اسحاق ڈار کا فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد سیاسی عمل پر زور

نیویارک: (دنیا نیوز) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ مسلم امہ کے اجتماعی شعور میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کی روزانہ خلاف ورزی کر رہا ہے۔

او آئی سی کی فلسطین کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ 6 رکنی کمیٹی پر فلسطینی عوام کے لیے سیاسی و سفارتی حمایت متحرک کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور غزہ کی صورتحال پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی غزہ تنازع کے خاتمے کیلئے کوششوں کو سراہتے ہیں، پاکستان مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسحاق ڈار کی نیویارک میں اہم ملاقاتیں، اسلام آباد یادداشت پر عمل درآمد پر زور

انہوں نے کہا کہ غزہ امن منصوبے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مکمل نفاذ کے حامی ہیں، غزہ کی تعمیر نو اور حکومتی انتظامات فلسطینی قیادت کے پاس ہونے چاہئیں، بین الاقوامی اور انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر احتساب کی حمایت کرتے ہیں، فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد سیاسی عمل ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ سفارتی کوششوں نے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کا ایک موقع پیدا کیا ہے، تاہم اب بھی سنگین چیلنجز موجود ہیں، انسانی صورتحال بدستور تشویشناک ہے جبکہ سکیورٹی کا ماحول انتہائی غیر مستحکم ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، میں اسرائیل کی غیر قانونی آباد کاری، آباد کاروں کے تشدد، الحاق کی پالیسیوں اور دیگر اقدامات سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی سالمیت اور تسلسل کو خطرات لاحق ہیں اور یہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کی بار بار دراندازی اور دیگر کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو بین الاقوامی کوششوں کے فروغ کے لیے کام جاری رکھنا چاہئے تاکہ ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کے ذریعے ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آ سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...