لاہور ہائیکورٹ نے کمسن بچے کی عبوری حوالگی پرعائد پابندیاں کالعدم قرار دے دیں

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے کمسن بچے کی عبوری حوالگی کے معاملے میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ کی جانب سے عائد سات لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اور بچے کو عدالت کی علاقائی حدود سے باہر لے جانے پر پابندی کی شرائط کالعدم قرار دے دی ہیں۔

جسٹس اسد علی باجوہ نے مسز مصباح بی بی کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار نے ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ کے 10 اگست 2026 کے حکم کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت تقریباً ایک سالہ کمسن بچے کی تحویل درخواست گزار کو دیتے ہوئے سات لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے اور ہنگامی طبی ضرورت کے علاوہ بچے کو عدالت کی علاقائی حدود سے باہر نہ لے جانے کی شرط عائد کی گئی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں شرائط قانونی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہیں، کیونکہ سیکشن 491 ضابطہ فوجداری کے تحت عدالت کا اختیار محدود نوعیت کا ہے۔

دوسری جانب مخالف فریق کے وکیل نے شرائط کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے عائد دونوں شرائط قانونی اور سیکشن 491 کے دائرہ اختیار میں ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ سیکشن 491 ضابطہ فوجداری کے تحت عدالت کا اختیار غیر معمولی اور ہنگامی نوعیت کا ہے، جس کا بنیادی مقصد عبوری طور پر کمسن بچے کی تحویل کا انتظام کرنا ہے، جبکہ مستقل تحویل کا فیصلہ گارڈین کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ جب کمسن بچے کی تحویل اس کی حقیقی والدہ کے حوالے کردی گئی تو اس پر سات لاکھ روپے کی ضمانت اور بچے کو عدالت کی علاقائی حدود سے باہر لے جانے کی پابندی عائد کرنا سیکشن 491 کے محدود دائرہ اختیار سے تجاوز تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سیکشن 491 کو والدہ کی آزادی اور نقل و حرکت پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اگر مخالف فریق کو خدشہ ہے کہ بچے کو گارڈین جج کے دائرہ اختیار سے باہر لے جایا جاسکتا ہے تو وہ متعلقہ گارڈین کورٹ سے مناسب قانونی ریلیف حاصل کرسکتا ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ کسی ممکنہ خدشے کی بنیاد پر والدہ اور بچے کی آزادی پر غیر معینہ یا مستقل پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔ ایسی پابندی عارضی، متناسب اور اسی مقصد تک محدود ہونی چاہیے جس کے لیے اسے عائد کیا گیا ہو۔

لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ سیکشن 491 کا بنیادی مقصد غیر قانونی حراست سے آزادی اور ہنگامی یا عارضی انتظام کے ذریعے کمسن بچے کو اس والدین کے حوالے کرنا ہے جس سے اسے غیر قانونی طور پر محروم کیا گیا ہو۔ یہ قانون گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے تحت موجود طریقہ کار کا متبادل نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ گارڈین کورٹ ہی بچے کی عبوری و مستقل تحویل اور سرپرستی سے متعلق معاملات طے کرنے کا مجاز فورم ہے، جبکہ سیکشن 491 کے تحت کارروائی کرنے والی عدالت ایسی شرائط عائد نہیں کرسکتی جو گارڈین کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت کا باعث بنیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...