ایران کی امریکی اڈوں پر حملوں کی 50ویں لہر: جنگ میں اب تک 1450 ایرانی شہید، 14 اسرائیلی ہلاک
تہران: (دنیا نیوز) ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز نے اعلان کیا ہے کہ اس نے خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف حملوں کی 50ویں لہر شروع کر دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس کارروائی میں متحدہ عرب امارات کے اڈے فجیرہ اور الدفرا، بحرین کے جفاریہ اور پانچویں بحری بیڑے، کویت کے علی سلیم اور اردن کے الازرق اڈے شامل ہیں جن پر میزائل داغے گئے ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کارروائی میں خطے میں موجود ان ریڈار سسٹمز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جنہوں نے اسرائیل کیلئے حفاظتی کردار ادا کیا۔
ڈرون حملے سے ایئرپورٹ کے ریڈار نظام کو نقصان پہنچا ہے، کویتی حکام
کویت کی حکومت کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون حملے کے باعث اس کے ایئرپورٹ کے ریڈار نظام کو نقصان پہنچا ہے، کویت نے خطے میں جاری جنگ کے باعث تمام پروازیں معطل کرنے کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔
اس سے قبل کویت کے وزارتِ دفاع نے اپنے ایئربیس پر ڈرونز حملوں اور اس کے نتیجے میں 3 فوجی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔
6 بیلسٹک میزائلز کو بروقت ناکارہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، سعودی حکام
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ مملکت کے الخرج گورنرریٹ کی طرف داغے جانے والے 6 بیلسٹک میزائلز کو بروقت ناکارہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔
پاسداران انقلاب کی امریکا کو صنعتی کاروبار مشرق وسطیٰ سے منتقل کرنے کی دھمکی
ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنا صنعتی کاروبار مشرق وسطیٰ سے منتقل کرے اور لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ان فیکٹریوں سے دور رہیں جن میں امریکی کمپنیوں کے حصص ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ انتباہ اس کے بعد آیا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران حملوں میں ایران کی غیر فوجی فیکٹریوں میں کئی سویلین کارکن جاں بحق ہو چکے ہیں۔
لبنان پر اسرائیلی حملے میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، جان سے جانے والوں میں ماں، باپ اور ان کے 2 بچے شامل ہیں۔
ایران کا آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے محدود رسائی دینے پر غور
ایرانی عہدیدار نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ایران محدود تعداد میں آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے، بشرطیکہ تیل کے کارگو کی تجارت چینی یوآن میں ہو، جبکہ عالمی منڈی میں تیل تقریباً مکمل طور پر ڈالر میں خریدا جاتا ہے۔