سرگئی لاوروف نے پوتن کے جزائر کوریل دورے پر جاپانی احتجاج کو ناقابل قبول قرار دے دیا
ماسکو: (شاہد گھمن) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جاپان کی جانب سے صدر ولادیمیر پوتن کے جزائر کوریل کے دورے پر کیے گئے احتجاج کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے اس معاملے پر جاپانی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا ہے۔
گھانا کے وزیر خارجہ سیموئل اوکودزیٹو ابلاکوا کے ساتھ مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہا کہ جاپانی قیادت کی جانب سے صدر پوتن کے جزیرہ ایتوروپ کے دورے پر دیے گئے بیانات قابل قبول حدود سے تجاوز کر گئے ہیں۔
لاوروف کے مطابق روسی صدر کو اپنے ملک کے کسی بھی حصے کا دورہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا، تاہم جاپانی سفارت خانے کی جانب سے بتایا گیا کہ سفیر 14 اور 17 اگست کو وزارت خارجہ نہیں آ سکتے۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ جاپانی سفیر کو وزارت خارجہ آنا ہوگا، جہاں صدر پوتن کے دورے سے متعلق جاپانی قیادت کے رویے کے ساتھ سفارتی طریقہ کار پر بھی بات کی جائے گی۔
افریقہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے الزام عائد کیا کہ بعض ممالک افریقہ میں اپنا سابق نوآبادیاتی اثر و رسوخ ختم ہونے کو قبول نہیں کر پا رہے اور خطے میں دہشت گردی کے خطرات کو ہوا دے رہے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ نے فرانس پر بھی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ فرانس صحارا اور ساحل کے خطے میں غیر قانونی مسلح گروہوں کے ساتھ کام کر رہا ہے اور انہیں اسلحہ، مالی معاونت اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔
لاوروف نے کہا کہ روس کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ ساحل ممالک کے خلاف سرگرمیوں میں یوکرینی فوجی اہلکاروں کو مبینہ طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ انفرادی دہشت گرد کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ روس اسے ساحل کے ممالک کے خلاف ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے طور پر دیکھتا ہے۔
گھانا کے شہریوں کی روس یوکرین تنازع میں شرکت کے معاملے پر لاوروف نے کہا کہ روسی وزارت دفاع کے متعلقہ ادارے گھانا کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں کا جائزہ لیں گے۔ گھانا کے وزیر خارجہ کے مطابق 62 گھانین شہری ہلاک جبکہ 15 لاپتہ ہیں۔
دونوں ممالک کے فوجی تعاون کے حوالے سے لاوروف نے کہا کہ گھانا سے روس کے ساتھ فوجی و تکنیکی تعاون کے بین الحکومتی معاہدے کی جلد توثیق کی توقع ہے، جس سے اس شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو افریقی ممالک کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضروری تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ روس مغربی افریقی ممالک کی اقتصادی تنظیم ایکواس اور ساحل کے تین ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی میں بھی تعاون کے لیے تیار ہے۔
لاوروف نے کہا کہ مغربی افریقہ میں سلامتی مضبوط بنانے کے لیے خطے کے تمام ممالک کے درمیان تعاون ضروری ہے اور روس ایکواس اور الائنس آف ساحل اسٹیٹس کے درمیان روابط بہتر بنانے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
سرگئی لاوروف نے یہ بھی بتایا کہ گھانا کے صدر جان ڈرامانی مہاما نے ماسکو میں ہونے والی تیسری روس افریقہ سربراہی کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments