حلقہ بندیوں پر تحفظات

تحریر : مصطفیٰ حبیب صدیقی


الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست جاری کردی ہے جس کے بعد سندھ کی بڑی سیاسی جماعتوں میں بے چینی بڑھتی دکھائی دہے رہی ہے۔ایم کیوایم نے الیکشن کمشنر سندھ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جبکہ (ن) لیگ سندھ نے حلقہ بندیوں پر عدالت جانے کا اعلان کردیا۔

جی ڈی اے نے بھی حلقہ بندیوں کو مسترد کردیا جبکہ جماعت اسلامی شروع سے ہی حلقہ بندیوں پر تحفظات کا اظہار کررہی ہے۔سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کو کسی صوبے کا کوٹہ بڑھانے یا کم کرنے کا اختیار نہیں ۔

 گزشتہ دنوں ایم کیوایم کے اعلیٰ سطحی وفد نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور حلقہ بندیوں پر تحفظات کااظہار کیا۔ ایم کیوایم کو ملیر، کیماڑی، بلدیہ ٹاؤن اور کورنگی میں حلقہ بندیوں پر اعتراض ہے جبکہ کراچی کے علاوہ ایم کیوایم نے حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص اور نواب شاہ کے حلقوں میں بھی دیہی آبادی کو شامل کیے جانے پر اعتراض اٹھایا۔ ایم کیوایم کے مطابق چیف الیکشن کمشنر جلد معاملات حل کرائیں گے۔ خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو میں ایک مرتبہ پھر سندھ کی نگران حکومت پر پیپلزپارٹی کا ہونے کا الزام لگادیا۔مسلم لیگ (ن)بھی الیکشن کمشنر سندھ سے نالاں ہے جبکہ حلقہ بندیوں کے خلاف عدالت جانے کی تیاری کررہی ہے۔ مسلم لیگ (ن)سندھ کے صدر بشیر میمن نے دیگر لیگی رہنمائوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں حلقہ بندیوں پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا جبکہ انہو ں نے صوبائی الیکشن کمشنر پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا۔بشیر میمن نے کہا کہ سندھ میں غلط حلقہ بندیاں کی گئیں۔ نوشہرو فیروز کو بھی توڑا گیا اور چار تعلقوں کو ملا کر ایک حلقہ بنایا گیا۔لاڑکانہ میں بھی ایسا کیا۔ فرمائشوں پر حلقے بنائے گئے۔قادر بخش کلمتی نے کہا کہ حلقہ بندیاں کرتے ہوئے ملیر میں آبادی کا خیال نہیں رکھا گیا۔ایک یوسی کو اٹھا کر دوسری یوسی میں شامل کردیا گیا۔نہال ہاشمی نے الزام لگایا کہ پیپلزپارٹی نے پری پول دھاندلی شروع کردی۔

 متحدہ اور(ن) لیگ کے ساتھ ساتھ جی ڈی اے نے بھی نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کو متنبہ کیا کہ سیاسی تحفظات الیکشن سے قبل دور نہ کئے جائیں۔ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صفدر علی عباسی ،عرفان اللہ مروت ،حسنین مرزا، ارشد بلوچ ،اختر علی راجپراور دیگر نے پریس کانفرنس میں شفاف انتخابات کیلئے حلقہ بندیوں پر اعتراضات دور ہونے کو اہم قرار د یا۔جی ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کے ماضی میں منتخب نمائندوں کے حلقوں پی ایس 40 ، پی ایس 41 ،پی ایس 42، پی ایس 29 میں غیر قانونی حلقہ بندیاں کی گئیں جبکہ سابق وزراابھی تک سرکاری گاڑیاں اور پولیس پروٹوکول لیکر گھوم رہے ہیں۔جے ڈی نے سعید غنی پر بھی الزام لگایا کہ وہ سرکاری بنگلے کو پیپلزپارٹی کا آفس بناکرالیکشن مہم چلارہے ہیں۔پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ بھی کیاگیا کہ جی ڈی اے میں شمولیت کے لیے سندھ کی اہم سیاسی شخصیات رابطے میں ہیں جو جلد شمولیت اختیار کریں گی۔رہنماؤں کاکہناتھا پی ایس 29 کو چارتعلقوں میں تقسیم کیا گیا اور تین اضلاع ،شکار پور ، کشمور اور جیکب آباد کو ایک حلقے میں تبدیل کردیا گیا جبکہ سانگھڑ سے خیرپور تک ایک حلقہ بنایا گیا۔

مخالف جماعتوں کے الزامات اور دعو ؤں کے جوابات بھی پیپلزپارٹی کی جانب سے آرہے ہیں۔جی ڈی اے ،متحدہ اور (ن) لیگ کے الزامات کے بعد پیپلزپارٹی کراچی کے صدر سعید غنی نے پریس کانفرنس میں کہاکہ ایم کیو ایم مختلف اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے پی ٹی آئی والا راستہ اختیار نہ کرے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ادارے مصطفی کمال کے دھمکی آمیز رویے کا نوٹس لیں۔ کراچی میں پیپلزپارٹی مخالف جماعتوں کے اتحاد نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے ابتدائی خاکہ تیارکرلیا تاہم حتمی فیصلہ ہم خیال جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں ہوگا۔ پیپلزپارٹی کے خلاف بننے والے انتخابی اتحاد میں (ن) لیگ، ایم کیوایم،جے یوآئی ،جی ڈی اے اوراے این پی شامل ہیں ،جس نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے ابتدائی ڈرافٹ تیار کرلیا۔جی ڈی اے کراچی سے دونشستوں پر اتحادیوں کی مدد چاہتی ہے جبکہ( ن) لیگ نے کراچی میں بلدیہ ٹائون، شاہ فیصل کالونی، ملیر کی قومی اسمبلی کی چار اور صوبائی اسمبلی کی نونشستوں پر ایڈجسٹمنٹ کی تجویز دی ہے۔ اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی کیماڑی، ملیر اور غربی اضلاع کی ایک قومی اور پانچ صوبائی نشستوں پر اپنے امیدوار لانا چاہتی ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام سہراب گوٹھ،ملیر، بلدیہ، کیماڑی اور مومن آباد کی قومی و صوبائی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر اتحادیوں کی حمایت چاہتی ہے۔علاوہ ازیں متحدہ قومی موومنٹ ملیر اورلیاری کی نشستوں پر (ن) لیگ اور دیگر ہم خیال جماعتوں کی مدد کرنے کو تیار ہے۔ذرائع کے مطابق کراچی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ابتدائی سفارشات پر ہم خیال جماعتوں کا مشترکہ اجلاس8 دسمبر کے بعد متوقع ہے۔

جماعت اسلامی کی جانب سے بھی شہرِ قائد میں سیاسی اورسماجی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے۔جماعت اسلامی’’ بنو قابل‘‘ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں تک سیاسی پیغام پہنچانے میں کافی حد تک کامیاب نظرآتی ہے جبکہ ہر سیاسی جماعت کی طرح اس کی نظریں بھی نوجوان ووٹرز پر ہیں۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کراچی کے ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ حلقہ بندیوں پر الیکشن کمیشن کے ساتھ ایم کیوایم ،پیپلزپارٹی اور(ن) لیگ پر تنقید کررہے ہیں۔سندھ کی سیاست میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے اور ایم کیوایم سمیت کچھ سیاسی جماعتوں کی کوشش ہے کہ وہ ان کے ہوجائیں لیکن مفتاح اسماعیل جو (ن) لیگ سے الگ ہوئے تھے صاف کہہ رہے ہیں کہ وہ ابھی کسی جماعت میں نہیں جائیں گے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

توکل:حقیقت اور اس کے ثمرات

’’جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر اور پائیدار ہے، وہ ان لوگوں کیلئے ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں‘‘(سورۃ الشوری:36)

فرضیت واہمیت زکوٰۃ

’’اے ایمان والو خرچ کروپا کیزہ چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں اور جو ہم نے تمھا رے لیے زمین سے نکا لی ہیں‘‘ (البقرہ)

طہارت وپاکیزگی کا حکم

’’اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا‘‘(صحیح مسلم)

مسائل اور ان کا حل

مہر کے بدلے خلع یا طلاق دینا سوال : میری بیوی بلاوجہ میکے چلی گئی اور مہرکے طورپر5 تولہ سوناجومیں نے دیاتھاوہ بھی ساتھ لے گئی۔ میںنے وکیل کے ذریعے یہ پیغام بھجوایاکہ آپ سونے سمیت گھرواپس آجاؤتووہ مکان تبدیل کرکے نامعلوم مقام پرچلے گئے۔ اب اس نے تنسیخ نکاح کامقدمہ دائرکر دیا ہے۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ میں اسے طلاق دے کر فارغ کروں۔

پاکستان تحریک انصاف کا مستقبل!

پاکستان تحریک انصاف اپنے قیام سے اب تک کی کمزور ترین حالت میں پہنچ چکی ہے اور ایک بحرانی کیفیت کا شکار ہے۔ تحریک انصاف کو 8 فروری کو عوام کی جانب سے بے پناہ حمایت ملی مگر وہ اقتدار میں تبدیل نہ ہو سکی۔

مریم نواز کی حکومت کے لئے چیلنجز

مسلم لیگ(ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد حکومتی محاذ پر سرگرم عمل ہیں۔ نو منتخب وزیر اعلیٰ کی مسلسل میٹنگز کا عمل ظاہر کر تا ہے کہ تعلیم، صحت، صفائی نوجوانوں کے امور اور گورننس کے مسائل پر بہت سا ہوم ورک جو انہوں نے کر رکھاہے اب اس پر عمل درآمد کیلئے اقدامات کرتی دکھائی دے رہی ہیں ۔