گملوں کا باغیچہ
ایسا نہیں کہ اگر آپ کا گھر بہت بڑا ہو گا تب ہی آپ اپنے گھر میں کچھ ہریالی لا سکتی ہیں بلکہ یہ آپ کے ذوق اور سلیقے پر منحصر ہے، آپ اپنے گھر میں چھوٹے چھوٹے گملوں میں بھی تازہ پھولوں اور کچھ سبزیوں کو اگا سکتی ہیں
جن خواتین کے پاس چھتوں کی سہولت میسر ہے اور وہاں بھی گملوں اور کیاریوں کی صورت میں ایک گارڈن بنا سکتی ہیں۔ اپنے گھر میں لگے تازہ پھولوں کی خوشبو آپ کے ذوق اور گھر کی خوبصورتی دونوں کا منہ بولتا ثبوت ہوگی۔ گرمیوں کے موسم میں جب اکثر لوڈشیڈنگ کا مسئلہ در پیش ہوتا ہے ایسے میں گرمی سے بے حال آپ اور آپ کی فیملی چھت پر بنے اس چھوٹے سے گارڈن میں شام کی چائے سے لطف اندوز ہونگے تو آپ کو اپنی محنت وصول ہوتی محسوس ہوگی۔
کمروں میں سجائے جانے والے پھولوں کو آپ کئی دن تک تازہ رکھ سکتی ہیں اس کیلئے آپ کو ذرا سی توجہ دینی ہو گی۔ پھولوں کی ٹہنیوں کو آخر میں قلم کے انداز میں کاٹیں جس سے ان ٹہنیوں کو پانی اور آکسیجن کی زیادہ مقدار مل سکے گی۔ پھول دان میں تھوڑا سا نمک شامل کر دیں تو اور بھی بہتر ہے ان سے پھولوں کی تازگی زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے۔ اپنے کمروں میں آپ منی پلانٹ اور دیگر ان ڈور پلانٹس بھی رکھ سکتی ہیں۔
اپنے ہاتھوں سے کاشت ہونے والی سبزیاں اور پھول آپ کو وہ خوشی دیں گے جو باہر سے خریدے ہوئے پھل ، پھول یا سبزیاں نہیں دے سکتیں۔ یہ آپ کی صحت اور اکانومی دونوں پر اچھے اثرات ڈالیں گی۔اگر آپ گھر میں چھوٹے گملے لگانا چاہتی ہیں اور پودوں کو صحت مند رکھنا چاہتی ہیں تو اس کیلئے بھی کچھ ٹپس ہیں جن پر عمل کرکے نہ صرف آپ اپنی باغبانی کا شوق پورا کر سکتی ہیں ۔
سب سے پہلے گملے یا برتن کا انتخاب کریں جن میں پودے لگانے ہوں اور مٹی کے ہونا ضروری ہیں۔ پلاسٹک یا کسی اور میٹریل کے ہونے کی صورت میں پودے کی جڑوں تک خاطر خواہ آکسیجن نہ ملنے کے باعث پودے جل جائیں گے اور سورج کی تیز شعائیں پودوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ گملوں میں پانی کی نکاسی کا انتظام موجود ہونا ضروری ہے۔
اپنے باغبانی کے شوق کی ابتداء بہت مہنگے پودوں سے ہرگز نہ کریں بلکہ صرف ان پودوں تک محدود رہیں جنہیں آپ پہلے آزما چکی ہیں۔ہر پودے کی دھوپ اور پانی کی اپنی اپنی مانگ ہوتی ہے اس کیلئے پودے خریدتے وقت کسی بھی نرسری سے رابطہ کرکے معلومات حاصل کر لینا بہتر ہے۔ پودوں میں کھاد کا بھی مناسب خیال رکھیں۔
گملوں میں اُگنے والے فاضل پودے اور کھانس پھونس کو نکال دینے سے آپ کے لگائے گئے پودے کو زیادہ اچھی اور بھرپور خوراک ملے گی۔ انڈوں کے چھلکوں کو پیس کر کمروں میں رکھے گئے منی پلانٹ اور دیگر پودوں میں ڈالنے سے ان کے پتے زیادہ جڑے ہونگے۔
پودوں کے گملوں میں کبھی کبھی ٹھنڈی چائے چھڑکنے سے مٹی میں کیڑے نہیں رہیں گے۔ اسی طرح پودوں کی کٹائی، چھٹائی اور دھونے سے ان کی خوبصورتی برقرار رہتی ہے ورنہ آپ کا باغیچہ بے ڈھنگا اور جنگل کی شکل اختیار کرکے کیڑے مکوڑوں ، مکھیوں اور دیگر حشرات کی جنت بن جائے گا۔