بیوہ خواتین اور معاشرتی ذمہ داریاں

تحریر : مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی


قبل از اسلام بیوہ عورت محرومی کا شکار تھی اسے کوئی عزت حاصل نہ تھی وہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد بقیہ زندگی نہایت تکلیف ومصیبت میں بسر کرتی۔ یہودیوں کے یہاں بیوہ عورت اپنے شوہر کے بھائی کی ملکیت ہوجاتی تھی،

 عیسائی مذہب نے بھی بیوہ عورت کیلئے کوئی مثبت ہدایت نہیں دیں۔ ہندومذہب میں تو شوہر کی وفات کے بعد بیوہ کو جینے کا حق ہی نہیں تھا اور وہ شوہر کی چتا میں زندہ جل کرستی کی رسم پورا کرنا اپنا مذہبی فرض سمجھتی تھی۔ وہ اگر زندہ بھی رہتی تو پوری زندگی اپنے شوہر کے سوگ میں گزارتی۔اسے زیب وزینت یادنیا کی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کا کوئی حق نہ تھا۔ عربوں میں بھی بیوہ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تھا۔ شوہر کی وفات کے بعد بیوہ شوہر کے وارثوں کی ملکیت میں آجاتی اور وہ جیسا سلوک چاہتے اس کے ساتھ کرتے۔

نبی آخرالزمان حضرت محمدمصطفی ﷺ مبعوث ہوئے تو بیوہ کے برے دن اچھے دنوں میں بدل گئے۔ آپ ﷺنے نہ صرف بیوہ عورت کو معاشرے میں باعزت مقام دلایا۔ اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی بلکہ اپنے عمل سے بیوہ کو وہ شان وعظمت عطا کی جس کا تصور بھی عربوں میں نہیں کیا جاسکتا تھا۔ آپ ﷺ نے پچیس سال کی عمر میں بیوہ سے نکاح کرکے جاہلانہ رسموں کے خلاف عملی قدم اٹھایا۔ آپ ﷺ پچیس سال تک اِس طرح ان کے ساتھ شریک حیات رہے کہ اِس دوران آپ نے کوئی دوسرا نکاح نہیں فرمایا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد بھی آپ ﷺ نے جن دس عورتوں (حضرت عائشہ، حضرت سودہ، حضرت حفصہ، حضرت زینب، حضرت ام سلمہ ، حضرت زینب، حضرت جویریہ ، حضرت ام حبیبہ ، حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ  رضی اللہ عنہما)سے نکاح کیا، سوائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساری بیوہ ہی تھیں۔

اسی طرح متعدد صحابہ کرام ؓ نے بھی اپنے زمانے کی مختلف بیوہ عورتوں کی فریاد رسی کی اور ان کے شریک حیات بن کر خود ان کو سہارا دیا۔ حضرت اسما  بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے شوہر حضرت جعفر طیار ؓ جب غزو موتہ میں شہید ہو گئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓنے  ان سے شادی کی۔ اسی طرح حضرت عاتکہ ؓ کے شوہر حضرت عبد اللہ بن ابی بکر ؓجب شہید ہوئے تو حضرت عمر فاروق ؓنے ان سے شادی کی۔حضورِ اقدس ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓنے اپنی زیر کفالت تمام بیوہ عورتوں  کے نان نفقہ کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا اور سوسائٹی و معاشرے میں دوبارہ ان کو عزت و آبرو کے ساتھ داخلے کا موقع دیا ۔

کسی عورت کیلئے اس سے زیادہ آزمائش اور مصیبت کوئی نہیں ہوسکتی کہ اس کا شوہر اس سے ہمیشہ کیلئے جدا ہوجائے۔ شوہر کی وفات سے بیوی کوصرف جذباتی صدمہ ہی نہیں پہنچتا بلکہ اس کے سامنے مسائل کا ایک ہجوم منڈلانے لگتاہے۔اس مظلوم اور مصیبت زدہ عورت کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کیجئے۔ ایک یتیم بچہ جس طرح اپنے باپ کی وفات سے بے سہارا ہوجاتا ہے، اسی طرح بیوہ اپنے شوہر کی وفات سے بے سہارا ہوجاتی ہے۔ دونوں کی مصیبتوں اورپریشانیوں میں یکسانیت ہے۔ چنانچہ اسلام نے یتیم کی کفالت کرنے پر جس طرح جنت کی خوشخبری سنائی اور آنحضور ﷺ نے یتیم کی کفالت کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ میں اور وہ ان دونوں انگلیوں کی طرح جنت میں ہوں گے۔ اسی طرح بیوہ عورت کے مسائل حل کرنے والے کے سلسلے میں بھی ارشاد فرمایا کہ وہ اور میں جنت میں دوانگلیوں کی طرح قریب قریب ہوں گے۔

 نبی کریم ﷺ نے ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا:بیوہ اورغریب کی خاطر دوڑ دھوپ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو راہِ خدا میں جہادکرتا ہے اور اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھتا اور رات کو نماز پڑھتا ہے(صحیح بخاری و مسلم)

بیوہ کے حقوق 

بیوہ کاپہلا حق یہ ہے کہ اس کے شوہر کے ترکہ میں سے اسے مقررہ حق دلایا جائے۔ اگر شوہر نے اولاد چھوڑی ہو تو بیوہ کوترکہ کا آٹھواں حصہ دلایا جائے اور اگر اولاد نہ چھوڑی ہوتو کل ترکہ کا چوتھائی حصہ دلایا جائے۔ ترکہ کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تقسیم کیا جائے ورنہ تمام مال حرام ہو جاتا ہے۔ لڑکی،بیوی،ماں،بہن سب کے حصے پورے پورے دیے جائیں۔

اگر شوہرنے مرنے سے پہلے مہر ادا نہیں کیا ہے تو سب سے پہلے ترکہ میں سے بیوہ کو اس کا مہر دلایا جائے۔اسی طرح اگر شوہر اپنی بیوی کیلئے کوئی وصیت کرگیا ہے تو ترکہ کے ایک تہائی مال تک اس کی وصیت کو پورا کیا جائے۔

بیوہ کا دوسرا حق یہ ہے کہ اس کی کفالت کا فورا نظم کیا جائے۔ اگر اسلامی حکومت ہے تو اس کے اخراجات اور کفالت کی ذمہ دار ہے۔اگر اسلامی حکومت موجود نہ ہو تو مسلم معاشرہ اس کے ساتھ حددرجہ ہمدردی کرے۔ اس کی ضروریات کا خیال رکھے۔ جب تک وہ دوسرا نکاح نہیں کرلیتی۔

بیوہ کا تیسرا حق یہ ہے کہ عدت پوری ہوجانے کے بعد اسے سوگ اور ماتم سے نجات دلائی جائے۔ اس کے رنج وغم کو بھلانے کیلئے بہتر سے بہتر طور طریقے اختیار کئے جائیں۔ جائز حدود میں اسے زیب وزینت اور آرائش وسنگھار کرنے کا حق دیا جائے۔ 

بیوہ کاچوتھا حق یہ ہے کہ عدت پوری ہوجانے کے بعد اس کے نکاح ثانی کا انتظام کیا جائے۔ آج کل ہمارے معاشرہ میں بیوہ سے نکاح کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ بھی ایک اہم سنت ہے جس کی طرف مسلمانوں کو فوری توجہ کرنی چاہیے۔ دوراول میں اسلامی معاشرہ میں بیوائوں سے شادی کرنے کوبڑے اجر کا کام سمجھا جاتا تھا اور اس سے مسلم معاشرہ بہت سے مسائل سے دوچار ہونے سے بچ جاتا تھا۔ کسی بیوہ سے نکاح کرکے اس کی اور اس کے بچوں کی کفالت کرنا عظیم نیکی ہے۔ 

خود کسی بیوہ سے نکاح کرکے اس نیکی وسعادت کو حاصل کریںیا اس کا نکاح کسی مناسب شخص سے کراکر حکم خداوندی کی تعمیل کیجئے۔ قرآن پاک میں حکم دیاگیا ہے’’اپنی بیوہ عورتوں اور رنڈوے مردوں کے نکاح کر دو‘‘ (النور:  23)

 بیوہ کاپانچواں حق یہ ہے کہ وہ اپنا نکاح کرنے کا پورا اختیار رکھتی ہے۔ اس کے میکے یا سسرال کے لوگ اسے نکاح کرنے یا نہ کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ ہاں اسے مشورہ ضرور دے سکتے ہیں۔ اگر بیوہ چھوٹے بچے رکھتی ہے اور وہ ان کی پرورش کی خاطر کوئی دوسرا نکاح نہیں کرتی اور وہ ان بچوں کی پرورش کیلئے محنت کرتی ہے تو یہ بڑے اجر وثواب کا کام ہے۔

قارئین کرام ! ہمیں چاہیے کہ ہم ان حقوق کی پاسداری کریں ۔بیوہ اور یتیم بچوں کی داد رسی کو اپنا فریضہ سمجھیں ۔اللہ پاک امت مسلمہ کو قرآن و سنت کے احکامات پہ عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے (آمین )

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

علامہ محمداقبالؒ کا فکروفلسفہ :شاعر مشرق کے فکر اور فلسفے کو عالمی شہرت ملی، مسلمانوں کو بے حد متاثر کیا

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبالؒ بیسویں صدی کی نابغہ روز گار شخصیت تھی۔ وہ ایک معروف شاعر، مفکر، فلسفی،مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کے اہم رہنما تھے۔اپنے فکر و فلسفہ اور سیاسی نظریات سے اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کو بے حد متاثر کیا۔ ان کے فکر اور فلسفے کو عالمی شہرت ملی۔

جاوید منزل :حضرت علامہ اقبال ؒ نے ذاتی گھر کب اور کیسے بنایا؟

لاہور ایک طلسمی شہر ہے ۔اس کی کشش لوگوں کو ُدور ُدور سے کھینچ کر یہاں لےآ تی ہے۔یہاں بڑے بڑے عظیم لوگوں نے اپنا کریئر کا آغاز کیا اور اوجِ کمال کوپہنچے۔ انہی شخصیات میں حضرت علامہ اقبال ؒ بھی ہیں۔جو ایک بار لاہور آئے پھر لاہور سے جدا نہ ہوئے یہاں تک کہ ان کی آخری آرام گاہ بھی یہاں بادشاہی مسجد کے باہر بنی، جہاںکسی زمانے میں درختوں کے نیچے چارپائی ڈال کر گرمیوں میں آرام کیا کرتے تھے۔

چمگاڈر کی کہانی

یہ کہانی ایک چمگادڑ کی ہے۔ دراصل ایک مرتبہ باز، شیر کا شکار کیا ہوا گوشت لے اڑتا ہے۔ بس اسی بات پر پرند اور چرند کے درمیان جنگ شروع ہوجاتی ہے اور جنگ کے دوران چالاک چمگادڑ اس گروہ میں شامل ہوجاتی جو جیت رہا ہوتا ہے۔ آخر میں چمگادڑ کا کیا حال ہوتا ہے آئیں آپ کو بتاتے ہیں۔

عادل حکمران

پیارے بچو! ایران کا ایک منصف مزاج بادشاہ نوشیرواں گزرا ہے۔ اس نے ایک محل بنوانا چاہا۔ جس کیلئے زمین کی ضرورت تھی اور اس زمین پر ایک غریب بڑھیا کی جھونپڑی بنی ہوئی تھی۔

ذرامسکرائیے

پپو روزانہ اپنے میتھ کے ٹیچر کو فون کرتا ٹیچر کی بیوی: تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ انہوں نے سکول چھوڑ دیا ہے تم پھر بھی روزانہ فون کرتے ہو۔پپو: یہ بار بار سن کر اچھا لگتا ہے۔٭٭٭

خر بوزے

گول مٹول سے ہیں خربوزے شہد سے میٹھے ہیں خربوزے کتنے اچھے ہیں خربوزےبڑے مزے کے ہیں خربوزےبچو! پیارے ہیں خربوزے