بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اتھارٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ

بلوچستان: (دنیا نیوز) بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے زیر صدارت بورڈ کا 10واں اجلاس ہوا جس میں بیرون ملک بھیجے گئے نوجوانوں کے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور سست روی دکھانے والی فرمز کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہر نوجوان کو سرکاری ملازمت دینا ممکن نہیں، اس لیے صوبے میں فنی تعلیم و ہنرمندی کی ترقی کو ترجیح دی جائے گی تاکہ نوجوان خودمختار بن سکیں اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشنل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے 10ویں بورڈ اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں ادارہ جاتی اصلاحات، کارکردگی میں بہتری، مالی نظم و ضبط اور سالانہ مالی امور سے متعلق اہم ایجنڈا نکات پر غور کیا گیا اور ان کی منظوری دے دی گئی۔

سرفراز بگٹی نے اتھارٹی کو فعال، مؤثر اور دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی اور کہا کہ صوبے کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مکمل مارکیٹ بیسڈ ٹریننگ پروگرامز متعارف کرائے جائیں۔

انہوں نے زور دیا کہ جاری پروگرامز میں جدت لائی جائے تاکہ نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تکنیکی تربیت کے ساتھ ساتھ روزگار کے بہتر مواقع بھی فراہم ہو سکیں، انہوں نے ماہرین کی مشاورت سے فنی تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے ایک جامع اور قابل عمل پلان تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے فنی تربیت کے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کر کے انہیں بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔

اجلاس میں اوورسیز یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام کا جائزہ لیا گیا، وزیر اعلیٰ نے پروگرام میں سست روی دکھانے والی کمپنیوں (فرمز) کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دے دیا، انہوں نے بیرون ملک بھیجے گئے بعض نوجوانوں کو درپیش مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں