علامہ اقبالؒ اورعہد حاضر کا نوجوان ،اقبالؒ نوجوانوں کو احساس دلاتے ہیں کہ خودی ہی ان کا اصل سرمایہ ہے
بڑے شاعر اورمفکرکسی بھی قوم کا بہت قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔یہ وہ نابغہ روزگار لوگ ہوتے ہیں جووقت کے دھارے کارُخ موڑسکتے ہیں اورقوم کی منزل کی راہ متعین کرتے ہیں۔ اگر انسانی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو شعور و آگاہی، حساسیت اور دُوراندیشی عظیم شعراکی وہ تین خصوصیات ہیں جن کی بناپروہ دُنیامیں بڑے بڑے انقلابات کا باعث بنے ہیں۔ سر علامہ محمد اقبالؒؒ بھی ایک ایسے ہی شاعر ہیں جنہوں نے بیسویں صدی کے مسلمانان پاک وہند کی زندگیوں کو انقلاب سے رُوشناس کرایا ۔ انہوں نے اپنے منفرد فکر و فلسفہ سے اس قوم میں شعور و احساس بیدار کیا جواپنے وجودسے بے خبرخواب غفلت کے مزے لُوٹ رہی تھی۔
ہندوستان کے مسلمانوں کی سیاسی بیداری میں اقبالؒ کی شاعری کی ایک کلیدی حیثیت ہے جس سے کوئی صاحب ہوش و گوش انکارکرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔علامہ محمداقبالؒؒ کی یہی ولولہ انگیز شاعری تھی جس نے ہندوستان کے مسلمانوں میں آزادی کی چنگاری کو شعلہ جوالا کا روپ دیا۔علامہ اقبالؒؒ خود اگرچہ برصغیر میں آزادی کی صبح طلوع ہونے سے پہلے ہی داعی اجل کو لبیک کہہ چکے تھے لیکن ان کا پیام جو ان کے کلام میں موجود تھا وہ تحریک پاکستان کے راہنمائوں کیلئے بالخصوص اور ہندوستان کے عام مسلمانوں کیلئے بالعموم مشعل راہ ثابت ہوا اور ان کا خواب ایک زندہ حقیقت بن کردنیا کے سامنے آیا۔
اقبالؒؒ نے اپنامخاطب نوجوانوں کوبنایاکیوں کہ یہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جوکسی قوم کی تقدیر بناتے ہیں ۔ اقبالؒؒ نے مسلمان نوجوان کیلئے ’’شاہین‘‘ کااستعارہ استعمال کرتے ہوئے اسے اونچی اُڑان بھرنے کی تلقین کی۔ وہ شاہین جو آشیانہ پہاڑوں کی چٹانوں میں بناتا ہے اور قناعت ، خودی اور خودداری کادرس دیتا ہے، فرماتے ہیں:
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
نہیں تیرا نشیمن قصرسُلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیراکرپہاڑوں کی چٹانوں میں
………
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسما ں اوربھی ہیں
اقبالؒ نوجوانوں کوشاہین اورکرگس کافرق بتاتے ہوئے اس بات کااحسا س دلاتے ہیں کہ خودی وخودداری ہی ان کااصل سرمایہ ہے۔وہ قوم شمشیرکی حاجت مندنہیں جس کے نوجوانوں میں خودی فولادکی صورت اختیارکرلے۔جو اپنے راستے خود تلاش کریں اور اپنے لیے نئے جہان آباد کریں۔اس ضمن میں یہ اشعاردیکھیں :
پروازہے دونوں کی اسی ایک فضامیں
شاہیں کاجہاں اورہے کرگس کاجہاں اور
اس قوم کوشمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں میں خودی صورت فولاد
علامہ اقبالؒ مسلمان نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے اسے بتاتے ہیںکہ ان کی منزل آسمانوں سے بھی پرے ہے، سواونچی پرواز ان کا وتیرہ ہوناچاہیے۔نوجوانوں کو ہمیشہ اپنی سوچ کی اڑان کو بلند تر رکھنا چاہیے اوربڑی منزلوں کا تعین کرنا چاہیے اورپھر ان کے حصول کیلئے سردھڑ کی بازی لگا دینی چاہیے۔فرماتے ہیں:
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردراہ ہوں وہ کارواں توہے
دورحاضرکانوجوان متنوع جذباتی، روحانی، سماجی، معاشرتی ومعاشی مسائل کاشکارہے۔ان ہی میں سے ایک مایوسی وناامیدی ہے۔ معاشرتی رویے ورحجانات نوجوانوں کومایوس وناامید کرتے ہیں اوریہ ناامیدی انہیں بے عملی کی جانب مائل کرتی ہے۔جب وہ ایک ایسے معاشرے کی جانب نگاہ دوڑاتے ہیں جہاں’’ جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کااصول ہرشعبہ ہائے زندگی میں کار فرما ہو اور اس سبب سے رشوت ستانی، اقربا پروری، سفارش اوربے روزگاری عام رحجانات بن جائیں تو وہ اپنے مستقبل سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ایسے مشکل دورمیں علامہ محمداقبالؒ کا فکروفلسفہ ان نوجوانوں میں نئی روح دوڑانے کو موجب بن سکتا ہے۔ ایسے کڑے وقت میں اقبالؒ کاکلام نوجوانوں کو رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ فرماتے ہیں:
نہ ہونومید،نومیدی زوال علم وعرفاں ہے
امیدمردمومن ہے،خداکے رازدانوں میں
نہ ڈھونڈ اس چیز کوتہذیب حاضرکی تجلی میں
کہ پایا میں نے استغنامیںمعراج مسلمانی
علامہ اقبالؒؒ انتہائی مشکل حالات میں بھی اس نوجوان سے مایوس نہیں ہوتے جوابھی دوسروں کی تہذیب میں پناہ ڈھونڈرہاہے اوراپنے اسلاف کے علم کے موتی چننے کی بجائے غیروں کاخوشہ چیںہے ۔ان کی دُوراندیشی انہیں احساس دلاتی ہے کہ آنے والادوراسی نوجوان کاہے، کہتے ہیں!
نہیں ہے ناامیداقبالؒ اپنی کشت ویراں سے
ذرانم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
سبق پھرپڑھ صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا
لیاجائے گاتجھ سے کام دنیاکی امامت کا
یہی نوجوان جب اقبالؒؒ کے فلسفے کومشعل راہ بناتاہے تو وہ اسے زمانے کااستادہونے کی بشارت سناتے ہیں۔علامہ اقبالؒؒ کے نزدیک نوجوان ہی مستقبل کے شہ سوار ہیں اس لیے ملک و ملت کی باگ ڈور نوجوانوں کے ہاتھ میں ہی ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان بھی تعمیر ملت کے عمل میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور بزرگ بھی ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے ان کو نئی ذمہ داریاں تفویض کرتے ہوئے تذبذب یا ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہوں، کیوںکہ بدلتے زمانے کے ساتھ انسان کوخود بھی بدلنا چاہیے اور اس بدلاؤ کے عمل میں سب سے اہم عامل نوجوان ہیں جنھوں نے معاشرے کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانا ہوتا ہے، فرماتے ہیں!
زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے ساز بدلے گئے
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
یا پھر کہتے ہیں:
آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
علامہ اقبالؒ جوانوں سے جو محبت رکھتے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔وہ جوانوں کو متحرک اورتوانا دیکھنے کے خواہش مند ہیں تاکہ جن ہاتھوں میں وہ قوم کی زمام دے کے جائیں ان میں وہ اوصاف بھی ہو جو ترقی یافتہ قوموں کا وتیرہ ہیں۔ علامہ اقبالؒ ان کی تعلیم و تربیت پر بھی زوردیتے ہیں اور خدائے لم یزل کے حضورسجدہ ریز ہو کر چشم خوں ناب سے ٹپکتے آنسؤوںکی جھڑی کے ساتھ ان کیلئے دُعاگوبھی دکھائی دیتے ہیں جب وہ مناجاتی انداز اختیار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
جوانوں کو میری آہ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
میرا نور بصیرت عام کردے
جوانوں کو سوز جگر بخش دے
مرا عشق ، میری نظر بخش دے
علامہ محمداقبالؒؒ کے کلام میں آج کے منتشر نوجوان کیلئے بھرپوررہنمائی موجودہے،فی زمانہ اس امرکی اشدضرورت ہے کہ دور حاضر کا نوجوان اس مفکروفلسفی شاعر کے افکارسے فائدہ اٹھائے۔وہ یقینا اپنی منزل آسمانوں میں پائے گا۔
ایک صدی کا طویل زمانہ گزرنے کے بعدبھی علامہ اقبالؒؒ کا کلام روز اوّل کی طرح تازہ ہے اور اس میں وہی کشش ہے جو نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔اب یہ ہمارے اداروں کا فرض ہے کہ کلام اقبالؒ کو محض گانے بجانے سے نکال کر اگلی منزل کی طرف گامزن کیا جائے اور نوجوانوں اور بالخصوص طالب علموں کے ذہنوں میں اسے اس طرح منتقل کیا جائے کہ وہ ان کے کردار کا حصہ بن جائے اور وہ ان کو اس’’ شاہین‘‘ اور ’’مردمومن‘‘ کے قالب میں ڈھال دے جس طرح انہیں اقبالؒؒ دیکھنا چاہتے تھے۔
(ڈاکٹر آسیہ رانی گورنمنٹ کالج برائے خواتین لاہور کینٹ کے شعبہ اردو سے بطور اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ہیں)
ادبی موضوعات پر ان کے مضامین و کالم مختلف اخبارات اوررسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں)