قومی اسمبلی(261/265)

تحریر : عون علی،مہروز علی خان


مخصوص نشستیں، کیا ہیں، کیسے ملتی ہیں؟ آئین کے آرٹیکل (6)51اور الیکشن ایکٹ 2017ء کے دفعہ(4) 104کے مطابق مخصوص نشستوں کی تعداد کا تعین کیا جاتا ہے۔

قومی اسمبلی کی کل 336 نشستوں میں سے 266 پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے جبکہ خواتین کی 60 اور غیرمسلم پاکستانیوں کو10 مخصوص نشستوں پر منتخب کیا جاتا ہے۔ صوبوں کی سطح پر دیکھیں تو پنجاب اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد 371 ہے جن میں سے 297 نشستوں کے لیے انتخاب ہوتا ہے، جبکہ 74مخصوص نشستیں ہیں۔ ان میں سے خواتین کے لیے 66 نشستیں مخصوص ہیں، جبکہ غیرمسلم پاکستانیوں کے لیے 8۔سندھ اسمبلی کی کل نشستیں 168 ہیں جن میں سے 130 جنرل نشستیں ہیں، 38نشستیں مخصوص ہیں۔ سندھ میں خواتین کے لیے 29 جبکہ غیر مسلم پاکستانیوں کے لیے 9 نشستیں ہیں۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 145 ہے جن میں 115 جنرل نشستیں اور 30مخصوص نشستیں ہیں۔ ان میں سے خواتین کے لیے 26 جبکہ غیرمسلموں کے لیے 4 نشستیں ہیں۔بلوچستان اسمبلی میں 65 نشستیں ہیں جن میں سے 51 پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے، 14مخصوص نشستیں ہیں، ان میں سے خواتین کے لیے 11 جبکہ غیرمسلموں کے لیے 3 نشستیں مخصوص کی گئی ہیں۔

مخصوص نشستیں کیسے دی جاتی ہیں؟

خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے ہر سیاسی جماعت اپنے امیدواروں کی ترجیحی فہرست الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس جمع کراتی ہے۔ترجیحی فہرست میں شامل خواتین اور غیرمسلم امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی بھی جمع کرواتے ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابی نتائج کی روشنی میں سیاسی جماعتوں کی جیتنے والی نشستوں کے تناسب سے ہر سیاسی جماعت کو مخصوص نشستوں پر کامیاب خواتین ارکان کا نوٹیفکیشن جاری کر دیتا ہے۔ خواتین کی مخصوص نشستوں کی تقسیم صوبوں میں مخصوص کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر بلوچستان سے  صرف 4 خواتین مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی میں پہنچ سکتی ہیں ، خیبرپختونخوا سے 10، پنجاب سے 32 اور سندھ سے 14 خواتین مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی کی رکن بن سکتی ہیں۔مخصوص نشستوں میں پنجاب کے زیادہ کوٹہ کی وجہ سے ہر سیاسی جماعت کی کوشش ہوتی ہے کہ پنجاب سے زیادہ نشستیں حاصل کی جائیں۔ پنجاب میں 141 جنرل نشستیں ہیں تو جماعت یہاں چار یا اس زائد نشستیں جیتے گی۔ 2018ء میں تحریک انصاف نے اپنی اور آزاد ارکان کو ملا کر 125 نشستیں حاصل کی تھیں۔ جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے انہیں خواتین کی 28 اور غیرمسلم پاکستانیوں کی پانچ نشستیں دی تھیں۔باقی جماعتوں کو بھی اسی طرح ان کی جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملتی ہیں۔تاہم قومی اسمبلی میں غیرمسلموں کی مخصوص نشستوں کے لیے صوبائی تقسیم کا تعین نہیں کیا جاتا۔

صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشستیں:

جس طرح قومی اسمبلی میں صوبائی سطح پر مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں، صوبائی اسمبلیوں میں یہ تقسیم اضلاح یا ڈویژن کی سطح پر نہیں کی گئی بلکہ یہ معاملہ سیاسی جماعتوں کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے صوبے کے کسی بھی حصے سے خواتین یا غیرمسلموں کے لیے امیدواروں کو مخصوص نشستوں پر نامزد کر دیں۔ صوبوں میں بھی سیاسی جماعتیں اپنی امیدواروں کی ترجیحی فہرست الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جمع کرادیتی ہیں اور جس صوبے میں جو جماعت جتنی نشستیں حاصل کرتی ہے، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیتا ہے۔اگر کوئی جماعت اپنی جمع کروائی گئی ترجیحی فہرست کے مقابلے میں زیادہ جنرل نشستیں جمع کرواتی ہے تو بھی الیکشن کمیشن اس جماعت کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس فہرست میں اضافہ کرتے ہوئے مزید نام دے سکے۔ ایسا کرنے کی صورت میں ان امیدواروں کو اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرانے ہوتے ہیں۔

مخصوص نشستوں کا فارمولا:

مخصوص نشستوں کا کوٹہ اس طرح نکالا جاتا ہے کہ  ہر جماعت کی کل ممبر شپ کو صوبے کیلئے خواتین کی مخصوص نشستوں پر تقسیم کیا جاتا ہے، مثال کے طور پر بلوچستان میں قومی اسمبلی کے ارکان کی تعداد16ہے، اس میں خواتین کیلئے نشستیں چار ہیں۔ فارمولا کے تحت جو پارٹی بھی الیکشن میں چار نشستیں حاصل کرے گی اسے خواتین کی ایک نشست مل جائے گی۔ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141نشستیں ہیں اور یہاں خواتین کی 32نشستیں ہیں، 32کے ہندسہ کو 141پر تقسیم کیا جائے گا اور یہاں 4اعشاریہ5کے فارمولا پر ایک خاتون کی نشست ملے گی۔

خواتین کی مخصوص نشستیں ، آئین کیا کہتا ہے؟ 

الیکشن امور کے ماہرکنور محمد دلشادکے مطابق1973ء کے آئین کے مطابق قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے انتخاب صوبائی اسمبلیاں کرتی تھیں‘ جس طرح سینیٹر کا انتخاب ہوتا ہے۔ اس طرح صوبائی اسمبلیوں سے منتخب خواتین پارلیمنٹ کا حصہ بنتی تھیں۔تاہم دستور میں واضح کیا گیا تھا کہ 15سال بعد یہ سلسلہ ختم کرکے خواتین کا خصوصی کوٹہ ختم کر دیا جائے گا اور خواتین کو براہ راست انتخابات میں حصہ لینا ہوگا؛چنانچہ 1988ء کے انتخابات کے بعد جو قومی اور صوبائی اسمبلیاں تشکیل پائیں ان میں خواتین کی مخصوص نشستیں ختم کردی گئی تھیں۔ اس پر خواتین نے اعلیٰ عدالتوںسے بھی رجوع کیا مگر اعلیٰ عدالتوں سے قانون سازی کا مشورہ دیا تھا۔ اُس وقت کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) نعیم الدین نے فیصلہ دیا تھا کہ 1973ء کے دستور کے مطابق خواتین کی نشستیں 15سال کیلئے مختص کی گئی تھیں اور پندرہ سال گزرنے کے بعد خواتین براہ راست انتخابات کے ذریعے پارلیمنٹ کا حصہ بن سکتی ہیں۔ 1990 ء کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی اسمبلیوںمیں یہ مخصوص نشستیں نہیں تھیں۔1993ء میں بے نظیر حکومت نے انتخابی اصلاحات کے ذریعے اقلیتی نشستوں کیلئے قومی اسمبلی کیلئے پورے ملک اور صوبائی اسمبلیوں کیلئے پورے صوبے کو حلقہ بنا کر براہ راست انتخابات کیلئے قانون سازی کی۔ تاہم جون 2002ء میں پرویز مشرف کی حکومت نے خواتین کی مخصوص نشستوں کا کوٹہ صوبے کے حساب سے مخصوص کر دیاجسے بعد ازاں 18ویں ترمیم میں آئین کا حصہ بنا دیا گیا ۔

وہ حلقے جہاں دوبارہ انتخابات ہوں گے:

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقے 88 اور سندھ اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے دوحلقوں کے چند پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے۔متعلقہ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ اس ماہ کی 15تاریخ کو ہوگی اور ان حلقوں کے حتمی نتائج کا اعلان مکمل نتائج کی تیاری کے بعد کیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق ہجوم کی جانب سے پولنگ کے سامان کو آگ لگانے کے باعث 88 کے 26پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے۔اس طرح، کمیشن نے سندھ اسمبلی کے حلقہ18 گھوٹکی ایک کے دو پولنگ سٹیشنوں اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقہ 90 کوہاٹ ایک کے 25پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے ،جہاں لوگوں نے پولنگ کا سامان چھین کر ضائع کردیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

پی ایس ایل 9،دوسرا مرحلہ:ملتان سلطانز پوائنٹس ٹیبل پر سر فہرست

پاکستان سپر لیگ سیزن 9کا پہلا مرحلہ لاہور اور ملتان میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر، کراچی اور راولپنڈی میں میلہ سج گیا۔

غصے کا انجام

احمر تیزی سے سکوٹی چلاتا ہوا جا رہا تھا۔وہ شدید غصے میں تھا اورآس پاس چلنے والوں سے بے خبر منہ پھُلائے تیزی سے سکوٹی دوڑاتا گھر کی جانب روانہ تھا۔

ذرامسکرائیے

ایک خاتون کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ڈاکٹر نے پلاسٹر چڑھا کر اسے ہدایت کی کہ سیڑھیوں سے اترنا چڑھنا نہیں ہے۔ تین ماہ بعد مریضہ آئی تو ڈاکٹر نے پلاسٹر کاٹا اور ہڈی جڑنے میں اتنی دیر لگنے پر تعجب کا اظہار کیا۔

کیا پرندے اور جانور موسمی تبدیلیوں کا پتا لگالیتے ہیں؟

بعض لوگ کہتے ہیں کہ پرندے اور جانور مستقبل میں پیش آنے والی موسمی تبدیلیوں کی نشاندہی کر دیتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ لوگ عموماً یہ کہتے ہیں کہ خزاں کے موسم میں چھچھوندر اپنا بل بہت گہرا کھودتی ہے یا کوے بہار کے موسم میں اپنے گھونسلے اونچے اونچے درختوں کی بلند شاخوں پر بناتے ہیں اور اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جانوروں اور پرندوں کی سرگرمیوں اور عادات سے موسم کی تبدیلی کا پیشگی علم ہو جاتا ہے، لیکن یہ سب قیاسی باتیں ہیں۔ جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

چار صوبے

پاکستان کے صوبے ہیں چار مل کے دہراتے ہیں یار آبادی میں بڑا صوبہ پنجابپانچ دریا اسے کریں سیراب

پہیلیاں

(1) پھولوں میں دو پھول نرالے پاتے ہیں وہ قسمت والےکوئی تو ایک یا دونوں پائےخالی ہاتھ کوئی رہ جائے