ذرامسکرائیے

تحریر : روزنامہ دنیا


کم از کم ایک کو ضرور سائیڈ پر ہونا پڑنا تھا۔ اب کچھ دیر تو وہ کھڑے رہے۔ آخر ایک صاحب بولے: ’’میں گدھوں کو راستہ نہیں دیا کرتا۔‘‘یہ سن کر دوسرے صاحب مسکراتے ہوئے ایک طرف ہو گئے اور کہا:’’میں دے دیا کرتا ہوں‘‘٭٭

مالک (نوکر سے): چلو جا کر پودوں کو پانی دو۔

نوکر: صاحب بارش ہو رہی ہے۔

مالک: تو کیا ہوا، بیوقوف! چھتری لے کر پانی دے آؤ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بڑی سخت سردی تھی۔ ایک بیوقوف مسلسل پانی بھرے جارہا تھا۔

 ایک صاحب نے پوچھا تم صبح سے اتنا پانی کیوں بھر رہے ہو۔ آخر اتنے پانی کا کیا کرو گے؟

بیوقوف بولا: پانی بہت ٹھنڈا ہے، گرمیوں میں کام آئے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک لڑکی نے اپنی سہیلی سے کہا۔

 ’’پتا ہے میری بلی اپنا نام بھی بول سکتی ہے‘‘۔

سہیلی نے حیرت سے کہا ’’اچھا! کیا نام ہے اس کا‘‘

’’میاؤں‘‘۔ لڑکی نے جواب دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میثم: کہاں جارہے ہو؟

محسن (غصے سے): چڑیا گھر۔

میثم: اپنے پنجرے کا نمبر تو بتاتے جاؤ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گاہک (دکاندار سے): مجھے ایک خالی بوتل کی ضرورت ہے۔

دکاندار: خالی بوتل 2 روپے کی ہے لیکن اگر اس میں کچھ ڈلوا لو تو بوتل کی قیمت نہیں لی جائے گی۔

گاہک: ’’اچھا تو اُس میں پانی ڈال دیں۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

علامہ محمداقبالؒ کا فکروفلسفہ :شاعر مشرق کے فکر اور فلسفے کو عالمی شہرت ملی، مسلمانوں کو بے حد متاثر کیا

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبالؒ بیسویں صدی کی نابغہ روز گار شخصیت تھی۔ وہ ایک معروف شاعر، مفکر، فلسفی،مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کے اہم رہنما تھے۔اپنے فکر و فلسفہ اور سیاسی نظریات سے اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کو بے حد متاثر کیا۔ ان کے فکر اور فلسفے کو عالمی شہرت ملی۔

جاوید منزل :حضرت علامہ اقبال ؒ نے ذاتی گھر کب اور کیسے بنایا؟

لاہور ایک طلسمی شہر ہے ۔اس کی کشش لوگوں کو ُدور ُدور سے کھینچ کر یہاں لےآ تی ہے۔یہاں بڑے بڑے عظیم لوگوں نے اپنا کریئر کا آغاز کیا اور اوجِ کمال کوپہنچے۔ انہی شخصیات میں حضرت علامہ اقبال ؒ بھی ہیں۔جو ایک بار لاہور آئے پھر لاہور سے جدا نہ ہوئے یہاں تک کہ ان کی آخری آرام گاہ بھی یہاں بادشاہی مسجد کے باہر بنی، جہاںکسی زمانے میں درختوں کے نیچے چارپائی ڈال کر گرمیوں میں آرام کیا کرتے تھے۔

چمگاڈر کی کہانی

یہ کہانی ایک چمگادڑ کی ہے۔ دراصل ایک مرتبہ باز، شیر کا شکار کیا ہوا گوشت لے اڑتا ہے۔ بس اسی بات پر پرند اور چرند کے درمیان جنگ شروع ہوجاتی ہے اور جنگ کے دوران چالاک چمگادڑ اس گروہ میں شامل ہوجاتی جو جیت رہا ہوتا ہے۔ آخر میں چمگادڑ کا کیا حال ہوتا ہے آئیں آپ کو بتاتے ہیں۔

عادل حکمران

پیارے بچو! ایران کا ایک منصف مزاج بادشاہ نوشیرواں گزرا ہے۔ اس نے ایک محل بنوانا چاہا۔ جس کیلئے زمین کی ضرورت تھی اور اس زمین پر ایک غریب بڑھیا کی جھونپڑی بنی ہوئی تھی۔

ذرامسکرائیے

پپو روزانہ اپنے میتھ کے ٹیچر کو فون کرتا ٹیچر کی بیوی: تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ انہوں نے سکول چھوڑ دیا ہے تم پھر بھی روزانہ فون کرتے ہو۔پپو: یہ بار بار سن کر اچھا لگتا ہے۔٭٭٭

خر بوزے

گول مٹول سے ہیں خربوزے شہد سے میٹھے ہیں خربوزے کتنے اچھے ہیں خربوزےبڑے مزے کے ہیں خربوزےبچو! پیارے ہیں خربوزے