پاکستان تحریک انصاف کا مستقبل!

تحریر : عدیل وڑائچ


پاکستان تحریک انصاف اپنے قیام سے اب تک کی کمزور ترین حالت میں پہنچ چکی ہے اور ایک بحرانی کیفیت کا شکار ہے۔ تحریک انصاف کو 8 فروری کو عوام کی جانب سے بے پناہ حمایت ملی مگر وہ اقتدار میں تبدیل نہ ہو سکی۔

 پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے ایک کے بعد ایک فیصلے نے اسے نقصان ہی پہنچایا۔ اگرچہ جارحانہ سیاسی انداز سے اس کی مقبولیت میں بے انتہا اضافہ ہوا مگر اس مقبولیت نے تحریک انصاف کو اقتدار میں لا بٹھانے کی بجائے اسے توڑ پھوڑ کا شکار کر دیا۔ تحریک انصاف آج ایک نئی شکل میں ہے مگر اس کے اندرونی معاملات آنے والے کچھ روز میں اسے مزید کمزور کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کے جیل میں ہونے کے باعث قیادت کے ساتھ رابطوں میں بڑا فاصلہ پیدا ہو چکا ہے۔ فیصلہ سازی بانی پی ٹی آئی کے بعد کور کمیٹی کے پاس ہے ۔ تحریک انصاف کی کور کمیٹی جو بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد 22 افراد پر مشتمل تھی ، اس کا حجم بڑھتے بڑھتے 60 تک پہنچ چکا ہے اور وکلا اس پر غلبہ پا چکے ہیں۔ کور کمیٹی کے اراکین میں کئی لابیز بن چکی ہیں جو فیصلہ سازی کو اپنی اپنی ترجیحات کی جانب کھینچتی ہیں۔ کور کمیٹی کے کئی اراکین ایک دوسرے کو مقتدر حلقوں کے  ساتھ تعلقات کے شبے میں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ 

موجودہ صورتحال میں فیصلہ سازی کا فقدان عروج پرہے، جس کی بڑی وجہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ رابطوں کا فقدان ہے۔ تحریک انصاف کے ان رہنماؤں کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہو پاتی ہے جو وکلا ہیں اور اب جماعت کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ ملاقاتیں بھی زیادہ تر صرف اس وقت ہو پاتی ہیں جب ان کے کیسز کی سماعت ہو رہی ہوتی ہے۔ جیل کے اندر بانی پی ٹی آئی کا شاہ محمود قریشی اور چوہدری پرویز الٰہی سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات ان کیسز کے دوران ہوتی رہی جب سائفر کیس میں دونوں مشترکہ ملزم کے طور پر عدالت میں پیش ہوتے تھے۔ تحریک انصاف کے وہ اراکین جو بانی  پی ٹی آئی کے بہت قریب رہ چکے ہیں یا تو 9 مئی کے کیسز میں اسیر ہیں یا انتظامیہ کی گرفت سے بچنے کے لیے صرف سوشل میڈیا پوسٹس کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ کوآرڈی نیشن کے اس بیریئر نے تحریک انصاف کو سیاسی بحران سے دوچار کر دیا ہے جس کے بعد ایسے فیصلے سامنے آرہے ہیں جو اس جماعت کو آنے والے دنوں میں مزید سیاسی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ 

اس وقت تحریک انصاف کے اندر مزاحمت اور مفاہمت کی سیاست کی سوچ میں اختلافات بڑھ چکے ہیں ۔ تحریک انصاف نہ تو یہ طے کر پا رہی ہے کہ اس نے مفاہمت کی سیاست کرنی ہے نہ ہی مزاحمتی بیانیے سے متعلق کوئی فیصلہ کر پا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف میں سیاسی سوچ رکھنے والوں کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی گئی ، یہی وجہ ہے کہ مفاہمت کی بات کرنے والے وقت گزرنے کے ساتھ اس جماعت میں مین سٹریم سے ہٹتے رہے۔ 8 فروری کے انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی سب سے بڑی ناکامی انتخابی دھاندلی کے الزامات کی پیروی نہ کرنا ہے۔ جہاں تحریک انصاف یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس  کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے ، ان کے مطابق فارم 45 کے مطابق تو وفاق اور پنجاب میں اس کی حکومت بنتی تھی مگر بحیثیت جماعت سپریم کورٹ سے رجوع کر سکی نہ ہی اس کے ہارنے والے امیدوار خصوصاً پنجاب میں انتخابی عذر داریوں کی پیروی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جماعت کے سینئر عہدیداروں کے مطابق یہ صورتحال کور کمیٹی کے ایک پیج پر نہ ہونے کے باعث ہے۔تا حال نہ تو یہ طے ہو سکا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کون ہو گا ،نہ ہی پنجاب اور وفاق میں اپوزیشن کرنے کی حکمت عملی طے ہو سکی۔ 

تحریک انصاف میں ایک بڑا اختلاف آئی ایم ایف کو خط لکھنے کے معاملے پر سامنے آچکا ہے ۔جب مفاہمت کی سوچ رکھنے والوں نے بانی پی ٹی آئی کو سمجھانے کی کوشش کی کہ آئی ایم ایف کو خط لکھنا ملک کے ساتھ ساتھ جماعت کو بھی نقصان پہنچائے گا، مگر ان کی نہ سنی گئی اور بالآخر خط تحریر کر دیا گیا۔ آئی ایم ایف کو خط لکھ کر عالمی مالیاتی ادارے کو بیل آؤٹ پیکیج دینے سے قبل ملک میں سیاسی استحکام کو مد نظر رکھنے کی درخواست کی گئی۔ تحریک انصاف کے مفاہمتی ذہن رکھنے والوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کی جماعت کو اس خط کی بڑی سیاسی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے کیونکہ معیشت قومی سلامتی کا اہم جزو ہے اور موجودہ صورتحال میں آئی ایم ایف پیکیج کے راستے میں روڑے اٹکانا 9 مئی جیسے اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔ 

 غلط سیاسی فیصلے تحریک انصاف کا مشکل وقت شروع ہونے سے قبل بھی جاری تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ثابت ہوا کہ اپریل 2022 ء کے بعد قومی اسمبلی سے استعفوں کا فیصلہ سیاسی بلنڈر کے سوا کچھ نہ تھا۔ سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کے سمجھانے کے باوجود جب یہ فیصلہ کر لیا گیا تو اس کے چند ماہ بعد اس پر یوٹرن لینا پڑا ، مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔پی ٹی آئی کا یہ فیصلہ پی ڈی ایم کیلئے سکھ کا سانس بن گیا اور انہیں راجہ ریاض جیسا اپوزیشن لیڈر ملا۔ تحریک انصاف کی قیادت نے جب اس سے بھی کچھ نہ سیکھا تو پنجاب اور خیبر پختوانخوا اسمبلیاں تحلیل کرنے کا غلط قدم اٹھا لیاجس کی قیمت نہ صرف اس کی قیادت بلکہ ورکرز نے بھی ادا کی۔ 25 مئی کو جب تحریک انصاف سڑکوں پر نکلی تو یہ طے ہو چکا تھا کہ ملک میں فوری نئے انتخابات کی طرف جانا ہے اور اس مقصد کیلئے مسلم لیگ (ن) کو قائل کر لیا گیا تھا مگر بانی پی ٹی آئی نے معاملات سڑکوں پر طے کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انتخابات کا معاملہ پونے دو برس تک تاخیر کا شکار ہو گیا اور لڑائی اس قدر بڑھ گئی کہ  انتخابات کے بعد سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود تحریک انصاف حکومت نہ بنا سکی۔ آج تحریک انصاف کیلئے سب سے بڑا مسئلہ مخصوص نشستوں کے حصول کا ہے ۔اس کی وجہ بھی اس جماعت کے انٹرا پارٹی انتخابات کو غیر ضروری طور پر دو برس تک تاخیر کا شکار کرنا تھا۔ اس سیاسی بلنڈر کے قانونی نتائج نے آج پاکستان تحریک انصاف کے جیتے ہوئے آزاد امیدواروں کو سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا۔جہاں اسے پارلیمان میں اپنی شناخت کھونا پڑی وہیں اس کے کوٹے کی مخصوص نشستیں اس کے ہاتھ سے نکلتی دکھائی دے رہی ہیں۔ تحریک انصاف کو اپنے سیاسی طرز عمل سے متعلق ایک سنجیدہ حکمت عملی بنانی ہو گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

حکومت کے معاشی و سیاسی چیلنجز

الیکشن اور حکومت سازی میں مشکلات کو عبور کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کو اب حکومت چلانے میں نئی مشکلات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے بڑا چیلنج ہے معاشی عدم استحکام اور بڑھتی ہوئی مہنگائی۔حال ہی میں ختم ہونے والے آئی ایم ایف پروگرام کی کڑی شرائط خصوصاً ًپٹرولیم، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے نے مہنگائی میں جو اضافہ کیا ہے اس سے مہنگائی کے شعلے کچھ ایسے بے قابو ہوئے ہیں کہ یہ اب ہر سمت پھیلتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ایک اور آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے ۔

حکومت مخالف تحریک اور حکومتی صف بندی

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بنے ہوئے ابھی دو ماہ ہی ہوئے ہیں اور حکومت خود کو ملک کے حالات کے تناظر میں سنبھالنے کی کوشش کررہی ہے مگر اس کو مختلف محاذوں پر مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے ۔

الزامات لگاتے رہو،کام نہ کرو!

سندھ کی سیاست بڑی عجیب ہے، یہاں ایک دوسرے پر الزامات اور پھر جوابی الزامات کا تسلسل چلتا رہتا ہے۔ اگر نہیں چلتی تو عوام کی نہیں چلتی۔ وہ چلاتے رہیں، روتے رہیں، ان کی پکار سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ پیپلز پارٹی میں البتہ ایک صلاحیت دوسری تمام سیاسی جماعتوں سے زیادہ ہے، اور وہ یہ کہ کم از کم عوام کو بولنے کا موقع تو دیتی ہے۔ شاید وہ اس مقولے پر عمل کرتی ہے کہ بولنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے، اور عوام بھی تھک ہار کر ایک بار پھر مہنگائی اور مظالم کا سامنا کرنے کیلئے خود کو تیار کرلیتے ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں سیاست کی۔

خیبر پختونخوا کے دوہرے مسائل

خیبرپختونخوا اس وقت بارشوں،مہنگائی، چوری رہزنی اور بدامنی کی زد میں ہے ۔حالات ہیں کہ آئے روز بگڑتے چلے جارہے ہیں۔

بلوچستان،صوبائی کابینہ کی تشکیل کب ہو گی ؟

آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ صوبائی حکومت اور کابینہ کی تشکیل تین ہفتوں تک کردی جائے گی اور انتخابات کی وجہ سے التوا کا شکار ہونے والے منصوبوں پر کام کا آغاز کردیا جائے گا مگر دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صوبے میں اب تک صوبائی اسمبلی کے تعارفی اجلاس اور وزیر اعلیٰ کے حلف اٹھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوسکا۔

آزادکشمیر حکومت کی ایک سالہ کارکردگی

20 اپریل کو آزاد جموں وکشمیر کی اتحادی حکومت کا ایک سال مکمل ہوجائے گا۔ گزشتہ سال آزاد جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی طرف سے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو نا اہل قرار دیا گیا تو مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک کے ارکان نے مشترکہ طور پر چوہدری انوار الحق کو وزیر اعظم بنالیا جو اُس وقت آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر تھے۔ حلف اٹھانے کے بعد چوہدری انوار الحق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آزاد کشمیر میں تعمیر وترقی، اچھی حکمرانی ، میرٹ کی بالادستی اور کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی کی عملی کوشش کریں گے۔