امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین

بیجنگ: (ویب ڈیسک) چین کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔

واشنگٹن اس سے قبل چین سمیت مختلف حکومتوں سے ایران کی معیشت کو الگ تھلگ کرنے کی امریکی کوششوں میں شامل ہونے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پابندیاں اور دباؤ اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ اقدامات کریں اور مسئلے کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں۔

امریکا کا کہنا ہے کہ اس کی اقتصادی مہم ایرانی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی، جبکہ تہران اس دھمکی کو معاشی دہشت گردی قرار دیتا ہے اور اسے ناکامی سے دوچار سمجھتا ہے۔

جب امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا بیجنگ پر اس مہم میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالے گا، تو انہوں نے سی این بی سی کو بتایا کہ بہت سے معاملات پر بات چیت خفیہ طور پر کرنا بہتر ہوتا ہے، تاہم انہوں نے بیجنگ پر زور دیا کہ وہ اس پروگرام میں شامل ہو جائے۔

سکاٹ بیسنٹ کے بیان کے جواب میں چینی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ چین ایسی غیر قانونی یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے جن کی بنیاد بین الاقوامی قانون میں موجود نہیں اور جنھیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...