پاکستان سپر لیگ،سیزن 9:دھواں دار کرکٹ،شائقین کا جوش دوبالا

تحریر : زاہد اعوان


کرکٹ کے عالمی ستاروں نے اپنے شاندار اور دھواں دار کھیل کی بدولت پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل 9)شائقین کرکٹ کا جوش بھی دوبالا کردیا۔

 ایک طرف دنیائے کرکٹ کے تیز ترین بائولرز وکٹیں اڑارہے ہیں تو وہیں سپنرز اپنی جادوئی گیندوں سے بلے بازوں کو گھما رہے ہیں جبکہ دوسری طرف بلے باز اپنے شاندار چوکوں اور زوردار چھکوں کی بدولت شائقین سے خوب داد وصول کر رہے ہیں۔لاہور قلندرز نے نہ صرف افتتاحی میچ میں لاہوری شائقین کو مایوس کیا بلکہ ابتدائی تینوں میچوں میں شکست کھائی،جبکہ ملتان سلطانز کی ٹیم نے مسلسل کامیابیاں حاصل کر کے حریف ٹیموں پر دھاک بٹھا دی ہے جبکہ پوائنٹس ٹیبل پر بھی سرفہرست ہے۔ پشاور زلمی نے بھی آغاز مایوس کن کیا ۔ پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز کے نویں ایڈیشن کے آغاز سے ہی مسلسل شکست نے کرکٹ شائقین کو افغانستان کے لیگ سپنر راشد خان کی یاد دلا دی ہے۔ لاہور قلندرز کو ابتدائی میچز میں اسلام آباد یونائیٹڈ ، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔یاد رہے کہ راشد خان کی لاہور قلندرز کے سکواڈ میں موجودگی کے دوران ٹیم نے 28 میچز میں سے 18 میں کامیابی حاصل کی تھی جبکہ راشد خان کی غیر موجودگی میں قلندرز 59 میچز میں سے محض 22 میں کامیابی حاصل کر سکی۔پی ایس ایل میں ہونے والے میچز کے اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ راشد خان کے ٹیم میں نہ ہونے پر لاہور قلندرز کو بڑا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے رواں ایڈیشن میں راشد خان کمر کی سرجری کے باعث شریک نہیں ہو سکے ہیں۔

پاکستان سپرلیگ کے گزشتہ آٹھ سیزن میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز وہ ٹیمیں ہیں جو اب تک پی ایس ایل ٹرافی 2، 2بار جیت چکی ہیں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ 2016ء اور 2018ء میں چیمپئن بنی۔ 2017ء کا ٹائٹل پشاور زلمی جبکہ 2019ء میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے نام رہا۔ 2020ء میں کورونا وائرس سے متاثرہ سیزن میں کراچی کنگز کی ٹیم فاتح رہی جبکہ 2021ء کی ٹرافی ملتان سلطانز کے نام رہی۔ 2022ء اور 2023ء میں مسلسل 2ٹائٹل جیت کر لاہور قلندرز نے نئی تاریخ رقم کی اور اب وہ ٹائٹل ہیٹرک کے خواب دیکھ رہی ہے۔ ابتدائی میچز کی کارکردگی دیکھتے ہوئے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شاید اس بار شاہین شاہ آفریدی کی بجائے کوئی دوسرا کپتان ٹرافی اٹھائے گا۔

 پی ایس ایل کے رواں ایڈیشن کا پہلا مرحلہ لاہور کے قذافی سٹیڈیم اور ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں جاری ہے ، جس میں 27 فروری تک 14 میچز کھیلے جائیں گے، جس کے بعد کرکٹ کے قومی و عالمی ستارے راولپنڈی کے پنڈی کرکٹ سٹیڈیم اور کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں چمکیں گے۔ جہاں چوکوں وچھکوں کی بہار میں28 فروری سے 12 مارچ تک 16 میچ کھیلے جائیں گے۔ اس کے بعد ٹورنامنٹ پلے آف کیلئے مکمل طور پر کراچی منتقل ہو جائے گا۔34 میچوں کے پی ایس ایل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے دوران، کراچی 11 میچوں کی میزبانی کرے گا، جن میں کوالیفائر، دو ایلی مینیٹر اور فائنل شامل ہیں۔ لاہور کا قذافی سٹیڈیم اور راولپنڈی کا پنڈی کرکٹ سٹیڈیم نو،نو میچز کی میزبانی کریں گے، جبکہ اولیاء کے شہر ملتان میں شائقین آج تک پانچ میچوں سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔پی ایس ایل شیڈول کے مطابق لیگ کے آخری میچز رمضان المبارک کے دوران ہوں گے۔رمضان المبارک میں میچ رات 9  بجے شروع ہوگا تاکہ کرکٹرز سمیت شائقین نماز ادا کر کے سٹیڈیم کا رخ کرسکیں۔

پی ایس ایل 9کے دوران کچھ بد انتظامیاں بھی سامنے آئی ہیں۔اس بار شائقین کو پارکنگ سے سٹیڈیم تک شٹل سروس فراہم نہیں کی گئی۔  ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں اسلام آبادیونائیٹڈ اور ملتان سلطانز کے درمیان پانچویں میچ میں لائٹ ٹاور میں خرابی کے باعث میچ روکنا پڑا، جبکہ سٹیڈیم میں انٹر نیٹ سروس بھی معطل رہی۔ رواں ایونٹ کے پہلے میچ میں لائیو ٹیلی کاسٹ مسائل تھے جس کے باعث تقریباً5 اوورز کا کھیل دنیا بھر میں نہ دکھایا جاسکا تھا۔ پاکستان سپرلیگ کے سیزن 9میں بھی کئی ریکارڈز بننے لگے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے بادشاہ بابراعظم نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل 9)کے پہلے ہی میچ میں تاریخ رقم کردی۔ قذافی سٹیڈیم لاہورمیں کھیلے گئے میچ میں بابر اعظم نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف42 گیندوں پر تقریباََ162 کے سٹرائیک ریٹ سے 68 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس کے ساتھ ہی مایہ نازبلے بازپاکستان سپرلیگ میں3003 ہزار رنز کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔بابراعظم نے پی ایس ایل میں اب تک 80 میچز کی 78 اننگز میں مجموعی طور پر 3 ہزار 4 رنز سکور کیے، انہوں نے ابھی تک 327چوکوں اور 50چھکوں کی مدد سے پی ایس ایل میں 1 سنچری اور29 نصف سنچریاں بھی بنائیں۔اس فہرست میں دوسرا نمبر لاہور قلندرز کے اوپنر فخرزمان کا ہے، جنہوں نے77 اننگز میں 2381رنز بنائے، اس دوران انہوں نے2 سنچریاں اور 18 نصف سنچریاں سکور کیں۔تیسرے نمبر پر 2 ہزار 135 رنز کے ساتھ شعیب ملک اور محمد رضوان 2 ہزار سے زائد رنز کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ایک اور اعزازبھی اپنے نام کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی میں دس ہزار رنز مکمل کر لئے، انہوں نے 271اننگز کھیل کرٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں تیز ترین 10ہزار مکمل کرکے کرس گیل کو پیچھے چھوڑ دیا۔ کرس گیل285اور بھارت کے ویرات کوہلی 299ٹی ٹوئنٹی اننگز میں 10ہزار رنز مکمل کرکے بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ بابر سے قبل پاکستان کی جانب سے شعیب ملک کو یہ اعزاز حاصل تھا۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی دنیا میں صرف 12بیٹرز یہ سنگ میل عبور کرچکے ہیں جن میں کرس گیل، شعیب ملک، کیرون پولارڈ، ایلکس ہیلز، ڈیوڈ وارنر، ویرات کوہلی، ایرون فنچ، روہت شرما، جوش بٹلر، کولن منرو، جیمز ونس اور ڈیوڈ ملر شامل ہیں۔

پی ایس ایل 9: میچ شیڈول

چارٹ

پاکستان سپرلیگ کے سیزن 9میں بھی کئی ریکارڈز بننے لگے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے بادشاہ بابراعظم نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل 9)کے پہلے ہی میچ میں تاریخ رقم کردی۔ قذافی سٹیڈیم لاہورمیں کھیلے گئے میچ میں بابر اعظم نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف42 گیندوں پر تقریباََ162 کے سٹرائیک ریٹ سے 68 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس کے ساتھ ہی مایہ نازبلے بازپاکستان سپرلیگ میں3003 ہزار رنز کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔بابراعظم نے پی ایس ایل میں اب تک 80 میچز کی 78 اننگز میں مجموعی طور پر 3 ہزار 4 رنز سکور کیے، انہوں نے ابھی تک 327چوکوں اور 50چھکوں کی مدد سے پی ایس ایل میں 1 سنچری اور29 نصف سنچریاں بھی بنائیں۔اس فہرست میں دوسرا نمبر لاہور قلندرز کے اوپنر فخرزمان کا ہے، جنہوں نے77 اننگز میں 2381رنز بنائے، اس دوران انہوں نے2 سنچریاں اور 18 نصف سنچریاں سکور کیں۔تیسرے نمبر پر 2 ہزار 135 رنز کے ساتھ شعیب ملک اور محمد رضوان 2 ہزار سے زائد رنز کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ایک اور اعزازبھی اپنے نام کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی میں دس ہزار رنز مکمل کر لئے، انہوں نے 271اننگز کھیل کرٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں تیز ترین 10ہزار مکمل کرکے کرس گیل کو پیچھے چھوڑ دیا۔ کرس گیل285اور بھارت کے ویرات کوہلی 299ٹی ٹوئنٹی اننگز میں 10ہزار رنز مکمل کرکے بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ بابر سے قبل پاکستان کی جانب سے شعیب ملک کو یہ اعزاز حاصل تھا۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی دنیا میں صرف 12بیٹرز یہ سنگ میل عبور کرچکے ہیں جن میں کرس گیل، شعیب ملک، کیرون پولارڈ، ایلکس ہیلز، ڈیوڈ وارنر، ویرات کوہلی، ایرون فنچ، روہت شرما، جوش بٹلر، کولن منرو، جیمز ونس اور ڈیوڈ ملر شامل ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

حکومت کے معاشی و سیاسی چیلنجز

الیکشن اور حکومت سازی میں مشکلات کو عبور کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کو اب حکومت چلانے میں نئی مشکلات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے بڑا چیلنج ہے معاشی عدم استحکام اور بڑھتی ہوئی مہنگائی۔حال ہی میں ختم ہونے والے آئی ایم ایف پروگرام کی کڑی شرائط خصوصاً ًپٹرولیم، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے نے مہنگائی میں جو اضافہ کیا ہے اس سے مہنگائی کے شعلے کچھ ایسے بے قابو ہوئے ہیں کہ یہ اب ہر سمت پھیلتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ایک اور آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے ۔

حکومت مخالف تحریک اور حکومتی صف بندی

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بنے ہوئے ابھی دو ماہ ہی ہوئے ہیں اور حکومت خود کو ملک کے حالات کے تناظر میں سنبھالنے کی کوشش کررہی ہے مگر اس کو مختلف محاذوں پر مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے ۔

الزامات لگاتے رہو،کام نہ کرو!

سندھ کی سیاست بڑی عجیب ہے، یہاں ایک دوسرے پر الزامات اور پھر جوابی الزامات کا تسلسل چلتا رہتا ہے۔ اگر نہیں چلتی تو عوام کی نہیں چلتی۔ وہ چلاتے رہیں، روتے رہیں، ان کی پکار سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ پیپلز پارٹی میں البتہ ایک صلاحیت دوسری تمام سیاسی جماعتوں سے زیادہ ہے، اور وہ یہ کہ کم از کم عوام کو بولنے کا موقع تو دیتی ہے۔ شاید وہ اس مقولے پر عمل کرتی ہے کہ بولنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے، اور عوام بھی تھک ہار کر ایک بار پھر مہنگائی اور مظالم کا سامنا کرنے کیلئے خود کو تیار کرلیتے ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں سیاست کی۔

خیبر پختونخوا کے دوہرے مسائل

خیبرپختونخوا اس وقت بارشوں،مہنگائی، چوری رہزنی اور بدامنی کی زد میں ہے ۔حالات ہیں کہ آئے روز بگڑتے چلے جارہے ہیں۔

بلوچستان،صوبائی کابینہ کی تشکیل کب ہو گی ؟

آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ صوبائی حکومت اور کابینہ کی تشکیل تین ہفتوں تک کردی جائے گی اور انتخابات کی وجہ سے التوا کا شکار ہونے والے منصوبوں پر کام کا آغاز کردیا جائے گا مگر دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صوبے میں اب تک صوبائی اسمبلی کے تعارفی اجلاس اور وزیر اعلیٰ کے حلف اٹھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوسکا۔

آزادکشمیر حکومت کی ایک سالہ کارکردگی

20 اپریل کو آزاد جموں وکشمیر کی اتحادی حکومت کا ایک سال مکمل ہوجائے گا۔ گزشتہ سال آزاد جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی طرف سے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو نا اہل قرار دیا گیا تو مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک کے ارکان نے مشترکہ طور پر چوہدری انوار الحق کو وزیر اعظم بنالیا جو اُس وقت آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر تھے۔ حلف اٹھانے کے بعد چوہدری انوار الحق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آزاد کشمیر میں تعمیر وترقی، اچھی حکمرانی ، میرٹ کی بالادستی اور کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی کی عملی کوشش کریں گے۔