بڑوں کی نصیحت

تحریر : شہلا الیاس


سویرا! میں نے تمہیں آج سکول آتے دیکھا تو ہنسی نکل گئی۔ کیا تم آج بھی اپنی دادی کے ساتھ سکول آتی ہو، میرا مطلب ہے کہ اب ہم میٹرک میں آ گئے ہیں، اب تو اکیلی سکول آیا کرو،فرحانہ نے کہا۔

ہاں! میں اپنی دادی اور کبھی کبھی دادا کے ساتھ سکول آتی ہوں۔ تمہیں کیا مسئلہ ہے، میری مما کہتی ہیں کہ ہم جتنے بھی بڑے ہو جائیں، اپنے والدین کیلئے بچے ہی رہیں گے۔ سویرا نے فرحانہ کو جواب دیا اور غصے میں اس کے پاس سے اٹھ کر چلی گئی۔

’’اسے کیا ہوا؟‘‘ فرحانہ نے حیرت سے کلاس کی لڑکیوں سے پوچھا۔

’’ہمیں کیا پتا‘‘؟ ایک لڑکی نے جواب دیا اور سب اپنا اپنا لنچ کرنے لگیں۔ لنچ ٹائم ختم ہوا تب تک سویرا کا موڈ خراب تھا۔ چھٹی کے وقت اس کے دادا اسے لینے آئے۔ وہ گھر پہنچی تو اس کی امی کو بھی سویرا کا موڈ ٹھیک نہیں لگا۔ جب سب کھانا کھا چکے تو سویرا نے خود اپنی امی اور دادی کو ساری بات بتائی، جو اس کے اور فرحانہ کے درمیان ہوئی تھی۔

’’یہ فرحانہ کون ہے، میں نے پہلے تو کبھی آپ کے منہ سے یہ نام نہیں سنا‘‘’’مما! ہماری کلاس میں نئی لڑکی آئی ہے‘‘ سویرا نے جواب دیا۔

’بیٹی! فرحانہ یہ دوسری لڑکیاں آپ سے جو بولتی ہیں، انہیں بولنے دو، ہمیں آپ عزیز ہیں، ہم آپ کو اکیلے کہیں نہیں جانے دے سکتے۔ زمانہ پہلے بھی خراب تھا اور اب بھی خراب ہے۔ آپ کے ساتھ کسی کا جانا آپ کیلئے ہی بہتر ہے، اس طرح آپ حفاظت میں رہیں گی اور ہمیں بھی تسلی رہے گی‘‘۔ سویرا کی دادی نے کہا۔

کچھ دن گزرے تھے کہ فرحانہ چھٹی کے بعد تھوڑا دیر سے سکول سے پیدل گھر جانے لگی، اس کے گھر کے راستے میں سویرا کا گھر پڑتا تھا۔ سویرا کا گھر سکول سے نزدیک ہی تھا مگر وہ پھر بھی کسی بڑے کے ساتھ سکول پیدل آتی تھی۔ فرحانہ کو راستے میں عجیب سے حلیے میں ایک عورت اور مرد نظر آئے۔ پہلے تو اس نے خاص نوٹس نہ لیا، وہ فرحانہ سے چند قدم کے فاصلے پر ان کے پیچھے چلنے لگیں، تھوڑی دیر گزری تھی کہ فرحانہ کو ان سے ڈر لگنے لگا۔ اس نے سوچا کہ اگلی سنسان گلی میں مڑنے سے بہتر ہے کہ رش والی سڑک سے جایا جائے۔ وہ بہت خوف زدہ ہو رہی تھی کہ اس انجان عورت نے پیچھے سے آواز دے کر اسے رکنے کو کہا۔

 فرحانہ نے اس کی آواز سنی ان سنی کر دی اور تیز تیز قدم اٹھانے لگی بلکہ بھاگنے لگی۔ اس کے پیچھے ان دونوں مرد و عورت کے قدیم بھی تیز ہونے لگے۔ اب فرحانہ کو کچھ سمجھ نہ آ رہا تھا کہ کیا کرے، کیسے ان سے پیچھا چھڑائے۔ 

گلی کے نکڑ پر سویرا کا گھر تھا پھر رش والی سڑک شروع ہوتی تھی۔ اس رش والی سڑک سے اس کے گھر کا راستہ بہت لمبا پڑتا، اس نے فوراً سویرا کے گھر جانے کا سوچا بلکہ سوچا کیا، اس کے قدم خود بخود سویرا کے گھر کی طرف اٹھ گئے۔ 

وہاں پہنچ کر اس نے دروازہ زور زور سے کھٹکھٹانا شروع کر دیا، ساتھ ہی گھر کی گھنٹی پر تو جیسے ہاتھ رکھ کے بھول گئی اور اونچا اونچا بولنے لگی کہ جلدی دروازہ کھولو، میرے پیچھے کچھ لوگ پڑے ہیں، جلدی کھولو دروازہ۔

 سویرا کے گھر والے اچانک اس طرح سے دروازہ پیٹنے اور گھنٹی کے آواز سے گھبرا کر دروازے کی طرف بھاگے اور دروازے کے قریب پہنچ کر فرحانہ کی آوازوں سے اور پریشان ہو گئے، جھٹ دروازہ کھول دیا، دوسری طرف وہ مشکوک مرد اور عورت فرحانہ کو اس طرح دروازہ بجاتے دیکھ کر بھاگ گئے۔ 

اندر سے جلدی سے سویرا کے سارے گھر والے نکل آئے اور سویرا کا بڑا بھائی دروازے کے پاس پڑا ڈنڈا اٹھا لایا کہ یہ کون اس طرح سے دوپہر میں دروازے پر دستک پہ دستک دیئے جا رہا ہے۔ آیا واقعی مدد کیلئے پکار رہا ہے یا فراڈیئے تو نہیں آ گئے۔ 

دروازہ کھولتے ہی فرحانہ نے سویرا کو آواز دی۔’’امی یہ وہی فرحانہ ہے، جس کا میں نے آپ کو کچھ دن پہلے بتایا تھا‘‘سویرا نے کہا۔

اندر آکر فرحانہ، سویرا کی امی کے گلے لگ کر رونے لگی اور جو واقعہ پیش آیا تھا، وہ سب کو بتایا۔ وہ سویرا سے بہت شرمندہ ہو رہی تھی کہ کچھ دن پہلے اس نے کیسے سویرا کا کسی بڑے کے ساتھ سکول آنے پر مذاق بنایا تھا۔

’’چلو بیٹی میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ کر آتی ہوں، تمہارے گھر والے انتظار کرتے ہوں گے‘‘۔ سویرا کی دادی نے کہا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

علامہ محمداقبالؒ کا فکروفلسفہ :شاعر مشرق کے فکر اور فلسفے کو عالمی شہرت ملی، مسلمانوں کو بے حد متاثر کیا

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبالؒ بیسویں صدی کی نابغہ روز گار شخصیت تھی۔ وہ ایک معروف شاعر، مفکر، فلسفی،مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کے اہم رہنما تھے۔اپنے فکر و فلسفہ اور سیاسی نظریات سے اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کو بے حد متاثر کیا۔ ان کے فکر اور فلسفے کو عالمی شہرت ملی۔

جاوید منزل :حضرت علامہ اقبال ؒ نے ذاتی گھر کب اور کیسے بنایا؟

لاہور ایک طلسمی شہر ہے ۔اس کی کشش لوگوں کو ُدور ُدور سے کھینچ کر یہاں لےآ تی ہے۔یہاں بڑے بڑے عظیم لوگوں نے اپنا کریئر کا آغاز کیا اور اوجِ کمال کوپہنچے۔ انہی شخصیات میں حضرت علامہ اقبال ؒ بھی ہیں۔جو ایک بار لاہور آئے پھر لاہور سے جدا نہ ہوئے یہاں تک کہ ان کی آخری آرام گاہ بھی یہاں بادشاہی مسجد کے باہر بنی، جہاںکسی زمانے میں درختوں کے نیچے چارپائی ڈال کر گرمیوں میں آرام کیا کرتے تھے۔

چمگاڈر کی کہانی

یہ کہانی ایک چمگادڑ کی ہے۔ دراصل ایک مرتبہ باز، شیر کا شکار کیا ہوا گوشت لے اڑتا ہے۔ بس اسی بات پر پرند اور چرند کے درمیان جنگ شروع ہوجاتی ہے اور جنگ کے دوران چالاک چمگادڑ اس گروہ میں شامل ہوجاتی جو جیت رہا ہوتا ہے۔ آخر میں چمگادڑ کا کیا حال ہوتا ہے آئیں آپ کو بتاتے ہیں۔

عادل حکمران

پیارے بچو! ایران کا ایک منصف مزاج بادشاہ نوشیرواں گزرا ہے۔ اس نے ایک محل بنوانا چاہا۔ جس کیلئے زمین کی ضرورت تھی اور اس زمین پر ایک غریب بڑھیا کی جھونپڑی بنی ہوئی تھی۔

ذرامسکرائیے

پپو روزانہ اپنے میتھ کے ٹیچر کو فون کرتا ٹیچر کی بیوی: تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ انہوں نے سکول چھوڑ دیا ہے تم پھر بھی روزانہ فون کرتے ہو۔پپو: یہ بار بار سن کر اچھا لگتا ہے۔٭٭٭

خر بوزے

گول مٹول سے ہیں خربوزے شہد سے میٹھے ہیں خربوزے کتنے اچھے ہیں خربوزےبڑے مزے کے ہیں خربوزےبچو! پیارے ہیں خربوزے