مقبوضہ کشمیر میں شہید خامنہ ای کیلئے تعزیتی جلوس نکالنے پر درجنوں کشمیری گرفتار
سرینگر: (ویب ڈیسک) کشمیر پر قابض بھارت نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگاتے ہوئے درجنوں کشمیریوں کو گرفتار کر لیا اور سوشل میڈیا کاؤنٹس بھی معطل کر دیئے۔
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ کی آخری رسومات کے موقع پر بھارت کے زیرِقبضہ کشمیر میں سرینگر اور دیگر اضلاع میں امریکہ مخالف مظاہرے کیے گئے جن کے بعد مقامی حکومت نے سکیورٹی پابندیاں نافذ کیں اور احتجاجی مظاہروں کی اجازت نہیں دی گئی۔
مقبوضہ کشمیر کئی علاقوں میں لوگوں نے پابندیوں کے باوجود مظاہرے کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے وحشیانہ طاقت کا استعمال کرکے انہیں منتشر کیا
بھارتی پولیس نے اعلان کیا کہ سکیورٹی پابندیاں جاری رہیں گی، حکام نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کا عمل سات مارچ تک معطل رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
مظاہروں کو روکنے کے لیے کئی علاقوں میں پولیس نے چھاپوں کے دوران درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ہے، رکن اسمبلی تنویر صادق نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ان میں بڑی تعداد نابالغ لڑکوں کی ہے اور ان کے والدین ذہنی تناؤ کا شکار ہوگئے ہیں۔
دریں اثنا پولیس نے رکن پارلیمان آغا رُوح اللہ اور سابق میئر جُنید عظیم متو کے خلاف تشدد پر اکسانے اور امن عامہ میں رخنہ ڈالنے کا مقدمہ درج کرلیا ہے، ان رہنماؤں نے مظاہروں اور تازہ جھڑپوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں۔
رُوح اللہ اور جنید متو نے الگ الگ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حفاظت پر تعینات سکیورٹی عملے کو ہٹا دیا گیا ہے، یہ ان کی جانب سے علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مودی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھانے کا نتیجہ ہے۔
ایکس پر آغا رُوح اللہ نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ جموں کشمیر پولیس اور سِول انتظامیہ میں کچھ بے وقوف لوگ سمجھتے ہیں کہ سکیورٹی ہٹانے اور میرے فیس بُک اکاونٹ کو معطل کرنے سے وہ مجھے اُن کے مظالم کی مذمت کرنے سے روک سکتے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں دو روز کے دوران مظاہروں کے بارے میں خبریں شائع کرنے پر حکام نے معروف انگریزی اخبارات گریٹر کشمیر، کشمیر لائف اور رائزنگ کشمیر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی معطل کروایا ہے۔
کشمیر لائف نے ایک بیان میں فیس بک سمیت کئی پلیٹ فارمز کی ملکیت رکھنے والی کمپنی میٹا کے مختصر بیان کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ان ہینڈلرز کو انڈیا کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت معطل کیا گیا ہے۔
ان پابندیوں کو مختلف سیاسی حلقوں نے اظہار رائے کی آئینی آزادی پر قدغن قرار دیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments