ایران کے ساتھ معاہدہ، ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے رہنماؤں کی تنقید کا سامنا
واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ عبوری معاہدے کو ان کی اپنی جماعت ریپبلکن کے بعض رہنماؤں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق ایک ریپبلکن سینیٹر نے اس معاہدے کو کئی دہائیوں کی بدترین خارجہ پالیسی کی غلطی قرار دیا، ایک اور سینیٹر نے معاہدے کی بعض مبینہ شقوں کو غیر دانشمندانہ قرار دیا، اس کے علاوہ ریپبلکن حامی بعض مبصرین اور تجزیہ کاروں نے بھی اس معاملے پر ٹرمپ سے اختلاف کیا ہے۔
ریاست لوزیانا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر بل کیسیڈی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ایران کے جوہری عزائم کو محدود نہیں کیا گیا، اس نے یہ سیکھ لیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا اس کی دھمکی دینے کی حکمت عملی مؤثر ثابت ہوتی ہے، مستقبل میں ایران اس حربے کو یقیناً اپنے مفادات کے لیے استعمال کرے گا۔
ریاست مسی سپی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر راجر وکر نے کہا انہیں خدشہ ہے کہ مفاہمتی یادداشت امریکہ کی فوجی کامیابیوں کو ضائع کر سکتی ہے، لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں سے اسرائیل کو روکنا غلطی ہوگی۔
انہوں نے ایران پر پابندیاں نرم کرنے یا ایرانی فنڈز بحال کرنے کی بھی مخالفت کی۔