شکر گزار کیسے بنیں؟

تحریر : روزنامہ دنیا


گرمیوں کے دن تھے، کامران انتظار کر رہا تھا کہ کب سکول کی چھٹی ہو اور وہ جلدی سے اپنے گھر پہنچ جائے۔ آخر کار چھٹی ہوئی اور وہ تیزی سے اپنی وین کی طرف دوڑا، اتفاق سے وین کا ٹائر پنکچر ہو گیا تھا اور ڈرائیور وہیل بدلنے میں مصروف تھا یہ دیکھ کر اسے غصہ تو بہت آیا مگر وہ کیا کر سکتا تھا، جب وہ تھکا ہارا سکول سے گھر آیا تو امی کو سلام کرنے کے بعد پوچھنے لگا ’’امی! بھوک لگی ہے، آج آپ نے کیا پکایا ہے‘‘؟

’’بیٹا! آلو گوبھی بنائی ہے، تم منہ ہاتھ دھو لو اور فریش ہو جائو، تب تک میں کھانا لگاتی ہوں‘‘ امی نے پیار سے کہا۔آلو گوبھی کا سنتے ہی کامران کا منہ بن گیا ’’میں نے نہیں کھانا۔ آپ کو پتہ ہے، مجھے صرف گوشت پسند ہے، سبزی بالکل اچھی نہیں لگتی، کل آپ نے بھنڈی بنائی تھی اور آج یہ آلو گوبھی بنا لی‘‘۔

’’کامی بیٹا! ایسا نہیں کہتے، اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔ دیکھو بیٹا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز انسان کے فائدے کیلئے پیدا کی ہے اور اتنی نعمتیں پیدا کی ہیں کہ ہم شکر بھی ادا نہیں کر سکتے۔ سبزی بھی ایک نعمت ہے اور بیٹا ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو بھی سبزی بہت پسند تھی۔ ہمیں بھی سنت پر عمل کرنا چاہئے نا‘‘۔ کامران پر امی کی باتوں کا کچھ اثر نہیں ہوا اور وہ منہ بنا کر بغیر کھانا کھائے اپنے کمرے میں چلا گیا۔

شام کو کامران کے ابو گھر آئے تو کامران کی امی کھانا گرم کرکے لائیںتو ابو نے کامران کے بارے میں پوچھا ’’ کیا بات ہے، کامران نے کھانا نہیں کھانا آج‘‘؟کامران کی امی نے بتایا ’’ وہ ناراض ہے۔ آج اس نے دوپہر کو بھی کھانا نہیں کھایا، کہہ رہا تھا کہ مجھے گوشت پسند ہے، آپ روز سبزی پکا لیتی ہیں‘‘۔

’’آپ خود بتائیں، اس مہنگائی کے دور میں عزت سے دو وقت کی روٹی چل جائے تو بہت ہے۔ اس لڑکے نے بہت ستایا ہوا ہے‘‘۔کامران کے ابو نے کامران کو آواز دے کر بلوایا۔ کامران آیا تو ابو بولے’’بیٹا! میں یہ کیا سن رہا ہوں، آپ کھانا نہیں کھا رہے۔ بیٹا میری محدود آمدنی ہے۔ہم روز گوشت تو نہیں پکا سکتے نا؟ ۔ بیٹا دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو سبزی یا دال بھی نہیں پکا سکتے ۔ کئی لوگ ایسے بھی ہیں، جو روکھی روٹی بھی نہیں کھا سکتے اور کئی کئی وقت فاقے کرتے ہیں، بیٹا ہمیں ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے‘‘۔

یہ سب باتیں سن کر کامران بہت شرمندہ ہوا اور کہنے لگا۔’’ ابو آپ ٹھیک کہتے ہیں، آئندہ میں اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہیں کروں گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگوں گا اور اسی میں نے آپ کو بھی بہت پریشان کیا ہے، آپ بھی مجھے معاف کر دیں‘‘ امی ،ابو نے کامران کو پیار کیا اور تینوں مل کر ہنسی خوشی کھانا کھانے لگے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

علامہ محمداقبالؒ کا فکروفلسفہ :شاعر مشرق کے فکر اور فلسفے کو عالمی شہرت ملی، مسلمانوں کو بے حد متاثر کیا

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبالؒ بیسویں صدی کی نابغہ روز گار شخصیت تھی۔ وہ ایک معروف شاعر، مفکر، فلسفی،مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کے اہم رہنما تھے۔اپنے فکر و فلسفہ اور سیاسی نظریات سے اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کو بے حد متاثر کیا۔ ان کے فکر اور فلسفے کو عالمی شہرت ملی۔

جاوید منزل :حضرت علامہ اقبال ؒ نے ذاتی گھر کب اور کیسے بنایا؟

لاہور ایک طلسمی شہر ہے ۔اس کی کشش لوگوں کو ُدور ُدور سے کھینچ کر یہاں لےآ تی ہے۔یہاں بڑے بڑے عظیم لوگوں نے اپنا کریئر کا آغاز کیا اور اوجِ کمال کوپہنچے۔ انہی شخصیات میں حضرت علامہ اقبال ؒ بھی ہیں۔جو ایک بار لاہور آئے پھر لاہور سے جدا نہ ہوئے یہاں تک کہ ان کی آخری آرام گاہ بھی یہاں بادشاہی مسجد کے باہر بنی، جہاںکسی زمانے میں درختوں کے نیچے چارپائی ڈال کر گرمیوں میں آرام کیا کرتے تھے۔

چمگاڈر کی کہانی

یہ کہانی ایک چمگادڑ کی ہے۔ دراصل ایک مرتبہ باز، شیر کا شکار کیا ہوا گوشت لے اڑتا ہے۔ بس اسی بات پر پرند اور چرند کے درمیان جنگ شروع ہوجاتی ہے اور جنگ کے دوران چالاک چمگادڑ اس گروہ میں شامل ہوجاتی جو جیت رہا ہوتا ہے۔ آخر میں چمگادڑ کا کیا حال ہوتا ہے آئیں آپ کو بتاتے ہیں۔

عادل حکمران

پیارے بچو! ایران کا ایک منصف مزاج بادشاہ نوشیرواں گزرا ہے۔ اس نے ایک محل بنوانا چاہا۔ جس کیلئے زمین کی ضرورت تھی اور اس زمین پر ایک غریب بڑھیا کی جھونپڑی بنی ہوئی تھی۔

ذرامسکرائیے

پپو روزانہ اپنے میتھ کے ٹیچر کو فون کرتا ٹیچر کی بیوی: تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ انہوں نے سکول چھوڑ دیا ہے تم پھر بھی روزانہ فون کرتے ہو۔پپو: یہ بار بار سن کر اچھا لگتا ہے۔٭٭٭

خر بوزے

گول مٹول سے ہیں خربوزے شہد سے میٹھے ہیں خربوزے کتنے اچھے ہیں خربوزےبڑے مزے کے ہیں خربوزےبچو! پیارے ہیں خربوزے