مہنگائی اور سیاسی بحران،عوام پریشان

تحریر : عابد حسین


ملک معاشی لحاظ سے ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں حکومت عوام کی سنے تو آئی ایم ایف ناراض اور آئی ایم ایف کی سنے تو عوام ناراض۔اس سنگین مالی بحران کے دور میں بھی آفرین ہے ہمارے سیاستدانوں پر جو بحران کا حل نکالنے اور کھینچا تانی کی سیاست سے گریز کے بجائے الزام اور انتقام کی سیاست پر کمر بستہ ہیں۔پوری قوم کو غیر ضروری مباحث میں الجھاکر حکمران طبقہ اپنی بہترین مراعات یعنی لاکھوں کی ،مفت پٹرول اور بجلی سے استفادہ کر رہے ہیں۔

نگران حکومت کے آنے کے بعد جو اقدامات کئے ہیں ابھی تک ان کے دور رس نتائج سامنے نہیں آسکے ہیں۔ڈالر ،سونا،چینی ،گندم، ٹرانسپورٹ اور گھی تیل مافیا نے پورے نظام کو جکڑا ہوا ہے اورپاکستان کا ہر کمزور طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ، جبکہ حکمرانوں کو سب اچھا کی رپورٹ دی جاتی ہے۔

روز افزوں مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی ایک بار پھر میدان عمل میں ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے، بجلی کے بھاری بلوں اور ٹیکسوں میں کمی نہ کرنے، جاگیرداروں پر ٹیکس لگانے کے بجائے سارا بوجھ عوام پر ڈالنے اور حکمرانوں، وزیروں اور دوسری اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات اور مفت بجلی و پٹرول ختم نہ کرنے کے خلاف امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پردو روز قبل کراچی میں کئی مقامات پر احتجاج کیا گیا۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے نرسری سٹاپ شارع فیصل پرہونے والے احتجاج کے شرکاسے خطاب کیا اور ان مطالبات کو دہرایا جو عوام کی آواز بن چکے ہیں۔اس موقع پر عوام کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی چکی میں صرف عوام پس رہے ہیں جبکہ حکمران صرف بیانات دے رہے ہیں۔

جہاں تک سیاسی جماعتوں کے رویے کا تعلق ہے تو بعض سیاستدانوں نے ملک کے گمبھیر حالات کو خوابوں اور بعض نے خیالوں کی شکل میں بسایا ہوا ہے۔جیسا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر منظور وسان نے پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے انتخابی اتحاد سے متعلق ایک پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا پی ٹی آئی سے انتخابی اتحاد ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ وہ پارٹی تھپڑ مارکر خود روتی رہتی ہے اور ہر حکومت کا حصہ بھی بنتی ہے۔منظور وسان کا بیان چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی اس حالیہ پریس کانفرنس کے تناظر میں لیا جارہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل بھیجنے سے ملکی مسائل ختم نہیں ہوئے،ملک کو معاشی بحران کے ساتھ ساتھ امن و امان اور دہشت گردی کی صورت میں چیلنجز کا سامنا ہے۔

ادھر یم کیو ایم نے حلقہ بندیوں ، تبادلوں اور تقرریوں پر اپنے تحفظات سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرتے ہوئے انتخابات کے لیے یکساں مواقع پیدا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کو 2018ء کی حلقہ بندیوں پر شدید تحفظات ہیں۔ بقول اُن کے حلقہ بندیاں درزی بیٹھا کرکی گئیں اور مرضی کے حلقہ بندیاں کرکے پہلے مخصوص پارٹی کو فائدہ دیا گیا اورسکھراورمیرپور خاص میں ایم کیو ایم کو نقصان پہنچایا گیا۔

پارٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے علاوہ کراچی کے عوام کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ پچھلے 15سالوں سے اس صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس شہر اور صوبے کا جو حشر کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے اس کے ساتھ پی ٹی آئی نے اس شہر اور ملک پر چار سال حکمرانی ہونے کے باوجود اس شہر کا کوئی مسئلہ حل نہیں کیا۔

ایک طرف عوام مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں تو دوسری جانب ملک کی اکانومی کو پالنے والے کراچی جیسے بین الاقوامی اہمیت کے حامل شہر میں گینگسٹرز کا راج قائم ہوچکا ہے۔اندورن سندھ، کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کی سرکوبی تو ایک بڑا مسئلہ تھی ہی مگر کراچی میں بھی پولیس سمیت دیگر سکیورٹی ادارے سٹریٹ کرمنلز کے آگے اس قدر بے بس ہوچکے ہیں کہ سٹریٹ کرمنلز نے گینگز کی شکل اختیار کرلی ہے۔ٹھنڈے کمروں میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کرنے والے اعلیٰ تربیت یافتہ افسران کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ ضلعی وسطی میں گزشتہ ماہ کی طرز پر ایک بار پھر گینگ واردات ہوئی ہے۔اس واقعے میں موٹرسائیکلوں پر سوار ایک گینگ نے شفیق موڑ پر واقع چائے کے ہوٹل پر کئی افراد اور ہوٹل والے سے نقدی، موبائل فونز اور دیگر سامان لوٹ لیا اور باآسانی فرا ر ہوگئے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق موٹرسائیکل گینگ کی حالیہ واردات دو ماہ کے دوران دوسری اور منظم کارروائی ہے۔ ملزمان نے گزشتہ ماہ عزیزآباد کے علاقے میں بھی ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ایک درجن وارداتیں کی تھیں۔ملزمان کی دیدہ دلیری کا عالم یہ ہے کہ وہ واردات کے بعد جائے وقوعہ سے اسلحہ لہراتے ہوئے فرار ہوجاتے ہیں ۔مبصرین کے مطابق ٹولیوں اور غول کی صورت میں ملزمان کی ان منظم وارداتوں کے بعد سندھ پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے کچھ نہیں کر پا رہے۔ اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ عو ام کو تحفظ فراہم کریں ، کیونکہ کراچی جیسے اقتصادی صدر مقام کی حیثیت کے حامل شہر میں اگر امن و سلامتی کی صورتحال خراب ہو گی تو بالواسطہ اس کے منفی اثرات پورے ملک پر پڑیں گے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

دھوکے کی سزا

کسی گائوں میں ایک دھوبی رہتا تھا،جو شہر سے لوگوں کے کپڑے گدھے پر لاد کے گائوں لاتا اور دھونے کے بعد اسی پر لاد کے واپس شہر پہنچاتا تھا۔دھوبی کی کمائی کا یہی ذریعہ تھا اور وہ اس قدر کما لیتا کہ با آسانی گزر بسر کر سکے۔

زمین کی گردش رُک جائے تو کیا ہو؟

پیارے بچو!زمین اپنے محور کے گرد ایک ہزار میل فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے گھو م رہی ہے،تاہم اس وقت کیا ہو گااگر اس کی گرد ش اچانک رُک جائے؟اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا ہوا تو اس کے اثرات انتہائی تباہ کُن ہوں گے۔ماہرین کے مطابق اگر زمین کا گھومنا اچانک تھم جائے تو ہر وہ چیز جو کسی دوسری چیز سے بندھی ہوئی نہیں ہے ۔اچانک مشرق کی جانب ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اُ ڑنے لگے گی۔اس کے اثرات فضا پر بھی مرتب ہوں گے اور ہوائیں اتنی طاقتور ہو جائیں گی جیسے کسی ایٹم بم کے دھماکے کے بعد ہو سکتی ہیں۔

جانوروں کی دنیا

بٹیر دیہی علاقوں میں پایا جانے والا ایک خوبصورت پرندہ ہے۔اس کا تعلق پرندوں کے گالی فورمز خاندان سے ہے۔پرندوں کے اس بڑے خاندان میں مرغی،مور اور تیتر بھی شمال ہیں۔

پہیلیاں

ایک کھیتی کا دیکھا یہ حال نہ کوئی پتا نہ کوئی ڈال نہ ہی ڈالا بیج نہ جوتا ہل

اقوال زریں

٭… جوش کی بجائے ہوش سے کام لو۔ ٭… نادان کی صحبت میں مت بیٹھو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی باتیں تمہیں اچھی لگنے لگیں۔ ٭…خوش رہنا چاہتے ہو تو کسی کا دل نہ دکھائو۔

ذرامسکرایئے

باپ بیٹے سے: یہ تم کیسی ماچس لائے ہو ایک تیلی بھی نہیں جل رہی؟ بیٹا: ایسا کیسے ہو سکتا ہے ابو ، میں تو ایک ایک تیلی چیک کر کے لایا ہوں سب جل رہی تھیں۔٭٭٭