ایران، امریکہ کے سخت گیر حلقوں کے مطالبات مفاہمت کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئے
واشنگٹن: (دنیا نیوز) ایرانی قیادت نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا تاہم دونوں جانب موجود سخت گیر حلقے ایسے مطالبات پیش کر رہے ہیں جن کے باعث کسی مفاہمت تک پہنچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز کو 3 ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود واشنگٹن اور تہران ابھی تک آبنائے ہرمز کے ذریعے بین الاقوامی بحری آمد و رفت کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے۔
ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی اختلافات کا ایک اہم سبب بنی ہوئی ہے۔
یہ بھی واضح نہیں کہ دونوں ممالک ایران کی یورینیم افزودگی، زیرِ زمین ذخیرہ شدہ انتہائی افزودہ یورینیم اور ایران پر عائد امریکی و اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات پر کسی طویل المدتی معاہدے تک پہنچ سکیں گے یا نہیں۔
ایرانی قیادت کے اعلیٰ عسکری، مذہبی اور سیاسی رہنما مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ کے حوالے سے گہری بد اعتمادی کے باوجود ’ہتھیار ڈالنے یا پسپائی اختیار کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، اسلامی انقلابی گارڈز کے مختلف کمانڈروں نے امریکہ کو بڑی رعایتیں دینے کی مخالفت کی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سفارتی حل کے حامی قرار دیے جاتے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ایسا مذاکراتی معاہدہ ممکن ہے جو ایران کے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے کشیدگی کا خاتمہ کر سکے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی اور آئی آر جی سی سے منسلک ذرائع ابلاغ جنگ اور مذاکرات سے متعلق سخت مؤقف کو نمایاں طور پر نشر کر رہے ہیں۔