا اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

قطر کی کوششوں کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور امریکا و ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ قطر اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں کردار ادا کرچکا ہے۔

قطری اور ایرانی حکام کے درمیان بات چیت میں آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے عارضی مشترکہ بحری راہداری قائم کرنے اور آبی گزرگاہ سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دوسری جانب امریکا نے ایران پر فوجی دباؤ کے ساتھ اقتصادی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے رواں ہفتے مختلف ممالک کو ایران کے ساتھ مالی روابط ختم کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے پابندیوں کی خلاف ورزی کی صورت میں ثانوی پابندیوں کا عندیہ دیا تھا۔

ایرانی حکام نے امریکی پابندیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ایران کے خلاف مکمل اقتصادی جنگ قرار دیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی دباؤ کے باوجود وہ اپنے قومی مفادات سے دستبردار نہیں ہوگا۔

ایران اور عمان بھی آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت کر رہے ہیں، تاہم آبنائے کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی شرائط پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہوا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے مرکزی بحری راستے سے بارودی سرنگیں صاف کردی ہیں، جبکہ ایران اور عمان کے درمیان سفارتی مذاکرات بدستور جاری ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...