گاڑی واپس نہ کرنے کے مقدمے میں ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے شادی کی تقریب گاڑی لیکر واپس نہ کرنے کے الزام میں درج مقدمے میں ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایک بار مجاز عدالت سے ضمانت منظور ہوجائے تو اسے منسوخ کرنے کے لیے مضبوط اور غیر معمولی وجوہات کا ہونا ضروری ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ضمانت منسوخی کے مرحلے پر عدالت اس وقت مداخلت کرسکتی ہے جب ضمانت دینے کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی، واضح طور پر غلط یا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہو، یا ملزم نے ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کیا ہو۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد پرویز نے شہری مسعود اسلم کی جانب سے دائر فوجداری متفرق درخواست پر4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، درخواست گزار نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(5) کے تحت ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی، عدالتی فیصلے کے مطابق معاملہ تھانہ مزنگ لاہور سے متعلق تھا، جو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 406 کے تحت درج کی گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے درخواست گزار سے گاڑی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے 28 نومبر 2025 کو دس روز کے لیے حاصل کی، تاہم بعد ازاں گاڑی واپس نہ کی، ملزم ابتدا میں مختلف حیلے بہانے کرتا رہا اور بالآخر گاڑی واپس کرنے سے انکار کردیا، ملزم کو ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے 30 جون 2026 کو قبل از گرفتاری ضمانت دے دی تھی، جس کے خلاف درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

جسٹس امجد پرویز نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے 28 نومبر 2025 کو گاڑی دینے کے بعد فوری طور پر ایف آئی آر درج نہیں کروائی بلکہ تقریباً چھ ماہ سے زائد عرصے بعد مئی 2026 میں مقدمہ درج ہوا، مزید یہ کہ ایف آئی آر سول مقدمے میں 11 مئی 2026 کو درخواست گزار کی جانب سے تحریری جواب جمع کرانے کے بعد درج ہوئی۔

ماتحت عدالت نے اس تاخیر کو اس امر کے تناظر میں دیکھا کہ ایف آئی آر قانونی مشاورت اور غور و خوض کے بعد درج کروائی گئی، جس سے درخواست گزار کے مقدمے میں شک پیدا ہوتا ہے اور ضمانت کے مرحلے پر ملزم کو اس شک کا فائدہ دیا جاسکتا ہے۔

ماتحت عدالت نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ سول مقدمے کے ردعمل میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہو اور درخواست گزار کی جانب سے بدنیتی یا کسی پوشیدہ مقصد کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

جسٹس محمد امجد پرویز نے فیصلے میں واضح کیا کہ ضمانت منظور کرنے اور منظور شدہ ضمانت منسوخ کرنے کے اصول ایک جیسے نہیں ہیں، ایک مرتبہ مجاز عدالت کسی ملزم کو ضمانت دے دے تو اس ضمانت کو منسوخ کرنے کے لیے مضبوط اور غیر معمولی بنیاد درکار ہوتی ہے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ دفعہ 497(5) ضابطہ فوجداری کے تحت ضمانت منسوخ کرنے کی صورتیں یہ ہیں کہ ضمانت دینے والا حکم بادی النظر میں غیر قانونی، واضح طور پر غلط یا حقائق کے منافی ہو اور اس کے نتیجے میں انصاف کا نقصان ہوا ہو، ملزم نے ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کیا ہو، ملزم نے استغاثہ کے گواہوں پر دباؤ ڈالنے یا انہیں متاثر کرنے کی کوشش کی ہو، ملزم کے عدالت کے دائرہ اختیار سے فرار ہونے کا خدشہ ہو، ملزم نے تفتیش میں مداخلت کی کوشش کی ہو، ضمانت کے دوران اسی نوعیت کے جرم میں ملوث ہوا ہو یا تفتیش کے دوران ایسا نیا مواد سامنے آیا ہو جو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کو ظاہر کرتا ہو۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید قرار دیا کہ ضمانت منسوخی کے لیے عدالت اس وقت مداخلت کرے گی جب ضمانت کا حکم بادی النظر میں ٹیڑھا، ناقابل دفاع یا قانونی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے جاری کیا گیا ہو۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار کے وکیل نے تفصیلی دلائل دیے تاہم وہ یہ ثابت نہیں کرسکے کہ ضمانت منسوخی کے لیے مقررہ قانونی بنیادوں میں سے کوئی بنیاد اس مقدمے میں موجود ہے، عدالت نے قرار دیا کہ ایڈیشنل سیشن جج کا ضمانت دینے کا حکم نہ تو بادی النظر میں غلط ہے، نہ حقائق کے منافی اور نہ ہی کسی طے شدہ قانونی اصول سے انحراف پر مبنی ہے، عدالت نے درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ابتدائی مرحلے ہی پر مسترد کردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...