ایرانی یورینیم کی روس منتقلی سے متعلق کوئی پلان زیرغور نہیں: جے ڈی وینس

واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی یورینیم کی روس منتقلی سے متعلق کوئی پلان زیرغور نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نےکہا ہے کہ امریکا مختلف محکموں میں فراڈ سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے، جبکہ ایران کے معاملے پر بھی اہم سفارتی پیش رفت جاری ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح پالیسی ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کے معاملے پر کافی پیش رفت کی ہے اور صدر ٹرمپ جنگ دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہتے، تاہم ضرورت پڑنے پر فوجی مہم دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے انہیں ایران کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھانے کی ہدایت دی تھی۔

امریکی نائب صدر نے انکشاف کیا کہ وہ پاکستان گئے تھے جہاں ایران کے حوالے سے 21 گھنٹے طویل مذاکرات کیے گئے، انہوں نے کہا کہ امریکا کی نیت واضح تھی اور اسی وجہ سے اتنے طویل سفارتی مذاکرات کیے گئے۔

جے ڈی وینس کے مطابق ایرانی حکام بھی معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم جب تک کسی معاہدے پر باضابطہ دستخط نہیں ہو جاتے، حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ایران ایٹمی پروگرام کو مزید آگے بڑھائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک چاہتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرے کیونکہ اگر ایران کے پاس ایسے ہتھیار آئے تو خطے کے دیگر ممالک بھی اسی راستے پر چل سکتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں