کیسا ہو گا علی امین گنڈا پور کا دور؟

تحریر : عابد حمید


پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں تیسری بار حکومت بنانے جارہی ہے لیکن تکنیکی طورپر یہ پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہوگی بلکہ سنی اتحاد کونسل کی حکومت ہوگی ۔

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار اب سنی اتحاد کونسل کے رکن بن چکے ہیں ‘لیکن وزیراعلیٰ اب بھی پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار ہی ہوں گے اور وہ ہیں علی امین گنڈاپور جنہوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کیلئے حلف نامہ نہیں جمع کروایا۔علی امین گنڈاپور نہ صرف وزیراعلیٰ بننے جارہے ہیں بلکہ وہ پی ٹی آئی کی صوبائی صدارت کے بھی عہدیدار ہوں گے۔ اگر علی امین گنڈاپور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر بن جاتے ہیں اور ساتھ میں وزارت اعلیٰ کا تاج بھی اپنے سرپر رکھ لیتے ہیں تو وہ پارٹی میں مزید مضبوط پوزیشن اختیار کرلیں گے۔ انہیں صوبے اور پارٹی کے اندر جتنی قوت اب حاصل ہوگی اتنے ہی بڑے امتحان بھی ان کے سامنے ہوں گے بحیثیت وزیراعلیٰ انہیں تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا:ایک صوبے کی معیشت اور دوسرا امن وامان کی صورتحال‘ جبکہ تیسرا بڑا چیلنج گورننس کا ہوگا ۔صوبے کا انتظامی اور پارٹی کا سیاسی عہدہ ان کیلئے کشمکش کا باعث بن سکتا ہے ۔ماضی میں پرویزخٹک جب پی ٹی آئی کی جانب سے اس صوبے کے وزیراعلیٰ بنائے گئے تو انہوں نے پارٹی قیادت کے بیشتر ایسے احکامات ماننے سے انکار کیا جس سے اُن کی اس صوبے میں حکومت کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔محمود خان اپنے پیشروکی نسبت قدرے کمزور ثابت ہوئے اور اس وقت اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی حکومت تحلیل کر دی جب انتخابات میں محض ایک سال رہ گیاتھا ۔علی امین گنڈاپور سے بھی مستقبل قریب میں کچھ ایسے مطالبات ہوسکتے ہیں‘ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس حوالے سے کیا کردار ادا کرتے ہیں ۔چند دن قبل علی امین گنڈاپور کی جانب سے بیوروکریسی کے حوالے سے سخت بیانات سامنے آئے‘ مگر پھر انہیں بیک فٹ پر جانا پڑا اور اب ان کا رویہ کافی نرم لگ رہا ہے ۔صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے انہیں معیانہ روی سے چلنا ہوگا۔ 

علی امین کو کابینہ کی تشکیل میں مشکلات کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔اس وقت کابینہ کے حوالے سے پی ٹی آئی کی قیادت کے مابین اختلافات ہیں ۔ذرائع کے مطابق مشتاق غنی کو جس طرح سائیڈ لائن کیاگیا ہے اس پر وہ کافی نالاں ہیں اور ان کی جانب سے سپیکر شپ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جو ناکام رہی۔ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو بتایا گیا کہ مشتاق غنی کا حلقہ کمزور ہے اوروہ ری کاؤنٹنگ میں اپنا حلقہ ہارسکتے ہیں‘ جس کے بعد سابق سپیکر اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ کو سپیکر شپ کیلئے نامزد کیاگیا۔مشتاق غنی گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی سے ملے اور انہیں اصل صورتحال سے آگاہ کیاجس کے بعد انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ فی الوقت انہیں کابینہ میں جو بھی عہدہ ملے قبول کرلیں۔اسی طرح کچھ نئے چہرے جو پہلی بار انتخابات میں اترے اور انہوں نے بڑے بڑے برج گرادیے وہ بھی کابینہ کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں کچھ کے بارے میں ہمارے ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے بھی کہاہے کہ انہیں علی امین گنڈاپور اپنے ٹیم کا حصہ بنائیں ۔قیادت کے فقدان کے باعث پی ٹی آئی کے معاملات کافی الجھے ہوئے ہیں ،اسد قیصر کی اپنی لابی ہے ،علی امین گنڈاپور کا اپنا مضبوط گروپ ہے جبکہ عاطف خان اور شہرام ترکئی فی الوقت خاموش تو ہیں تاہم ان کی جانب سے بھی جلد یا بدیر کوئی نہ کوئی ردعمل آئے گا۔یہ وزارت اعلیٰ اپنے پیشتروؤں کی نسبت علی امین گنڈاپور کیلئے کانٹوں کی سیج ثابت ہوسکتی ہے ۔صوبے کے معاشی حالات جس نہج پر پہنچ گئے ہیں اس میں وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کسی بھی صورت اس صوبے کے عوام کے حق میں نہیں۔ خیبرپختونخوا کا90 فیصد انحصار وفاق سے ملنے والے پیسوں پر ہوتا ہے، گزشتہ دو سال سے مختلف مدات میں یہ بقایاجات صوبے کو نہیں ملے جس کی وجہ سے صوبے کی معاشی حالت دگرگوں ہے ۔صحت سہولت کارڈ  اورلنگرخانے بند ہوچکے ہیں ،بی آرٹی کو بھی بمشکل چلایاجارہا ہے ۔ علی امین گنڈاپور کو نہ صرف وفاق بلکہ پنجاب کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا ۔پنجاب سے گندم ملتی ہے۔ ماضی میںجب پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی خیبرپختونخوا کو اُس وقت بھی گندم کے حصول میں مشکلات کاسامنا تھااب تو پنجاب میں مریم نواز وزیراعلیٰ بن چکی ہیں ۔ علی امین گنڈاپور کو وفاق اور پنجاب کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ بہتر بنانا ہوگا۔

 اس وقت خیبرپختونخوا اسمبلی میں پچاس سے زائد نئے چہرے سامنے آئے ہیںان میں سے بیشتر وہ ہیں جنہوں نے پہلی بار انتخاب لڑا اور کامیاب ہوئے ہیں۔ امید ہے کہ یہ نئے چہرے اس صوبے کے حالات کو بہتر بنانے میں اپنی توانائیاں صرف کریں گے۔لوگ بھی اب مظاہروں اور دھرنوں کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔ نئی صوبائی حکومت کے سامنے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی کا چیلنج بھی ہے۔ یہ اضلاع پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں خیبرپختونخوا میں شامل کئے گئے ۔اُس وقت جو وعدے کئے گئے تھے ان کا عشرِ عشیر بھی پورا نہیں کیاگیا۔نئی صوبائی حکومت کیلئے وفاق سے ان اضلاع کیلئے سالانہ سوارب روپے لانا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہ ہوگا۔دوسری جانب خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایک ننھی منی سی اپوزیشن بھی اپنا وجود رکھتی ہے۔ قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود ان اپوزیشن جماعتوں میں اتفاق نہیں ،جے یو آئی حیرت انگیز طورپر خیبرپختونخوا میں دیگر اپوزیشن جماعتوں سے دوری اختیار کئے ہوئے ہے ۔ایوان میں قائدِ حزب اختلاف کون ہوگا اس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوسکا۔ جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے اکرم خان درانی پہلے ہی قائدِ حزب اختلاف بننے سے انکار کرچکے ہیں، جن کا کہناہے کہ ان کی جماعت سے پیپلزپارٹی یا( ن) لیگ میں سے کسی نے رابطہ نہیں کیااور اگررابطہ کیابھی تو وہ پارٹی پالیسی کے مطابق اپوزیشن لیڈر نہیں بنیں گے۔

 ایک حیرت انگیز امریہ ہے کہ پی ٹی آئی جس کے بارے میں کہاجارہاتھا کہ پیپلزپارٹی کے قریب آسکتی ہے ایسا تونہ ہوا لیکن جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان حالیہ دنوں میں اشاروں کنایوں میں تحریک انصاف کے لیے نرم گوشے کااظہارکرچکے ہیں۔ یہ بھی نہیں کہ دونوں جماعتیں کسی قسم کااتحاد بنانے جارہی ہیں لیکن اسد قیصر سے ملاقات اور اس کے بعد متعدد باریہ کہناکہ پی ٹی آئی کے ساتھ نظریاتی اختلاف ہے لیکن سیاسی جماعتیں ایک ساتھ مل بیٹھ سکتی ہیں ایک بڑی ڈیویلپمنٹ ہے ۔مولانافضل الرحمان کچھ نہ کہتے ہوئے بھی کافی کچھ کہہ گئے ہیں۔ اگرجے یو آئی پی ٹی آئی کے ساتھ کسی نکتے پر متفق ہوگئی، جو بظاہر مشکل نظرآرہا ہے، تو یہ بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔جے یو آئی شاید اس لئے بھی خیبرپختونخوا میں جہاں وہ بڑی تعداد میں ہارے ہیں دھرنوں اور مظاہروں کے بجائے پنجاب اور سندھ پر فوکس کئے ہوئے ہے، جبکہ اے این پی کا فوکس خیبرپختونخوا ہے اور ایمل ولی ضلع صوابی سے احتجاجی تحریک کا آغاز کرچکے ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

علامہ محمداقبالؒ کا فکروفلسفہ :شاعر مشرق کے فکر اور فلسفے کو عالمی شہرت ملی، مسلمانوں کو بے حد متاثر کیا

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبالؒ بیسویں صدی کی نابغہ روز گار شخصیت تھی۔ وہ ایک معروف شاعر، مفکر، فلسفی،مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کے اہم رہنما تھے۔اپنے فکر و فلسفہ اور سیاسی نظریات سے اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کو بے حد متاثر کیا۔ ان کے فکر اور فلسفے کو عالمی شہرت ملی۔

جاوید منزل :حضرت علامہ اقبال ؒ نے ذاتی گھر کب اور کیسے بنایا؟

لاہور ایک طلسمی شہر ہے ۔اس کی کشش لوگوں کو ُدور ُدور سے کھینچ کر یہاں لےآ تی ہے۔یہاں بڑے بڑے عظیم لوگوں نے اپنا کریئر کا آغاز کیا اور اوجِ کمال کوپہنچے۔ انہی شخصیات میں حضرت علامہ اقبال ؒ بھی ہیں۔جو ایک بار لاہور آئے پھر لاہور سے جدا نہ ہوئے یہاں تک کہ ان کی آخری آرام گاہ بھی یہاں بادشاہی مسجد کے باہر بنی، جہاںکسی زمانے میں درختوں کے نیچے چارپائی ڈال کر گرمیوں میں آرام کیا کرتے تھے۔

چمگاڈر کی کہانی

یہ کہانی ایک چمگادڑ کی ہے۔ دراصل ایک مرتبہ باز، شیر کا شکار کیا ہوا گوشت لے اڑتا ہے۔ بس اسی بات پر پرند اور چرند کے درمیان جنگ شروع ہوجاتی ہے اور جنگ کے دوران چالاک چمگادڑ اس گروہ میں شامل ہوجاتی جو جیت رہا ہوتا ہے۔ آخر میں چمگادڑ کا کیا حال ہوتا ہے آئیں آپ کو بتاتے ہیں۔

عادل حکمران

پیارے بچو! ایران کا ایک منصف مزاج بادشاہ نوشیرواں گزرا ہے۔ اس نے ایک محل بنوانا چاہا۔ جس کیلئے زمین کی ضرورت تھی اور اس زمین پر ایک غریب بڑھیا کی جھونپڑی بنی ہوئی تھی۔

ذرامسکرائیے

پپو روزانہ اپنے میتھ کے ٹیچر کو فون کرتا ٹیچر کی بیوی: تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ انہوں نے سکول چھوڑ دیا ہے تم پھر بھی روزانہ فون کرتے ہو۔پپو: یہ بار بار سن کر اچھا لگتا ہے۔٭٭٭

خر بوزے

گول مٹول سے ہیں خربوزے شہد سے میٹھے ہیں خربوزے کتنے اچھے ہیں خربوزےبڑے مزے کے ہیں خربوزےبچو! پیارے ہیں خربوزے