نو عمر لڑکیاں اور جلد کے مسائل

تحریر : مہوش اکرم


آپ کیلئے یہ جانناضروری ہے کہ یہ معمول کب شروع کرنا ہے۔جلد کی دیکھ بھال کے صحیح سفر کو شروع کرنا صرف بالغوں کے لییہی ضروری نہیں بلکہ یہ اپنا خیال رکھنے کی شروعات کرنے کا ایک اہم پہلو ہے جو نوعمری کے دوران شروع ہونا چاہیے۔ اگرچہ نوعمری کے سالوں میں اکثر ہارمونل تبدیلیوں سے مہاسے ہو جاتے ہیں، جلد کی دیکھ بھال کا ایک مناسب معمول قائم کرنا جوانی تک صحت مند، چمکتی ہوئی جلد کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔تو آیئے ایک ایک کرکے آپ کو ٹین ایج سکن کیئر کے طریقہ کارکابتاتے ہیں۔

  جلد کی دیکھ بھال کب سے

 شروع کرنی چاہیے اور کیوں؟

عمر کے لحاظ سے جلد کی دیکھ بھال کی مصنوعات کا استعمال بہت اہم ہے کیونکہ نوعمروں میں ہارمونل تبدیلیوں کے نتیجے میں تیل کی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہاسوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جلد کی دیکھ بھال کا صحیح معمول صحت مند طرز عمل کو فروغ دیتا ہے جو طویل مدتی جلد کی صحت کی حمایت کرتے ہیں۔ دوسری طرف، اس مسابقتی دنیا میں ایک پراعتماد نوجوان بالغ ہونا زیادہ ضروری ہے۔وہ نوجوان جو جلد کی دیکھ بھال کے باقاعدہ طریقہ کار کی پیروی کرتے ہیں وہ زندگی بھر کے اچھے رویے کی بنیاد قائم کرتے ہیں۔

سب سے پہلے اپنی جلد کی قسم جانیں

جلد کی دیکھ بھال کا کوئی بھی معمول شروع کرنے سے پہلے اپنی جلد کی قسم جاننا پہلا قدم ہے۔ نوعمروں کی چکنی، خشک، امتزاج یا حساس جلد ہوسکتی ہے۔ دن بھر، اپنی جلد پر نظر رکھیں۔ کیا یہ خشک، تیل، یا دونوں کا مجموعہ لگتا ہے؟ آپ کی جلد کی قسم کو سمجھنا آپ کو پروڈکٹ کا دانشمندانہ انتخاب کرنے اور پیداواری معمول بنانے میں مدد کرتا ہے۔

باقاعدگی سے صفائی 

کرنا نہ بھولیں

کسی بھی جلد کی دیکھ بھال کے طریقہ کار کی بنیاد صفائی ہے۔ اپنے چہرے کو دن میں دو بار دھونا ضروری ہے، صبح کے وقت اور سونے سے پہلے۔ ایک ہلکا، سلفیٹ سے پاک کلینزر کا انتخاب کریں۔ یہ بریک آؤٹ کو روکتا ہے اور گندگی، اضافی تیل اور آلودگی کو ہٹا کر صاف سطح بناتا ہے۔

موئسچرائزر کو اپنا بہترین دوست بنائیں

اگر آپ کی جلد روغنی ہو تب بھی موئسچرائزر کو کبھی نہ چھوڑیں۔ اپنی جلد کو ہائیڈریٹ رکھنے کیلئے ہلکا پھلکا موئسچرائزر استعمال کریں۔ جلد میں ضرورت سے زیادہ تیل بننے سے روک کر، موئسچرائزنگ تیل کی پیداوار کو متوازن کرنے میں مدد دیتی ہے۔

سخت اجزاء کو ’’نو‘‘کہیں

سخت اجزاء والی سکن کیئر پروڈکٹس سے پرہیز کریں کیونکہ یہ جوان، نازک جلد کو خراب کر سکتے ہیں۔ بہت زیادہ کیمیکلز، الکوحل یا بہت زیادہ خوشبو والی مصنوعات سے پرہیز کرنا چاہیے۔ 

مصنوعات کا انتخاب کرنے سے پہلے، اس بات کو یقینی بنائیں کہ مصنوعات BPA، phthalates، parabens، الرجک خوشبوؤں، یا کسی دوسرے اینڈوکرائن  والے کیمیکلز سے پاک ہیں بلکہ پرسکون اور ہلکے مادوں جیسے کیمومائل اور ایلو ویرا پر توجہ دیں۔ یہ اجزاء سوزش کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

حکومت کے معاشی و سیاسی چیلنجز

الیکشن اور حکومت سازی میں مشکلات کو عبور کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کو اب حکومت چلانے میں نئی مشکلات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے بڑا چیلنج ہے معاشی عدم استحکام اور بڑھتی ہوئی مہنگائی۔حال ہی میں ختم ہونے والے آئی ایم ایف پروگرام کی کڑی شرائط خصوصاً ًپٹرولیم، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے نے مہنگائی میں جو اضافہ کیا ہے اس سے مہنگائی کے شعلے کچھ ایسے بے قابو ہوئے ہیں کہ یہ اب ہر سمت پھیلتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ایک اور آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے ۔

حکومت مخالف تحریک اور حکومتی صف بندی

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بنے ہوئے ابھی دو ماہ ہی ہوئے ہیں اور حکومت خود کو ملک کے حالات کے تناظر میں سنبھالنے کی کوشش کررہی ہے مگر اس کو مختلف محاذوں پر مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے ۔

الزامات لگاتے رہو،کام نہ کرو!

سندھ کی سیاست بڑی عجیب ہے، یہاں ایک دوسرے پر الزامات اور پھر جوابی الزامات کا تسلسل چلتا رہتا ہے۔ اگر نہیں چلتی تو عوام کی نہیں چلتی۔ وہ چلاتے رہیں، روتے رہیں، ان کی پکار سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ پیپلز پارٹی میں البتہ ایک صلاحیت دوسری تمام سیاسی جماعتوں سے زیادہ ہے، اور وہ یہ کہ کم از کم عوام کو بولنے کا موقع تو دیتی ہے۔ شاید وہ اس مقولے پر عمل کرتی ہے کہ بولنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے، اور عوام بھی تھک ہار کر ایک بار پھر مہنگائی اور مظالم کا سامنا کرنے کیلئے خود کو تیار کرلیتے ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں سیاست کی۔

خیبر پختونخوا کے دوہرے مسائل

خیبرپختونخوا اس وقت بارشوں،مہنگائی، چوری رہزنی اور بدامنی کی زد میں ہے ۔حالات ہیں کہ آئے روز بگڑتے چلے جارہے ہیں۔

بلوچستان،صوبائی کابینہ کی تشکیل کب ہو گی ؟

آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ صوبائی حکومت اور کابینہ کی تشکیل تین ہفتوں تک کردی جائے گی اور انتخابات کی وجہ سے التوا کا شکار ہونے والے منصوبوں پر کام کا آغاز کردیا جائے گا مگر دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صوبے میں اب تک صوبائی اسمبلی کے تعارفی اجلاس اور وزیر اعلیٰ کے حلف اٹھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوسکا۔

آزادکشمیر حکومت کی ایک سالہ کارکردگی

20 اپریل کو آزاد جموں وکشمیر کی اتحادی حکومت کا ایک سال مکمل ہوجائے گا۔ گزشتہ سال آزاد جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی طرف سے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو نا اہل قرار دیا گیا تو مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک کے ارکان نے مشترکہ طور پر چوہدری انوار الحق کو وزیر اعظم بنالیا جو اُس وقت آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر تھے۔ حلف اٹھانے کے بعد چوہدری انوار الحق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آزاد کشمیر میں تعمیر وترقی، اچھی حکمرانی ، میرٹ کی بالادستی اور کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی کی عملی کوشش کریں گے۔