قرآن مجید ایک مکمل ضابطہ حیات

تحریر : مولانا دانیال حسن چغتائی


’’ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے‘‘ (صحیح بخاری)

 عقل انسانی پوری کائنات کی دلفریبیوں ، انسانیت کے دشمن اوّل شیطان مردود کی چالوں اور نفس امارہ کی ریشہ دوانیوں کو کماحقہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ قدم قدم پر جال بچھے ہوئے ہیں۔ گناہ آلود دنیا ہر لمحہ پھلجھڑی کی مانند مختلف رنگوں میں نظروں کو خیرہ کرتی ہے۔ پھر ہر قریب آنے والے کو اس قدر خیرہ کر دیتی ہے کہ انسان انسانیت سے گر کر حیوانیت کے ذلیل ترین گڑھے میں جا گرتا ہے اور اسے کچھ سوجھتا بھی نہیں، پھر یہ کہنا پڑتا ہے کہ ’’شیطان کی اب کوئی ضرورت نہیں یا رب بربادی انساں کو انساں ہی بہت ہے‘‘۔ 

دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں کہ دیتے ہیں دھوکا بازی گر کھلا، عقل سلیم تڑپ اٹھتی ہے۔ ضمیر انسانی کی چیخیں آسمان کے پردوں کو چاک کرتی ہوئی اپنے رب غفور سے رہنمائی اور ہدایت کی طلب گار ہوتی ہیں۔ رحمت یزداں جوش میں آتی رہی تو گاہے بگاہے اس اندھی دنیا میں روشنی کیلئے کسی برگزیدہ بندے کو اپنا پیغامبر بنا کر اور ضابطہ حیات روشن کتاب دے کر بھیجتا رہا ہے۔ یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام     سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد ﷺتک جاری رہا۔

 جب دنیا میں ظلم و جور،  کفر و شرک کی تاریکیاں اس قدر پھیل گئیں اور لاکھوں کروڑوں انسان اس دلدل میں اس طرح گر گئے کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں کے تراشے ہوئے معبودوں کے آگے جھکائے سر اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اخلاقی قدریں مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھیں۔ تو اللہ نے پوری انسانیت کیلئے تا قیامت مکمل ضابطہ حیات ایک نور مبین ایک کتاب مقدس قرآن مجید حضرت محمدﷺ کے ذریعے عطا فرمائی۔ جس میں اللہ نے زندگی کے تمام شعبوں، عبادت، ریاضت، شجاعت، عدالت، امانت، سخاوت، سعادت، تہذیب و تمدن، بود و باش ، خورد و نوش ، اکل و شرب، قیام و طعام ، لین دین، پیار و محبت غرض ہر پہلو پر ایک مکمل ضابطہ حیات دے کر بھیجا اور کوئی پہلو تشنہ نہ چھوڑا۔ 

 قرآن پاک ہی ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو ناصرف ہدایت کا ذریعہ ہے بلکہ شفاء کا بھی ذریعہ ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفاء ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کیلئے رہنمائی اور رحمت ہے‘‘۔ 

اے نبی کریم ﷺکہہ دو کہ یہ اللہ کا فضل اور مہربانی ہے کہ یہ خبر اس نے بھیجی۔ اس پر تو لوگوں کو خوش ہونا چاہیے۔ قرآن مجید مردہ لوگوں کیلئے آب حیات اور پژمردہ دلوں کیلئے طمانیت بخش ہے۔ لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور صراط مستقیم پر گامزن کرتا ہے۔ جس کا قول قرآن مجید کے مطابق ہے وہ صادق ہے اور جو اس کے احکامات پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ کامیاب ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طرہ امتیاز تھا کہ وہ دنیا میں ایسے زندگی بسر کرتے تھے گویا کہ جیتا جاگتا قرآن ہوں۔ وہ قرآنی آیات میں غور و فکر کرتے تھے اور حقیقی معنوں میں اس کی تلاوت کرتے تھے۔ اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے تھے ، اور اس ہی کی طرف دعوت دیتے تھے ،عذاب کی آیتوں سے ان کے دل دہل جاتے تھے ، اور رحمت کی آیتوں سے ان کے دل روشن اور معمور ہو جاتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قدم قدم پر قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرتے تھے اس لیے وہ دنیا میں عزت سے مشرف ہوئے اور دنیا کی سیادت کے حقدار بنے۔ بلند درجات پر فائز ہوئے اور دونوں جہانوں کی کامیابیوں سے سر فراز ہوئے۔ 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : یقینا یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں، اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کیلئے بہت بڑا اجر ہے۔ 

حضور نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے‘‘ (صحیح بخاری: 5028)۔

 حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا : جس نے قرآن مجید سے ایک حرف پڑھا اس کیلئے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صاحب قرآن سے کہا جائے گا قرآن پڑھتے جائو اور درجات پر چڑھتے جائو اور اس ترتیل سے پڑھو جس طرح دنیا میں پڑھا کرتے تھے ، بیشک تمہارا مقام وہاں ہوگا جہاں پر تمہارا پڑھنا ختم ہو جائے گا۔

دنیا میں قوانین بھی بنتے رہتے ہیں۔ ان میں ترمیم و اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے وہ قوانین کا لعدم بھی ہوتے رہتے ہیں۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ مکمل نہیں ہوتے ہیں۔ وہ وقتی ضروریات اور وقتی تقاضے پورے کرتے ہیں اور اپنے اپنے ملک ، اپنے اپنے خاندان کیلئے ہوتے ہیں۔ یہ قوانین پورے قبیلوں کی ضروریات اور تقاضوں کو سامنے رکھ کر بنائے ہوتے ہیں ، اس میں وقت کے ساتھ ساتھ ترمیم کی ضرورت پڑ جاتی ہے یا اضافے کی۔لیکن قرآن مجید کا ڈیڑھ ہزار سال سے ایک حرف اور ایک لفظ تک نہیں بدلا گیا اور نہ بدلنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور نہ تا قیامت محسوس ہو گی۔ یہ ایک ایسا نظام حیات ہے۔ جو ہر دور میں قابل عمل رہا۔ ہر دور کے انسان کیلئے نافذ العمل ہونے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر سال، ہر صدی کے تقاضے پورے کرتا ہے بلکہ قرن ہا قرن تک ہزاروں لاکھوں زمانے بدلے، قوموں کے تقاضے بدلے خراج بدلے، ضرورتیں بدلیں مگر اس کا ایک قانون بھی بدلنے کی ضرورت نہیں۔

اللہ ایک ہے ، روز ازل سے ایک ہے، تا ابد ایک رہے گا۔ سچائی ایک حقیقت ہے۔ ازل سے اور ابد تک رہے گی۔ جھوٹ ایک لعنت ہے۔ ازل سے ہے ابد تک رہے گی۔ انسانیت کی قدرو منزلت ازل سے مسلم ہے ابد تک مسلم رہے گی۔ اور اس طرح انسانیت سے متعلق ہر شعبہ زندگی کے لا زوال اصول ازل سے ہیں ابد تک رہیں گے اور انہی اصولوں کا امین قرآن پاک ہے۔ اس لئے اس میں بیان کردہ ابد تک حقیقت ہی رہیں گے۔ نہ ان میں ترمیم کی ضرورت ہوگی۔ نہ اضافے کی۔ اس مکمل قانون کو لے کر آنے والے حامل وحی النبی محیط انوار خداوندی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ ان کی ذات گرامی بھی اسی طرح تا ابد ایک ہی رہے گی۔ اس کو سمجھنے اس کو پرکھنے اور اس کو حرز جاں بنانے کا جو انداز آپ نے سکھا دیا ابد تک وہی رہے گا۔ انہی کی دی ہوئی ٹارچ، انہی کی دی ہوئی روشنی سے میں یہ قرآن پاک کے بعد کوئی کتاب اس کا مقام نہیں لے سکتی اور اس کے لانے والے کی جگہ کسی دوسرے کو کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ اور حضورﷺ کی صداقت و نبوت اور لازوال نبوت بھی قرآن پاک کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کی دلیل ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

علامہ محمداقبالؒ کا فکروفلسفہ :شاعر مشرق کے فکر اور فلسفے کو عالمی شہرت ملی، مسلمانوں کو بے حد متاثر کیا

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبالؒ بیسویں صدی کی نابغہ روز گار شخصیت تھی۔ وہ ایک معروف شاعر، مفکر، فلسفی،مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کے اہم رہنما تھے۔اپنے فکر و فلسفہ اور سیاسی نظریات سے اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کو بے حد متاثر کیا۔ ان کے فکر اور فلسفے کو عالمی شہرت ملی۔

جاوید منزل :حضرت علامہ اقبال ؒ نے ذاتی گھر کب اور کیسے بنایا؟

لاہور ایک طلسمی شہر ہے ۔اس کی کشش لوگوں کو ُدور ُدور سے کھینچ کر یہاں لےآ تی ہے۔یہاں بڑے بڑے عظیم لوگوں نے اپنا کریئر کا آغاز کیا اور اوجِ کمال کوپہنچے۔ انہی شخصیات میں حضرت علامہ اقبال ؒ بھی ہیں۔جو ایک بار لاہور آئے پھر لاہور سے جدا نہ ہوئے یہاں تک کہ ان کی آخری آرام گاہ بھی یہاں بادشاہی مسجد کے باہر بنی، جہاںکسی زمانے میں درختوں کے نیچے چارپائی ڈال کر گرمیوں میں آرام کیا کرتے تھے۔

چمگاڈر کی کہانی

یہ کہانی ایک چمگادڑ کی ہے۔ دراصل ایک مرتبہ باز، شیر کا شکار کیا ہوا گوشت لے اڑتا ہے۔ بس اسی بات پر پرند اور چرند کے درمیان جنگ شروع ہوجاتی ہے اور جنگ کے دوران چالاک چمگادڑ اس گروہ میں شامل ہوجاتی جو جیت رہا ہوتا ہے۔ آخر میں چمگادڑ کا کیا حال ہوتا ہے آئیں آپ کو بتاتے ہیں۔

عادل حکمران

پیارے بچو! ایران کا ایک منصف مزاج بادشاہ نوشیرواں گزرا ہے۔ اس نے ایک محل بنوانا چاہا۔ جس کیلئے زمین کی ضرورت تھی اور اس زمین پر ایک غریب بڑھیا کی جھونپڑی بنی ہوئی تھی۔

ذرامسکرائیے

پپو روزانہ اپنے میتھ کے ٹیچر کو فون کرتا ٹیچر کی بیوی: تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ انہوں نے سکول چھوڑ دیا ہے تم پھر بھی روزانہ فون کرتے ہو۔پپو: یہ بار بار سن کر اچھا لگتا ہے۔٭٭٭

خر بوزے

گول مٹول سے ہیں خربوزے شہد سے میٹھے ہیں خربوزے کتنے اچھے ہیں خربوزےبڑے مزے کے ہیں خربوزےبچو! پیارے ہیں خربوزے