دلچسپ و عجیب

تحریر : روزنامہ دنیا


دنیا کا سب سے لمبا اور زہریلا سانپ ’’کنگ کوبرا ‘‘\'ہے۔جسے مقامی زبان میں شیش ناگ کہتے ہیں۔عام طور پر اس کی لمبائی تیرہ فٹ ہوتی ہے۔اور وہ اپنے جسم کا ایک تہائی یعنی چار فٹ حصہ زمین سے کھڑا کر سکتا ہے۔کنگ کوبرا کی لمبائی18فٹ تک بھی ہو سکتی ہے۔اس کے پھن پر بنے ہوئے دو آنکھوں جیسے نشان اس کی دہشت میں اور بھی اضافہ کرتے ہیں۔اس کے حوالے سے بہت سی داستانیں مشہور ہیں۔

یہ گوشت خور ہے جس کا کاٹا ہوا جاندارچند ہی منٹوں میں مر جاتا ہے،کیونکہ اس کا زہر دوسرے سانپوں سے بہت زیادہ تیز ہے۔جب کسی جاندار کو کنگ کوبرا کاٹ لیتاہے تو اس کا دل اور پھیپھڑے فوراً کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔یہ ایک دفعہ کاٹنے میں اپنے ڈنک سے اتنا زہر نکالتا ہے جو بیس آدمیوں یا ایک ہاتھی کو جان سے مار دینے کیلئے کافی ہوتا ہے۔

کنگ کوبرا ہندوستان ،چین کے جنوبی حصے اور شمال ایشیا کے سرسبز علاقوں میں پایا جاتا ہے۔یہ زیادہ ترسانپوں،چھپکلیوں،ان کے انڈوں یا دوسرے چھوٹے جانوروںکو کھاتا ہے۔دوسرے سانپوں کی طرح یہ بھی شکار کوثابت نگل لیتا ہے اور سب سے پہلے اس کا سر کھاتا ہے۔سانپ اپنے شکار کو چبا نہیں سکتا،اس لیے اس کے پیٹ کے اندر نہایت تیز تیزاب بنتا ہے جس کی وجہ سے اُس کا کھانا ہضم ہو جاتا ہے۔کسی بڑے شکار کو کھانے میں کوبرا کو کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں،مگر اس کے بعد وہ کئی مہینے کچھ کھائے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔

کنگ کوبرا دنیا میں واحد ایسا سانپ ہے جو خود اپنا گھر بنا کر اس میں انڈے دیتا ہے۔مادہ شیش ناگ بہار کے موسم میں بیس سے پچاس انڈے دیتی ہے اور ان کی سختی سے حفاظت کرتی ہے۔ انڈوں سے جوکنگ کوبرا نکلتے ہیں وہ تقریباًڈیڑھ فٹ لمبے ہوتے ہیں اور پہلے ہی دن سے بہت زہریلے ہوتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

حکومت کے معاشی و سیاسی چیلنجز

الیکشن اور حکومت سازی میں مشکلات کو عبور کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کو اب حکومت چلانے میں نئی مشکلات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے بڑا چیلنج ہے معاشی عدم استحکام اور بڑھتی ہوئی مہنگائی۔حال ہی میں ختم ہونے والے آئی ایم ایف پروگرام کی کڑی شرائط خصوصاً ًپٹرولیم، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے نے مہنگائی میں جو اضافہ کیا ہے اس سے مہنگائی کے شعلے کچھ ایسے بے قابو ہوئے ہیں کہ یہ اب ہر سمت پھیلتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ایک اور آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے ۔

حکومت مخالف تحریک اور حکومتی صف بندی

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بنے ہوئے ابھی دو ماہ ہی ہوئے ہیں اور حکومت خود کو ملک کے حالات کے تناظر میں سنبھالنے کی کوشش کررہی ہے مگر اس کو مختلف محاذوں پر مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے ۔

الزامات لگاتے رہو،کام نہ کرو!

سندھ کی سیاست بڑی عجیب ہے، یہاں ایک دوسرے پر الزامات اور پھر جوابی الزامات کا تسلسل چلتا رہتا ہے۔ اگر نہیں چلتی تو عوام کی نہیں چلتی۔ وہ چلاتے رہیں، روتے رہیں، ان کی پکار سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ پیپلز پارٹی میں البتہ ایک صلاحیت دوسری تمام سیاسی جماعتوں سے زیادہ ہے، اور وہ یہ کہ کم از کم عوام کو بولنے کا موقع تو دیتی ہے۔ شاید وہ اس مقولے پر عمل کرتی ہے کہ بولنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے، اور عوام بھی تھک ہار کر ایک بار پھر مہنگائی اور مظالم کا سامنا کرنے کیلئے خود کو تیار کرلیتے ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں سیاست کی۔

خیبر پختونخوا کے دوہرے مسائل

خیبرپختونخوا اس وقت بارشوں،مہنگائی، چوری رہزنی اور بدامنی کی زد میں ہے ۔حالات ہیں کہ آئے روز بگڑتے چلے جارہے ہیں۔

بلوچستان،صوبائی کابینہ کی تشکیل کب ہو گی ؟

آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ صوبائی حکومت اور کابینہ کی تشکیل تین ہفتوں تک کردی جائے گی اور انتخابات کی وجہ سے التوا کا شکار ہونے والے منصوبوں پر کام کا آغاز کردیا جائے گا مگر دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صوبے میں اب تک صوبائی اسمبلی کے تعارفی اجلاس اور وزیر اعلیٰ کے حلف اٹھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوسکا۔

آزادکشمیر حکومت کی ایک سالہ کارکردگی

20 اپریل کو آزاد جموں وکشمیر کی اتحادی حکومت کا ایک سال مکمل ہوجائے گا۔ گزشتہ سال آزاد جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی طرف سے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو نا اہل قرار دیا گیا تو مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک کے ارکان نے مشترکہ طور پر چوہدری انوار الحق کو وزیر اعظم بنالیا جو اُس وقت آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر تھے۔ حلف اٹھانے کے بعد چوہدری انوار الحق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آزاد کشمیر میں تعمیر وترقی، اچھی حکمرانی ، میرٹ کی بالادستی اور کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی کی عملی کوشش کریں گے۔