تقسیم گوشت اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر : مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی


حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اللہ سے لا زوال محبت و اطاعت کی یاد تازہ کرتا ہے کہ کیسے انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کیلئے اپنے نورِ نظر، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جان تک کی پروا نہیں کی اور کیسے ان کے پیارے بیٹے نے اللہ کی اطاعت اور والد کی محبت میں قربان ہونا باعثِ فخر سمجھا۔پھر اللہ پاک نے بھی ان کے اِخلاص، نیک نیتی، تابعداری کے صلے میں یہ سنت قیامت تک کیلئے ہر صاحبِ استطاعت پر واجب کر دی۔

 قربانی در اصل اس بات کا اعادہ ہے کہ ایک مسلمان اپنے رب کی رضا کی خاطرہر وقت جان و مال قربان کرنے کیلئے تیار رہتا ہے، راہِ خدا وندی میں اپنی محبوب ترین شے یا جان دینے سے جھجکتا ہے، نہ ڈرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ اللہ تعالیٰ کو نہ تو قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اسے صرف تمہارا تقوی پہنچتا ہے‘‘(سورۃ الحج: 37)۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاںاکثر لوگ عیدِ قرباں پرپورے جوش و خروش سے سنتِ ابراہیمی پر عمل توکرتے ہیں مگرعید الاضحی کا حقیقی مفہوم و مقصد نہیں سمجھتے، وہ سمجھتے ہیں کہ عیدِ قرباں کا مقصد صرف جانوروں کی قربانی کر کے گوشت جمع کرنا ہی ہے، جب کہ حقیقتاً اس تہوار کی اصل روح ’’تزکیہ نفس‘‘ ہے۔ وہ بندوں کی شکل و صورت ، مال و دولت نہیں دیکھتا، ان کے دلوں میں چھپی اچھائی دیکھتا ہے۔ یعنی، اگر آپ لاکھوں روپے مالیت کے جانور قربان کرکے بھی غرباء ، مساکین کو ان کا حصہنہیں دیتے، تو یاد رکھیں اللہ کو ہماری عبادتوں کی ضرورت ہے، نہ قربانی کی۔

عیدِ قرباں کو’’ نمکین عید‘‘ بھی کہا جاتا ہے کہ اس عید پر خوب دعوتیںہوتی ہیں، طرح طرح کے پکوان بنائے جاتے ہیںاور اس میںکوئی قباحت بھی نہیں، لیکن ذرا سوچیں! کیا بڑی عید کا مطلب صرف ذبیحہ کرکے دعوتیں کرنا ہے کہ در حقیقت ہمارا یہ تہوار تو غریبوں ، ناداروں کی خصوصی مدد کا تقاضا کرتا ہے۔ پھر صرف اپنے ہم پلہ گھرانوں کی دعوتیں کرنا، ان سے میل جول بڑھانا اور غریب رشتے داروں کو نظر انداز کرناتو ویسے بھی انتہائی غیر اخلاقی حرکت اوراسلامی احکامات کے منافی عمل ہے۔عید قرباں صرف جانور ذبح کرنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس بات کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے اندر کی لا محدود خواہشوں کو لگام دیں اور اپنے دل میں دوسروں کیلئے گنجائش پیدا کریں۔ سنت ابراہیمی کو پورا کرنے کیلئے فقط جانوروں کی قربانی ضروری نہیں بلکہ ساتھ ساتھ اپنے مفادات، ذاتی خواہشات، غلطیوں، کوتاہیوں اور خطائوں کی قربانی ضروری ہے۔عید ِ قرباں کے موقع پر سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے ہم اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے ہیں اور اپنے پڑوسی، رشتہ دار اور دوست و احباب میں قربانی کا گوشت تقسیم کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں قربانی کا فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطا کی ہے تو ہم نمود و نمائش سے اجتناب برتتے ہوئے عین اسلامی طریقہ پر گوشت کی تقسیم کی پوری کوشش کریں۔ اسلامی طریقہ کے مطابق قربانی کا گوشت تین حصوں میں منقسم کر کے دو حصہ صدقہ کرنا اور ایک حصہ ذاتی استعمال کیلئے بچانا مستحب اور افضل عمل ہے۔ویسے فتاویٰ کی کتابوں میں درج ہے کہ اگر کوئی ایسا خاندان قربانی کر رہا ہے، جو مالی طور پر مستحکم نہیں یا غریب ہے تو وہ زیادہ گوشت رکھ سکتا ہے اور ضرورت کم ہو تو زیادہ صدقہ بھی کر سکتا ہے۔

ویسے ہونا تو یہی چاہیے کہ جتنا ہو سکے غرباء ، مساکین کو گوشت دیا جائے، کیوں کہ امیر تو سارا سال ہی گوشت کھاتے ہیں، لیکن غریب اس نعمت سے محروم رہتے ہیں۔  اگر آپ کے زیادہ گوشت دینے سے وہ بھی عید کے ایام اور اس کے بعد کچھ روز تک پیٹ بھر کر کھاناکھاسکیں گے، تو زیادہ اجر و ثواب اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو گی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے ایک بکری ذبح کرکے صدقہ کی تو نبی ﷺ نے دریافت کیا اس (بکری کے گوشت) سے کچھ بچا ہے؟ میں نے عرض کیا صرف ایک بازو بچا ہے۔ تو آپ ﷺنے فرمایابازو کے سوا باقی سب بچ گیا ہے۔ یعنی نبی ﷺ نے اپنے اس فرمان سے کل امتِ مسلمہ کو یہ تعلیم دی کہ جو تقسیم ہوگیا، اسے ضائع مت سمجھو کہ در حقیقت وہی تو کام آئے گاجو اللہ کی راہ میں خرچ ہو، جو اس کی مخلوق کے کام آئے وہی مال و دولت اخروی زندگی میں ہماری کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔صحت منداور خوبصورت جانور اگر صرف اللہ کی بارگاہ میں قربانی کی قبولیت کے جذبہ کے تحت خریدے جائیں تو اس میں قطعاً مضائقہ نہیں، اسی طرح قربانی کا گوشت زیادہ سے زیادہ مستحق افراد تک پہنچانے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ہم میں بہت سے لوگ غریبوں، ناداروں، یتیموں اور ضرورت مندوں کو خالص گوشت تو تقسیم کرتے ہی ہیں لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ جن کے پاس تیل مصالحہ خریدنے کیلئے پیسے نہیں ہوتے وہ مختلف پکوانوں کا ذائقہ نہیں لے سکتے۔ اگر گوشت کے ساتھ اپنی حیثیت کے مطابق کچھ رقم بھی صدقہ جاریہ کے طور پر دے دی جائے تو یقینا انہیں دگنی خوشی ملے گی اور وہ بھی ہمارے ساتھ عید کی مسرتوں کا لطف اٹھا پائیں گے۔ افضل عمل یہ ہے کہ قربانی کا گوشت قربانی کی استطاعت نہ رکھنے والوں میں تقسیم کیا جائے۔ غریبوں کا خاص خیال رکھا جائے۔ قرابت داروں کو بھی یاد رکھیں کہ اسلام میں صلہ رحمی پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اللہ پاک ہماری قربانیوں کو قبول فرمائے اور ہمیں اس کا بہترین اجر نصیب فرمائے۔( امین )

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

پاکستان سپر لیگ،سیزن 9:دھواں دار کرکٹ،شائقین کا جوش دوبالا

کرکٹ کے عالمی ستاروں نے اپنے شاندار اور دھواں دار کھیل کی بدولت پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل 9)شائقین کرکٹ کا جوش بھی دوبالا کردیا۔

دادا جان کی عدالت

سمیرا سات سال کی تھی اس میں دو برُی عادتیں تھیں۔ پہلی یہ کہ وہ درمیان میں ضرور بولتی تھی، چاہے کوئی بھی شخص دوسرے فرد سے بات کر رہا ہو۔ اس کی دوسری بری عادت یہ تھی کہ وہ ہر کسی کی باتیں سنتی، چاہے وہ باتیں سننے والی ہوتیں یا نہیں۔ بڑوں کی آپس کی باتیں ہوتیں یا بچوں کی، وہ سن کر دوسروں کو بتاتی، چاہے بتانے والی ہوتیں یا نہیں۔ وہ سب کو بتا دیتی کہ گھر میں کون آ رہا ہے، کون جا رہا ہے، کیا پک رہا ہے، کیا منگوایا جا رہا ہے۔

ذرامسکرائیے

استاد شاگرد سے: ’’ بتائو سب سے زیادہ تیز کون بھاگتا ہے؟‘‘ شاگرد : ’’جناب! چیتا سب سے زیادہ تیز بھاگتا ہے‘‘۔ استاد: ’’ اور اس سے تیز کون بھاگتا ہے‘‘؟

سنہری باتیں

٭…مسکراہٹ ایک ایسی چابی ہے، جس سے دل کا دروازہ کھولا جا سکتا ہے۔ ٭…جذبے وہی پاکیزہ ہوتے ہیں، جو بلندیوں پر ہوں۔

دلچسپ و عجیب

دنیا کا سب سے لمبا اور زہریلا سانپ ’’کنگ کوبرا ‘‘\'ہے۔جسے مقامی زبان میں شیش ناگ کہتے ہیں۔عام طور پر اس کی لمبائی تیرہ فٹ ہوتی ہے۔اور وہ اپنے جسم کا ایک تہائی یعنی چار فٹ حصہ زمین سے کھڑا کر سکتا ہے۔کنگ کوبرا کی لمبائی18فٹ تک بھی ہو سکتی ہے۔اس کے پھن پر بنے ہوئے دو آنکھوں جیسے نشان اس کی دہشت میں اور بھی اضافہ کرتے ہیں۔اس کے حوالے سے بہت سی داستانیں مشہور ہیں۔

مُولی

پیارے بچو! سردی آئی ساتھ میں اپنے مولی لائی پتلی پتلی موٹی موٹیکوئی لمبی کوئی چھوٹی