آئی رت بہار کی!

تحریر : سارہ خان


ہر سال موسم بہار آتا ہے اور ہر سال ہی اس کا استقبال کچھ ایسے انداز سے کیا جاتا ہے کہ جیسے نئی بات ہو۔ویسے ملبوسات کی بات کی جائے تو اس موسم میں ہر رنگ منفرد اور ہر لباس من موہنا لگنے لگتا ہے۔ جیسے بہار،ہمارے مزاج کو بدل دیتی ہے،ویسے ہی موسم کے ساتھ فیشن میں ان ہو جانے والے دلفریب ملبوسات بھی ہماری خوشی کا اہم سبب ہوتے ہیں۔خواتین کیلئے اس موسم میں ملبوسات کی تیاری اس لیے بھی دلچسپ ہوجاتی ہے کہ سردی کے روکھے پھیکے سوئیٹر اور شالوں سے دل اوب چکا ہوتا ہے اور بہار کے خوش رنگ دل میں بس جانے والے ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارا مشورہ ہے کہ بہار کی آمد پر جذباتی ہونے پر فیشن کو فراموش نہ کیجئے،بلکہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر اپنے بہار ملبوسات سلوانے کی تیاری کیجئے۔اس کیلئے ظاہر ہے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ آج کل کس قسم کے ملبوسات پسند کیے جارے ہیں۔

لمبی فراکیں: فیشن پر نظر رکھنے والی خواتین جانتی ہیں کہ آجکل لمبی فراکیں، انگرکھا اسٹائل میں بھی  ان ہیں، روایتی انداز میں بھی اور مغربی گائون ڈریس کی شکل میں بھی۔ آپ اپنی پسند کے مطابق انہیں اپنا سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ نئے انداز کی ان فراکوں کو سلوانے میں عام قمیص سے زیادہ کپڑا درکار ہوتا ہے مثلاً اگر عام قمیص ڈھائی گز میں تیار ہوتی ہے تو اس فراک کیلئے تقریباً پانچ گز کپڑا چاہے ہوگا۔

پشواس: یہ آج کل کا سب سے مقبول انداز ہے،لمبی چولی کے ساتھ چار انچ نیچے تک ہو، آستین لمبی ہو اور گلا دلفریب انداز میں بنایا گیا  ہو تو سمجھ لیجئے آپ نے روایتی اور دلکش پشواس تیار کرلی ہے، گل وگلزار کی عکاسی بیل، ایپلک اور موتی ستارے ٹانگ لیں۔

انگرکھا فراک : انگرکھا فراک کا یہ سٹائل دو انداز میں مقبول ہے،ایک تو وہ جس کی لمبائی مختصر ہوتی ہے اور دوسرا انداز جو پشواس کی طرح ہی گھنٹوں سے کئی انچ نیچے تک ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اکثر لڑکیاں چوڑی دار پاجامہ پہننا پسند کرتی ہیں۔ویسے ہمارا مشورہ ہے کہ چوڑی دار پاجامے کے بجائے انگرکھا کے ساتھ گھیر والے پاجامے کا انتخاب کیا جائے تاکہ نیا لک آپ کو منفرد بنا دے۔ انگرکھا کی چولی کے ساتھ گھیر جتنا زیادہ ہو گا، لباس کی دلکشی میں اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے۔

گائون سٹائل کی فراک : مغربی انداز کو مشرقی انداز میں اپنائیں، اسے فرشی فراک بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کی لمبائی آپ کے پیروں تک ہو گی۔ کچھ عرصہ پہلے یہ انداز متعارف ہوا تھا اور اب ایک پھر یہ فیشن کے میدان میں خوب مقبول  ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

حکومت کے معاشی و سیاسی چیلنجز

الیکشن اور حکومت سازی میں مشکلات کو عبور کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کو اب حکومت چلانے میں نئی مشکلات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے بڑا چیلنج ہے معاشی عدم استحکام اور بڑھتی ہوئی مہنگائی۔حال ہی میں ختم ہونے والے آئی ایم ایف پروگرام کی کڑی شرائط خصوصاً ًپٹرولیم، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے نے مہنگائی میں جو اضافہ کیا ہے اس سے مہنگائی کے شعلے کچھ ایسے بے قابو ہوئے ہیں کہ یہ اب ہر سمت پھیلتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ایک اور آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے ۔

حکومت مخالف تحریک اور حکومتی صف بندی

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بنے ہوئے ابھی دو ماہ ہی ہوئے ہیں اور حکومت خود کو ملک کے حالات کے تناظر میں سنبھالنے کی کوشش کررہی ہے مگر اس کو مختلف محاذوں پر مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے ۔

الزامات لگاتے رہو،کام نہ کرو!

سندھ کی سیاست بڑی عجیب ہے، یہاں ایک دوسرے پر الزامات اور پھر جوابی الزامات کا تسلسل چلتا رہتا ہے۔ اگر نہیں چلتی تو عوام کی نہیں چلتی۔ وہ چلاتے رہیں، روتے رہیں، ان کی پکار سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ پیپلز پارٹی میں البتہ ایک صلاحیت دوسری تمام سیاسی جماعتوں سے زیادہ ہے، اور وہ یہ کہ کم از کم عوام کو بولنے کا موقع تو دیتی ہے۔ شاید وہ اس مقولے پر عمل کرتی ہے کہ بولنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے، اور عوام بھی تھک ہار کر ایک بار پھر مہنگائی اور مظالم کا سامنا کرنے کیلئے خود کو تیار کرلیتے ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں سیاست کی۔

خیبر پختونخوا کے دوہرے مسائل

خیبرپختونخوا اس وقت بارشوں،مہنگائی، چوری رہزنی اور بدامنی کی زد میں ہے ۔حالات ہیں کہ آئے روز بگڑتے چلے جارہے ہیں۔

بلوچستان،صوبائی کابینہ کی تشکیل کب ہو گی ؟

آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ صوبائی حکومت اور کابینہ کی تشکیل تین ہفتوں تک کردی جائے گی اور انتخابات کی وجہ سے التوا کا شکار ہونے والے منصوبوں پر کام کا آغاز کردیا جائے گا مگر دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صوبے میں اب تک صوبائی اسمبلی کے تعارفی اجلاس اور وزیر اعلیٰ کے حلف اٹھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوسکا۔

آزادکشمیر حکومت کی ایک سالہ کارکردگی

20 اپریل کو آزاد جموں وکشمیر کی اتحادی حکومت کا ایک سال مکمل ہوجائے گا۔ گزشتہ سال آزاد جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی طرف سے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو نا اہل قرار دیا گیا تو مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک کے ارکان نے مشترکہ طور پر چوہدری انوار الحق کو وزیر اعظم بنالیا جو اُس وقت آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر تھے۔ حلف اٹھانے کے بعد چوہدری انوار الحق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آزاد کشمیر میں تعمیر وترقی، اچھی حکمرانی ، میرٹ کی بالادستی اور کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی کی عملی کوشش کریں گے۔