سندھ میں تعلیم کا بجٹ 601 ارب روپے، صورتحال تسلی بخش نہیں: حافظ نعیم الرحمان

کراچی: (دنیا نیوز) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ سندھ میں تعلیم کے لیے 601 ارب روپے کا بجٹ مختص ہونے کے باوجود تعلیمی صورتحال تسلی بخش نہیں۔

شہرِ قائد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ سرکاری سکولوں کی صورتحال پر سوالات اٹھ رہے ہیں، سندھ کے ایک سکول میں 49 اساتذہ اور صرف 23 طلبہ موجود ہیں جب کہ سفید پوش طبقہ اپنے بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے پریشان ہے۔

انہوں  نے کہا کہ شہریوں کا معیاری تعلیم حاصل کرنا ان کا حق ہے، تاہم سندھ حکومت نے سرکاری سکول اپنے قبضے میں لے رکھے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے 100 سے زائد سکولوں میں ترقیاتی کام کروائے ہیں، جماعت اسلامی کی کوشش ہے کہ جن ٹاؤنز میں اس کی نمائندگی ہے وہاں ترقیاتی کام کیے جائیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے بچوں کے لیے بنو قابل پروگرام شروع کیا ہے، جس میں اب تک 16 لاکھ افراد رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی ہی وہ سیاسی جماعت ہے جو کراچی کو اپنا شہر سمجھتی ہے اور اس کے مسائل کی بات کرتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کراچی کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنا ووٹ تقسیم نہ کریں، شہریوں کو دو کام کرنے ہیں، پہلا بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنا اور دوسرا اپنے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...