روس نے کیف میں فوجی اہداف پر بڑے اور منظم حملوں کا اعلان کر دیا
ماسکو: (شاہد گھمن سے) روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ لوگانسک پیپلز ریپبلک کے شہر سٹاروبیلسک میں کالج اور ہاسٹل پر یوکرینی حملہ آخری حد ہے، جس کے بعد روسی افواج نے کیف میں فوجی اور دفاعی صنعتوں کے مراکز پر منظم حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی جانب سے روسی شہری تنصیبات پر مسلسل حملوں اور سٹاروبیلسک واقعے کے بعد روسی فوج اب کیف میں فوجی صنعتی کمپلیکس، ڈرون تیاری مراکز، پروگرامنگ اور کنٹرول سسٹمز کو نشانہ بنا رہی ہے۔
بیان کے مطابق ان کارروائیوں میں ان مراکز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں نیٹو ماہرین کی مدد سے یوکرینی ڈرونز کی تیاری، رہنمائی اور انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ روسی حملے صرف صنعتی مراکز تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ فیصلہ سازی کے مراکز اور فوجی کمانڈ پوسٹس بھی ہدف بنائی جائیں گی۔
روس کی جانب سے کیف میں موجود غیر ملکی سفارتی عملے، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں اور غیر ملکی شہریوں کو جلد از جلد شہر چھوڑنے کا انتباہ بھی جاری کیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ کیف کے شہری بھی یوکرینی حکومت کی فوجی اور انتظامی تنصیبات کے قریب جانے سے گریز کریں۔
روسی وزارت خارجہ نے سٹاروبیلسک حملے کو کیف حکومت کی نازی اور دہشتگرد نوعیت کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یوکرینی افواج جان بوجھ کر شہری تنصیبات اور بچوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی بین الاقوامی انسانی قوانین، جنیوا کنونشنز اور بچوں کے حقوق سے متعلق عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ روسی حکام کے مطابق 22 مئی کو لوگانسک پیپلز ریپبلک کے شہر سٹاروبیلسک میں کالج اور ہاسٹل پر یوکرینی ڈرون حملے میں 21 افراد ہلاک جبکہ 42 زخمی ہوئے تھے۔