اسرائیل نے لبنان کے شہریوں پر ممنوعہ سفید فاسفورس کا استعمال کیا: ہیومن رائٹس واچ

لندن : (دنیا نیوز) یومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل نے رواں ماہ جنوبی لبنان کے رہائشی علاقوں میں سفید فاسفورس استعمال کیا، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سات تصاویر کی تصدیق کی گئی ہے جن میں یُحمور کے رہائشی قصبے پر سفید فاسفورس گولہ باری اور کم از کم دو گھروں میں آگ لگنے کے واقعات دکھائے گئے ہیں، یہ واقعہ تین مارچ کو پیش آیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے محقق رمزی کیس نے کہا کہ رہائشی علاقوں پر اسرائیلی فوج کا سفید فاسفورس استعمال غیر قانونی اور نہایت تشویشناک ہے، جس کے شہریوں پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سفید فاسفورس کے جلانے والے اثرات موت یا ایسے شدید زخم پیدا کر سکتے ہیں جو عمر بھر کی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔

ایچ آر ڈبلیو نے سات تصاویر کی تصدیق اور جغرافیائی محلِ وقوع کی نشاندہی کی ہے جن میں فضائی دھماکے کے ذریعے سفید فاسفورس دکھائی دیتا ہے، اور شہری دفاع کے کارکن گھروں اور ایک گاڑی میں لگی آگ بجھا رہے ہیں۔

سفید فاسفورس آکسیجن کے سامنے آتے ہی جل اٹھتا ہے، اور گھروں، کھیتوں اور شہری تنصیبات کو آگ لگا سکتا ہے، بین الاقوامی قانون کے مطابق آبادی والے علاقوں میں فضائی دھماکے کے ذریعے سفید فاسفورس کا استعمال اندھا دھند اور غیر قانونی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں