ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں، متعدد ادارے اور مبینہ فرنٹ کمپنیاں بلیک لسٹ
واشنگٹن: (دنیا نیوز) ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی مالیاتی نیٹ ورک، زرِ مبادلہ اداروں، مبینہ فرنٹ کمپنیوں اور متعدد بین الاقوامی کاروباری اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے منی ایکسچینج کمپنیوں سمیت کئی اداروں کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے ایران کے مالیاتی نظام پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایرانی کمپنیاں عالمی مالیاتی نظام کے ذریعے پابندیوں سے بچنے اور مالی لین دین جاری رکھنے میں ملوث رہی ہیں، اسی تناظر میں متحدہ عرب امارات، ترکیے، چین اور ہانگ کانگ سے منسلک متعدد کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے 19 بحری جہازوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بارباڈوس، پاناما اور پلاؤ کے جھنڈوں کے تحت چلنے والے بعض بحری جہاز بھی اس کارروائی کی زد میں آئے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے الزام عائد کیا کہ ایران کا مبینہ "شیڈو بینکنگ سسٹم" دہشت گردی کی مالی معاونت میں استعمال ہو رہا ہے، ان کے مطابق بعض کمپنیاں ایرانی بینکوں کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کے لین دین میں سہولت فراہم کر رہی تھیں، اسی وجہ سے ان کے خلاف پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نئی امریکی پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں سیاسی و عسکری کشیدگی برقرار ہے، اور ان اقدامات سے ایران کے مالیاتی و تجارتی شعبے پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔