شاہ غلام قادر وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئے مسلم لیگ ن کے امیدوار نامزد

مظفرآباد (محمد اسلم میر) تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط پارلیمانی و انتخابی سیاست کا تجربہ رکھنے والے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کو وزیراعظم آزاد کشمیر کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے رائے ونڈ میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی شریک تھے، تفصیلی مشاورت کے بعد شاہ غلام قادر کو آزاد کشمیر کا نیا وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

شاہ غلام قادر جمعرات کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد ایوان منتخب ہوں گے، جس کے بعد اسی روز 27 اگست کو شام 5 بجے ہائی کورٹ گراؤنڈ میں نومنتخب وزیراعظم کی تقریب حلف برداری منعقد ہوگی۔

شاہ غلام قادر کا شمار آزاد کشمیر کے انتہائی تجربہ کار اور منجھے ہوئے پارلیمانی رہنماؤں میں ہوتا ہے، وہ سات مرتبہ آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں جبکہ 2006 اور 2016 میں دو مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر بھی منتخب ہوئے۔

اس کے علاوہ وہ وزیر خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی، خوراک اور اطلاعات سمیت مختلف اہم وزارتوں کے قلمدان بھی سنبھال چکے ہیں۔

شاہ غلام قادر نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز مسلم کانفرنس سے کیا اور بعد ازاں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے بانی رہنماؤں میں شامل رہے، پارٹی کی تنظیم نو، سیاسی رابطوں اور آئندہ انتخابی تیاریوں میں بھی ان کا اہم کردار رہا ہے۔

پارلیمانی سیاست کے ساتھ ساتھ شاہ غلام قادر نے عالمی سطح پر بھی مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کیا، انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، انسانی حقوق کونسل اور دیگر عالمی فورمز پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے آواز بلند کی، وادی کشمیر کے مہاجرینِ مقیم پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بھی وہ کشمیر کاز کے حوالے سے سرگرم رہے ہیں۔

شاہ غلام قادر کا سیاسی فلسفہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق، آئینی جمہوریت، پارلیمانی بالادستی اور ادارہ جاتی استحکام کے اصولوں پر مبنی قرار دیا جاتا ہے۔

آزاد کشمیر کی سیاست میں کل جماعتی حریت کانفرنس سمیت مختلف سیاسی حلقوں سے روابط اور کشمیری زبان پر عبور کے باعث بھی انہیں نمایاں سیاسی مقام حاصل ہے۔

سات مرتبہ انتخابی کامیابی، متعدد اہم وزارتوں اور دو مرتبہ اسپیکر کے منصب کا تجربہ رکھنے والے شاہ غلام قادر کی بطور وزیراعظم نامزدگی کو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایک تجربہ کار پارلیمنٹیرین کو حکومت کی قیادت سونپنے کے فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید برآں سیاسی حلقوں کی طرف سے اسلام آباد کے ساتھ مضبوط روابط اور طویل پارلیمانی تجربہ نئی حکومت کے لیے اہم سیاسی عنصر ثابت ہو سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...