بشارالاسد دور کے خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق اہم سوالات حل ہوگئے: آئی اے ای اے
نیویارک: (دنیا نیوز) اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے کہا ہے کہ شام میں سابق صدر بشار الاسد اور ان کے خاندان کے دور میں جاری خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق تمام اہم سوالات حل ہو گئے ہیں۔
آئی اے ای اے کی خفیہ رپورٹ کے مطابق شام کی نئی حکومت نے تحقیقات کے دوران ادارے کو ضروری معلومات اور رسائی فراہم کی جس پر ایجنسی نے شامی حکام کے شفاف تعاون کو سراہا اور کہا اسے شام کے ماضی کے جوہری پروگرام اور باقی ماندہ جوہری مواد سے متعلق اپنے زیر التوا حفاظتی سوالات کے جوابات مل گئے ہیں۔
رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ 2007 میں اسرائیل نے شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں جس غیر اعلانیہ تنصیب کو بمباری کرکے تباہ کیا تھا، وہ زیر تعمیر جوہری ری ایکٹر تھا، اس سے منسلک ایک مقام پر 73 میٹرک ٹن قدرتی یورینیم دھات بھی موجود تھی جس میں تقریباً 55 ٹن ایندھن کی سلاخوں کی شکل میں تھا۔
رپورٹ کے مطابق شام اس ری ایکٹر کے لئے ایندھن تیار کر رہا تھا جبکہ سابق شامی حکام نے ان تنصیبات اور جوہری مواد کو ظاہر نہیں کیا تھا، ایران سے متعلق سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہاں اب بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
جون 2025ء میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے آئی اے ای اے کو ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی تصدیق کے لئے ضروری رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments