عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس: بیان ریکارڈ، جرح کیلئے 12 ستمبر کی تاریخ مقرر
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور کی مقامی عدالت میں صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے پر سماعت ہوئی، عظمیٰ بخاری نے عدالت پیش ہو کر بطور کمپلیننٹ اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔
ضلع کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے کی سماعت کی۔ عظمیٰ بخاری اپنے وکیل علی بخاری کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔
عظمیٰ بخاری نے روسٹرم پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر اجازت دیں تو دو تین باتیں کرنی ہیں، میں ملزمہ نہیں ہوں، اس کیس میں کمپلیننٹ ہوں، مجھ سے زیادتی ہوئی ہے، آپ کو پتہ ہے کہ مجھ پر کیا گزرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک یوٹیوبر نے ٹوئٹ کیا کہ میرے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے، بتایا جائے کہ کب وارنٹ جاری ہوئے، یہ یوٹیوبر کمرہ عدالت میں کھڑا ہے، اس سے پوچھیں کہ کیا وارنٹ جاری ہوئے ہیں، یوٹیوبر نے کمرہ عدالت میں عظمیٰ بخاری سے معافی مانگ لی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ ایک عورت کی عزت کا معاملہ ہے، یہ کوئی عام سول کیس نہیں تھا، میری ایک فیک ویڈیو بنا کر وائرل کی گئی، میں کس کرب سے گزری ہوں، آپ سوچ بھی نہیں سکتے، میری استدعا تھی کہ مجھے ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے دیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اگر ایسے چلنا ہے تو پھر عدالتوں کو بند کر دینا چاہیے۔ مجھے سکیورٹی خدشات ہیں، اس لیے کہا تھا کہ مجھے ویڈیو لنک پر لے لیں۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم ووٹو نے ریمارکس دیے کہ ہمارے لیے عورت کا بہت احترام ہے، ہمارے فیصلے بتاتے ہیں کہ ہم ایسے کیسز سے کیسے ڈیل کرتے ہیں، تاخیر عدالت کی وجہ سے نہیں ہے، آپ کے ایسوسی ایٹس آ کر تاریخ لیتے رہے، تنقید ہم نے برداشت کی۔
عدالتی حکم پر ملزمہ فلک جاوید کو عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد عظمیٰ بخاری نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
بیان میں انہوں نے کہا کہ 24 اور 25 جولائی 2025 کی درمیانی رات اپنے کمرے میں سوشل میڈیا دیکھ رہی تھی، نظر سے کچھ ویڈیوز گزریں جنہیں میرے نام سے لیبل کیا جا رہا تھا۔ ویڈیو کا کیپشن یہ تھا کہ میری کوئی ویڈیو لیک ہوئی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے بیان میں کہا کہ فلک جاوید نے ٹوئٹ میں وہ ویڈیو لگائی تھی، جس کے بعد وہ پورے سوشل میڈیا پر تھی۔
بیان کے دوران ملزمہ کے وکیل کے اعتراض پر عظمیٰ بخاری اور ملزمہ فلک جاوید کے درمیان کمرہ عدالت میں شدید تلخ کلامی ہوئی۔
عظمیٰ بخاری نے فلک جاوید سے کہا کہ تم جھوٹی عورت ہو، کچھ تو شرم کر لو، جس پر فلک جاوید نے جواب دیا کہ ثبوت تمہارے پاس ہے کوئی نہیں، مجھے ایک سال سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔
جج نعیم وٹو نے ریمارکس دیئے کہ میری عدالت میں اونچا بولنے کا اختیار صرف مجھے ہے، بالکل پسند نہیں کہ کسی کی آواز مجھ سے اونچی ہو، عدالت نے ملزمہ فلک جاوید اور عظمیٰ بخاری کو خاموش کرا دیا۔
عظمیٰ بخاری کا بیان مکمل ہونے پر ملزمہ کے وکیل علی اشفاق نے کہا کہ مجھے جرح کے لیے کم از کم چھ گھنٹے درکار ہوں گے۔
عدالت میں وکیل نے کہا کہ آج آپ نے عدالتی وقفے میں کیس کی کارروائی چلا کر بتایا ہے کہ یہ غیر معمولی کیس ہے، ایک سال سے کیس تاخیر کا شکار ہے۔
عظمیٰ بخاری کے وکیل نے کہا کہ ہماری طرف سے کبھی تاخیری حربے نہیں ہوئے، ہم تو شروع دن سے کہہ رہے ہیں کہ ویڈیو لنک پر بیان کر لیں۔
جج نعیم وٹو نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس میں کوئی سپیشل ٹریٹمنٹ نہیں کیا، اگر کوئی عدالت آ کر کہتا ہے کہ کیس ایک بجے رکھ لیں تو میں انکار نہیں کرتا۔
عظمیٰ بخاری نے جواب دیا کہ سپیشل ٹریٹمنٹ ملزمہ کو مل رہا ہے، ملزمہ عدالت آ کر بیٹھی رہتی ہے، جیل سے تیار ہو کر آتی ہیں۔
عدالت نے عظمیٰ بخاری کے بیان پر جرح کے لیے 12 ستمبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کردی۔
این سی سی آئی اے نے فیک ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے میں فلک جاوید سمیت دیگر ملزمان کے خلاف چالان پیش کر رکھا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments