21رمضان المبارک یوم شہادت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن


اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمدﷺ کا اعلان نبوت اور جناب علی المرتضیٰ ؓ کا اعلان ایمان ہم عمر ہیں۔ جن دنوں آپؓ کی ولادت ہوئی آپؓ کے والد ابوطالب کسی سفر پر تھے۔ والدہ محترمہ فاطمہ بنت اسد نے آپؓ کا نام اپنے والد کے نام پر اسد رکھا۔ جب ابو طالبؓ واپس آئے تو انہوں نے آپؓ کا نام ’’علی‘‘ رکھا۔ آپؓ کی کنیت ابو الحسن، ابو تراب ہے جبکہ القاب اسد اللہ، حیدر اور المرتضیٰ ہیں۔

قبول اسلام: اسلام لانے میں سبقت کرنے کے مسئلہ پر سب سے راجح ترین تحقیق یہی ہے جو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے نقل کی ہے:آزاد مردوں میں سیدنا ابو بکر صدیق، خواتین میں اُم المومنین سیدہ خدیجہ، غلاموں میں زید بن حارثہ اور نوجوانوں میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم سب سے پہلے ایمان لائے۔ مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی گھریلو تربیت میں آپ ؓ پروان چڑھتے رہے، گلستان نبوت میں کھلے اس گل کی ہر پتی سے بوئے نبوت مہک رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ آپؓ کی عادات، اخلاق، اقوال و افعال میں نبوی تربیت میں ڈھلے ہوئے تھے۔ 

مکی زندگی: اس میں اہل اسلام کے حالات اس قدر ناموافق، خطرناک اور دشوار گزار تھے کہ آج یہ ابتلاء، آزمائش اور امتحان کا استعارہ بن چکا ہے۔ مشرکین مکہ دعوت اسلام کے پھیلاؤ سے بری طرح خائف اور پریشان تھے۔قریش نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی(معاذاللہ) تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو سازشوں کی اطلاع فرما دی اور آپ ﷺ نے ابو بکر صدیق ؓ کو سفر کے انتظامات کرنے کاحکم دیا اور علی المرتضیٰ ؓ کو حکم فرمایا: میرے بستر پر لیٹ جانا اور کچھ وقت کیلئے مکہ میں ہی ٹھہرنا اور لوگوں کی امانتیں ان تک پہنچاکر مدینہ طیبہ پہنچ جانا۔

مدینہ طیبہ میں:مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے حضرت علی المرتضی ؓ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہاں ہر لمحہ رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے۔ صحابہ کرام جب ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ان کے پاس رہنے کیلئے مکان، پہننے کیلئے نئے لباس اور کھانے کے لیے خوراک کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ اس وجہ سے اللہ کے آخری نبیﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات کا تعلق قائم کرایا۔امام ترمذی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ کو فرمایا ’’آپؓ دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہیں‘‘۔

غزوہ بدر :2 ہجری 17 رمضان المبارک کو بدر کے مقام پر کفر و اسلام کا پہلا معرکہ لڑا گیا۔ جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے غلبے کے وعدے شامل حال رہے۔ کفار قریش کی طرف سے عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ میدان میں آئے اور کہا ہم اپنے مدمقابل قریشیوں سے لڑیں گے۔ آپ ﷺ نے اپنے چچا حضرت حمزہؓ، چچازاد حضرت عبیدہ بن حارثؓ اور اپنے چچازاد حضرت علی بن ابی طالبؓ کو رزمگاہ میں کودنے کو کہا۔ حضرت حمزہؓ نے شیبہ کو اور حضرت علی ؓ نے عتبہ کو موت کے گھاٹ اتارا،اس کے بعد آپؓ نے نضیر بن حارث کو بھی تہ تیغ کیا جبکہ حضرت عبیدہ ؓجانبازی سے لڑتے ہوئے شہادت کا جام پی گئے۔غزوہ بدر کی غنیمت جب تقسیم ہونے لگی تو حضرت علی ؓ کو ایک اونٹنی، ایک تلوار ’’ذوالفقار‘‘ملی۔

 شادی: حضرت علی ؓفرماتے ہیں: جب میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اپنے نکاح کا پیغام دینے کا ارادہ کیا تو میں نے (دل میں) کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، پھر یہ کام کیسے ہو گا؟ لیکن اس کے بعد دل میں رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کا خیال آگیا لہٰذا میں نے حاضر خدمت ہوکر پیغام نکاح دیا۔ آپﷺ نے سوال فرمایا: تمہارے پاس مہر میں دینے کیلئے کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری زرہ کہاں گئی؟ میں نے عرض کی: وہ تو موجود ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: اس کو (فروخت کرکے مہر میں) دے دو۔

غزوہ خیبر: 7 ہجری محرم کے آخر میں یہ معرکہ شروع ہوا، مدینہ کے شمال مغرب میں خیبر نامی ایک یہودیوں کی ایک کالونی آباد تھی، یہ نہایت زرخیز مقام تھا یہاں پر یہودیوں نے پانچ قلعے بنا رکھے تھے۔مسلمانوں نے پانچ قلعوں کو ایک ایک کر کے فتح کیا، جس میں 50 مجاہدین زخمی اور ایک شہید ہوئے۔ قلعہ قموص سب سے بنیادی اور بڑا قلعہ تھا جو ایک پہاڑی پر بنا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے اس قلعے کو فتح کرنے کیلئے چند صحابہ کرام ؓ کو بھیجا لیکن یہ فتح نہ ہوا۔ اس کے بعد آپﷺنے ارشاد فرمایا:’’کل میں اسے جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺسے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں، وہ شکست کھانے والا اور بھاگنے والا نہیں ہے، خدا اس کے ہاتھوں سے فتح عطا کرے گا‘‘۔دوسرے دن آپ ﷺ نے حضرت علی ؓکو طلب کیا۔حضرت علی ؓ آنکھ میں تکلیف کے باوجود تشریف لائے۔ نبی کریمﷺنے اپنا لعابِ مبارک ان کی آنکھ پر لگایا تو تکلیف بالکل ختم ہو گئی۔دوسرے دن حضرت علیؓ میدان میں اترے تو یہودیوں کے مشہور پہلوان مرحب کا بھائی حارث مسلمانوں پر حملہ آور ہوا مگرحضرت علی ؓنے اسے ایک ہی وار میں قتل کر دیا ۔ اس کے بعد مرحب رجز(جنگی اشعار)پڑھتا ہوا میدان میں اترا، اس نے زرہ اور خَود پہنا ہوا تھا۔آپؓ نے بھی جواب میں رجز پڑھا اور مرحب کے سر پر اتنے زور سے تلوار کا وار کیا جس سے مرحب دو دھڑوں میں کٹ گیا۔ حضرت علیؓ نے قلعہ کا دروازے کو دونوں ہاتھوں سے پورا زور سے اکھاڑلیا۔ اس کے بعد آپؓ نے اس دروازے کو قلعہ قموص کے آگے والے گڑھے پر رکھا تاکہ اسلامی فوج گھوڑوں سمیت قلعہ میں داخل ہو سکے۔

خلفاء ثلاثہ سے محبت و معاونت:رسول اللہ ﷺکے عہد مبارک میں اور بالخصوص آپ ﷺ کی وفات مبارکہ کے بعد حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے اپنے سے پیشرو خلفاء سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان غنی ؓ کیساتھ برادرانہ برتاؤ اور مذہبی و سیاسی امور میں محبت و معاونت کے ایسے نقوش چھوڑے ہیں جو اہل اسلام کیلئے مشعل راہ ہیں۔

بطور خلیفہ پہلا خطبہ: 35 ہجری 24 ذوالحجہ جمعہ کے دن حضرت علی ؓنے بطور خلیفہ جو سب سے پہلا خطبہ دیا،آپؓ نے فرمایا !اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو ہدایت دینے والا بنا کر بھیجا ہے جو خیر اور شر کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے، اس لیے خیر کو لے لیجیے اور شر کو چھوڑ دیجیے، اللہ تعالیٰ نے بہت ساری چیزوں کو حرمت کا درجہ دیا ہے، ان میں سے سب سے زیادہ حرمت مسلمان کی ہے۔ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے تمام مسلمان محفوظ رہیں۔ کسی مسلمان کیلئے دوسرے مسلمان کو تکلیف دینا جائز نہیں مگر یہ کہ ایسا کرنا واجب ہو چکا ہو، عوام و خواص دونوں کے حقوق ادا کرنے میں جلدی کیجیے، لوگ آپ کے سامنے ہیں اور قیامت پیچھے ہے جو آگے بڑھ رہی ہے، آخرت کی زندگی لوگوں کی انتظار میں ہے، خدا کے بندوں اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں اللہ سے ڈرتے رہو، جانوروں اور زمین کے بارے میں بھی قیامت کے دن آپ سے سوال ہوگا۔ 

مدینہ طیبہ کے اندرونی حالات:اس وقت مدینہ طیبہ کے حالات بہت نازک موڑ پر تھے، خون مسلم اور اس کے وجود کی بے وقعتی انتہاء کو پہنچ چکی تھی، خلیفۃ الرسول حضرت عثمان ذوالنورینؓ روضہ نبوی کے پہلو میں مظلوماً شہید کر دیے گئے۔ حالات انتہائی ناسازگار، پیچیدہ اور بہت دشوار تھے، ایسے حالات میں حرمت مسلم پر بطور خلیفہ خطبہ دینا حضرت علی المرتضیٰؓ جیسے جری اور شجاع انسان کا ہی کام ہے۔ 

مرکز خلافت کی کوفہ منتقلی:حضرت علیؓ حکمت و تدبر اور شجاعت و عزیمت کے حسین امتزاج کے ساتھ خلافت چلاتے رہے، جب مدینہ طیبہ میں سیاسی و عسکری، انتظامی و تربیتی نظام کا چلانا بہت مشکل ہو گیا تو آپ ؓ نے مرکز خلافت کوفہ منتقل کر دیا تاکہ مدینہ طیبہ کی حرمت اور تقدس کو پامال کرنے والوں کو اس کا موقع ہی نہ ملے۔ مزید یہ کہ جغرافیائی طور پر انتطامی و ثقافتی مصلحت کا تقاضا بھی یہی تھا کہ مرکز خلافت کوفہ کو بنایا جائے، کیونکہ کوفہ ایسی جگہ پر تھا جو عرب، فارس، یمن، ہند، عراق اور شام کے لوگوں کی باہمی تجارتی گزرگاہ تھی، مزید یہ جگہ علم و ادب، زبان وبیان، داستان وتاریخ نویسی، شعر و سخن اور علم انساب کے حوالے سے بھی مرکزیت رکھتی تھی۔

فضائل و مناقب احادیث کی روشنی میں: حضرت حبہ عرنیؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علیؓ کو یہ فرماتے ہوئے سُنا: میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں:نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں فاطمہؓ کا نکاح علیؓ سے کروں۔حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ جب آیت مبا ہلہ ’’آپ فرما دیں آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ‘‘ نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا، پھر فرمایا: یا اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس کا میں دوست ہوں اُس کا علی بھی دوست ہے اور میں نے آپ ﷺ کو (حضرت علی ؓ سے) یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میرے لیے اس طرح ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کیلئے حضرت ہارون ؑ تھے ہاں مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

شہادت باسعادت: تین خارجی عبدالرحمان ابن ملجم الکندی، برک بن عبداللہ تمیمی اور عمرو بن بکر تمیمی نے حرم کعبہ میں بالترتیب حضرت علی، امیر معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ مقرر کردہ تاریخ کے مطابق ابن ملجم کوفہ آیا اور حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے راستے پر بیٹھ گیا۔ آپؓ صبح کی نماز کیلئے گھر سے نکلے تو اس بدبخت نے آپؓ کے سر مبارک کے اگلے حصے پر وار کیا۔ خون کی ایک دھار داڑھی مبارک تک آ پہنچی ۔ ابن ملجم کو دھر لیا گیا۔ حضرت علی ؓ کو گھر لایا گیا توآپ ؓنے فرمایا: اگر میں اسی وار کی وجہ سے قتل ہو جاؤں تو بدلے میں اسے بھی قتل کر دینا اور اگر میں زندہ بچ گیا تو مجھے معلوم ہے کہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ بالآخر حملے کے کاری وار سے آپ جاں بر نہ ہو سکے اور 21 رمضان المبارک کو شہادت کا جام نوش کر گئے۔

بوقتِ شہادت تلاوتِ قرآن: آپ نے کل چار سال نو ماہ تک خلافت کے امور سرانجام دیے، آخری وقت اپنے صاحبزادوں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو خوف خدا اور حسن عمل کی وصیت کی اور سورۃ الزلزالہ کی آخری دو آیات کریمہ تلاوت فرمائیں۔ آپ کرم اللہ وجہہ کی نماز جنازہ حضرت حسن ؓنے پڑھائی، کوفہ ہی میں دفن کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے! آمین۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

عید الفطر:نعمت الہٰی پر شکر اور بخشش کا دن

نبی کریم ﷺ نے ماہ رَمضان المبارک کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنَّم سے آزادی کا ہے‘‘ (صحیح ابن خُزَیمہ:1887)۔ معلوم ہوا کہ رمضان المبارک رحمت و مغفرت اور جہنَّم سے آزادی کا مہینہ ہے، لہٰذا اِس رحمتوں اور برکتوں بھرے مہینے کے فوراً بعد ہمیں عید سعید کی خوشی منانے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

عید شکرانہ نعمت

ہمارا مذہب اسلام ایک جامع اور مکمل دستور حیات ہے جو زندگی کے ہر ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کی مکمل رہنمائی کرتا ہے ۔خوشی و مسرت کا لمحہ ہو یا رنج و الم کا مرحلہ اس کا دامن ہدایت سے خالی نہیں اور اسلام تو خوشیوں کا مذہب ہے۔ یہ خوشی کے لمحات میں مسرت کے اظہار پر کوئی قدغن نہیں لگاتا مگر اتنا ضرور ہے کہ خوشی و شادمانی کے حوالے سے اس کا اپنا ایک خاص زاویہ نظر ہے۔

عید الفطر:مسلمانوں کا عظیم تہوار

دنیاکے تمام مسلمان خواہ وہ کسی بھی خطے میں رہتے ہوں۔ اجتماعی خوشی عید کا دن عقیدت و احترام سے مناتے ہیں کیونکہ عید الفطرمسلمانوں کاایک مقدس اور عظیم تہوارہے ۔

عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت

عید الفطر خوشی اور مسرت کا دن ہے۔ اس دن روزہ رکھنا منع ہے۔ یہ دن کھانے پینے اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا دن ہے۔ خو شی کے اظہار کیلئے چاند رات سے ہی مساجد، بازاروں، راستوں اور گھروں میں تکبیرات بلند کرنی چاہئیں۔ صدقہ فطر ہر مسلمان پر فرض ہے خواہ اُس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں یا نہیں۔

تیسویں پارے کا خلاصہ

سورۃ النباء: ’’نبا،، خبر کو کہتے ہیں۔ سورت کے شروع میں فرمایا کہ لوگ ایک عظیم خبر کے متعلق، جس کے بارے میں یہ باہم اختلاف کر رہے ہیں، ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں، یعنی قیامت، اس کے وقوع اور حق ہونے کے بارے میں کچھ لوگوں کو اختلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: عنقریب قیامت برپا ہوگی تو انہیں معلوم ہو جائے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فیصلے کے دن کا وقت مقرر ہے اور پھر علامات قیامت کا بیان فرمایا۔ اس کے بعد جہنمیوں کیلئے عذاب اور اہل تقویٰ کیلئے انعامات کا بیان ہوا۔

تیسویں پارے کا خلاصہ

تیسویں پارے میں چونکہ سورتوں کی تعداد زیادہ ہے اس لیے تمام سورتوں پر گفتگو نہیں ہو سکے گی بلکہ پارے کے بعض اہم مضامین کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی۔