سوشل میڈیا پر اوکاڑہ اور ساہیوال کی مزاحیہ جنگ: ’ٹرمپ نے ہاتھ کھڑے کر دیئے‘

لاہور: (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا پر ان دنوں اوکاڑہ اور ساہیوال کے درمیان ایک دلچسپ اور مزاحیہ جنگ موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے، اگرچہ یہ کوئی حقیقی تنازع نہیں بلکہ میمز اور طنزیہ پوسٹس پر مشتمل ایک آن لائن مقابلہ ہے، تاہم اس نے صارفین کی بھرپور توجہ حاصل کر لی ہے۔

اس فرضی جنگ میں دونوں شہروں کے سوشل میڈیا صارفین ایک دوسرے پر طنز و مزاح کے حملے کر رہے ہیں، میمز میں جنگی طیاروں، میزائلوں اور فوجی کارروائیوں کے فرضی مناظر دکھا کر صورتحال کو مزاحیہ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکپتن، ملتان، فیصل آباد اور کراچی جیسے دیگر شہروں کو بھی اس تخیلاتی تنازع کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق اس رجحان کا آغاز ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ سے ہوا، جہاں اوکاڑہ سے متعلق مزاحیہ ویڈیوز اور پوسٹس شیئر کی جاتی تھیں، چار جون کو پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو، جس میں فرضی طور پر اوکاڑہ کی جانب سے ساہیوال پر حملہ دکھایا گیا، اس آن لائن مقابلے کی بنیاد بنی، اس کے بعد مختلف صارفین نے تخلیقی میمز اور طنزیہ تبصروں کے ذریعے اس موضوع کو مزید مقبول بنا دیا۔

اس اکاؤنٹ سے پوسٹ کی جانے والی تمام پوسٹیں ہی مزاحیہ نوعیت کی ہیں اور سبھی میں شہر کے حوالے سے ہنسی مذاق کیا گیا ہے، کسی ویڈیو میں ایک دیسی ساختہ ہوائی جہاز اڑان بھرنے سے پہلے ہی گر جاتا ہے اور نیچے درج ہے کہ اوکاڑہ کی فضائی فوج میں چھٹی جنریشن کا خفیہ جنگی طیارہ شامل کر لیا گیا، کسی ویڈیو میں موبائل فون پکڑے بلی کی ویڈیو پر درج ہے، اوکاڑہ کی خصوصی افواج کو تربیت دی جا رہی ہے۔

کئی پوسٹس میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز استعمال کی گئیں، جن میں میزائل حملے، جنگی طیارے اور فوجی نقل و حرکت جیسے مناظر دکھائے گئے، بعض صارفین نے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی اور جنگ بندی کے دعوے بھی مزاحیہ انداز میں شامل کر دیے۔

فیصل آباد کو ثالث، پتوکی کو حساس علاقہ اور کراچی کو فوجی کمک کا مرکز قرار دینے والی پوسٹس بھی وائرل ہوئیں، اسی طرح ساہیوال نسل کی مشہور گائے کو بھی میمز کا حصہ بنایا گیا اور اسے جاسوس قرار دے کر طنزیہ مواد تخلیق کیا گیا۔

ایک صارف نے لکھا ہے کہ فیصل آباد نے اوکاڑہ اور ساہیوال سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے، فیصل آباد نے ثالثی کی پیشکش کی ہے، اور اگرچہ وہ اس وقت واحد ثالث کے طور پر فعال کردار ادا کر رہا ہے، اس نے خبردار کیا ہے کہ پتوکی پر کسی بھی حملے کو فیصل آباد پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

ایک خودساختہ ماہر دفاعی امور کا کہنا ہے کہ چین نے ساہیوال کے خلاف استعمال کرنے کے لیے اوکاڑہ کو چھ جے 35 لڑاکا طیارے فراہم کر دیے ہیں جبکہ ایک اور صارف نے بتایا کہ یہ تمام طیارے تو چین نے ساہیوال کو دے دیے ہیں۔

ایک صارف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزاحیہ پوسٹ کی کہ میں نے زندگی میں آٹھ جنگیں رکوائی ہیں جن میں سب سے مشکل جنگ ساہیوال اور اوکاڑہ کی تھی۔

سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے اس صورتحال کو تفریح کا ذریعہ قرار دیا، جبکہ کچھ افراد نے مزاحاً یہ سوال بھی اٹھایا کہ جن کا تعلق دونوں شہروں سے ہے وہ اس جنگ میں کس فریق کا ساتھ دیں۔

اس جنگ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اسلحے کے اندھا دھند استعمال کے باوجود تخلیق اور تخیل کے ذخائر میں کوئی کمی نہیں آ رہی، تاہم ڈیٹا پیکج کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں