اقبال ؒ کی معرکہ آرا شاعری
جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جس میںبندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے جسے آزادی کی نیلم پری
٭٭٭
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومِن کی یہ پہچان کہ گم اِس میں ہیں آفاق
٭٭٭
شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر
اب تو ہی بتا تیرا مسلماں کدھر جائے
٭٭٭
وہ قوم نہیں لائق ہنگامہ فردا
جس قوم کی تقدیریں امروز نہیں ہے
٭٭٭
تری حریف ہے یا رب سیاستِ افرنگ
گھر ہیں اس کے پجاری فقط اسیر درپیش
٭٭٭
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
٭٭٭
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نو میدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
٭٭٭
یہاں(مشرق) مرض کا سبب ہے غلامی و تقلید
وہاں(مغرب) مرض کا سبب ہے نظامِ جمہوری
٭٭٭
خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پرنیان و حریر
٭٭٭
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللہ
٭٭٭
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے
٭٭٭
نشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیے
٭٭٭
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاک ِ مدینہ و نجف