تئیسویں پارے کا خلاصہ

تحریر : علامہ ابتسام الٰہی ظہیر


تئیسویں پارے کا آغاز سورہ یٰسٓ سے ہوتا ہے۔ بائیسویں پارے کے آخر میں انبیا علیہم السلام کی تائید کرنے والے مومن کا ذکر تھا۔ اس پارے میں اس مردِ مومن کی تبلیغ کا ذکر ہے کہ اس نے بستی کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں اللہ کی عبادت کیوں نہ کروں کہ اسی نے مجھے پیدا کیا اوراسی کی طرف مجھے پلٹ کر جانا ہے۔

اللہ کو چھوڑ کر اگر میں کوئی اور معبود پکڑ لوں تو مجھے اس معبود کا کیا فائدہ کہ اللہ تعالیٰ اگر مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو وہ میرا کچھ بھی بھلا نہیں کر سکتے۔ بستی والوں نے اس کی دعوت قبول کرنے کے بجائے اس کو شہید کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کر دیا اس پر اس شخص نے خواہش ظاہر کی کہ اے کاش! میری قوم کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ رب العزت نے مجھے بخش دیا ہے اور مجھے عزت والوں میں شامل کیا ہے۔ اس بندۂ مومن کی شہادت کے بعد اللہ کی رحمتیں بستی والوں سے روٹھ گئیں۔ 

اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اعتراضات کا ذکر کیا ہے کہ کافر کہتے ہیں کہ کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا‘ جبکہ ہماری ہڈیاں چور چور ہو چکی ہوں گی۔ فرمایا کہ وہی ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا‘ جس نے پہلی مرتبہ ان کو پیدا کیا تھا اور اس کو ہر قسم کی تخلیق کی پوری خبر ہے۔

سورۃ الصّٰفٰت: اس کے بعد سورۃ الصّٰفٰت ہے‘ مجموعی طور پر اس سورہ کے مطالب کا پانچ حصوں میں خلاصہ ہوتا ہے‘ پہلا حصہ: خدا کے فرشتوں کے مختلف گروہوں کے بارے میں بحث کی گئی ہے اور ان کے مقابلے میں سرکش شیطانوں کے گروہوں اور ان کے انجام کو بیان کیا گیا ہے۔ دوسرا حصہ: کافروں کے بار ے میں ہے‘جس ان کے انکار اور قیامت میں ان کے انجام کو بیان کیا گیا ہے۔ تیسرا حصہ: انبیاء کرام‘ جیسے حضرت نوح علیہ السلام‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام‘ حضرت اسحٰق علیہ السلام‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام‘ حضرت ہارون علیہ السلام‘ حضرت الیاس علیہ السلام‘ حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ 

چوتھا حصہ: شرک کی ایک بدترین قسم کاذکرہے یعنی جنوں اورخدا یا فرشتوں اور خدا کے درمیان قرابت کا اعتقاد اور مختصر جملوں میں اس عقید ے کی اس طرح دھجیاں بکھیری گئی ہیں کہ اس میں معمولی سی رمق بھی باقی نہیں رہتی۔ پانچواں حصہ اس سورہ کا آخری حصہ ہے اور لشکرِحق کی کفر و شرک پر فتح کا ذکر ہے۔ اہل ِشرک و نفاق کے عذابِ الٰہی میں گرفتار ہونے کا تذکرہ ہے۔

 اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی تخلیق کے مقاصد واضح کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے ذریعے آسمان کو زینت عطا کی اور ان میں سے بعض ستاروں کو اللہ تعالیٰ آسمان کی خبریں چوری کرنے والے شیاطین کو مارنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ پھر جنابِ ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خواب میں دکھلایا کہ وہ اپنے بیٹے ( اسماعیل علیہ السلام) کے گلے پر چھری چلا رہے ہیں۔ جنابِ ابراہیم علیہ السلام نے جنابِ اسماعیل علیہ السلام سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہارے گلے پر چھری چلا رہا ہوں‘ اب بتائو کہ تمہاری رائے کیا ہے۔ جناب اسماعیل علیہ السلام نے جواب میں کہا: بابا! آپ وہ کام کریں‘ جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور ان شاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹایا تو اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو پکارا کہ آپ نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے جنابِ ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام کی قربانی قبول فرما کر جہاں اخروی جزا کو ان کا مقدر بنا دیا‘ وہیں پر رہتی دنیا تک کیلئے بھی اس قربانی کو ایک مثال بنا دیا۔

 اس سورہ میں جناب یونس علیہ السلام کا ذکر بھی ہے کہ وہ رسولوں میں سے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک لاکھ افراد کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔ جناب یونس علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کثرت سے تسبیح کی اور دعا مانگی ’ لاالٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظٰلمین‘اس وظیفے اور دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دے دی۔

سورہ صٓ: اس کے بعد سورہ صٓ ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے جناب رسول کریمﷺ کی دعوت پر مشرکوںکے اعتراض کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اللہ واحد کی عبادت کا درس دیا اور باقی تمام معبودوں کی نفی کی اور یہ بات مشرکین کو کسی طور گوارا نہیں تھی‘ پھر جناب دائود علیہ السلام کی حکمت اور قوتِ بیان کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرزند جناب سلیمان علیہ السلام کی دعا کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے پروردگار عالم سے دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی دوسرے کے نصیب میں نہ آئے‘ بیشک تُو سب سے بڑھ کر عطا کرنے والا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے جنابِ سلیمان علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو ایسی سلطنت عطا فرمائی کہ جنات اور ہوائوںکو آپ کے تابع فرما دیا۔ جنات آپ کے حکم پر عمارتیں ،بڑے حوض اور جمی ہوئی دیگیں بناتے اور آپ کے حکم سے غوطہ خوری بھی کرتے۔ اسی طرح تیز ہوائیں آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم پر صبح و شام ایک ماہ کی مسافت طے کرتیں تھیں۔ آپ کے دربار میں تمام چرند پرند کے نمائندے موجود ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پربہت زیادہ انعامات کیے‘لیکن آپ اس تمام انعام واکرام کے باوجود اللہ کی بندگی میں مشغول رہے اور اپنی تمام تر توانائیوں کو اللہ کی توحید کی نشر واشاعت میں صرف کرتے رہے اور جب بھی کبھی آپ کے علم میں یہ بات آئی کہ کہیں اللہ کی ذات کے ساتھ شرک ہو رہا ہے تو آپ علیہ السلام اس مقام تک رسائی حاصل کرتے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے۔ سبا کی ملکہ سے آپ کے تنازع کا اصل سبب یہی تھا کہ سبا کے لوگ اللہ کو چھوڑ کر سورج کی پرستش کر رہے تھے۔ اسی وجہ سے آپ نے ملکہ سبا کو اپنے دربار میں طلب کر کے توحید کی دعوت دی‘ جس کو اس نے قبول کر لیا۔

 اللہ تعالیٰ نے جناب ایوب علیہ السلام کی بیماری اور شفا کا بھی ذکر کیا۔ جناب ایوب علیہ السلام طویل عرصہ تک بیمار رہے اور اس بیماری نے آپ کو بے بس کر دیا۔ جنابِ ایوب علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگی کہ اے پروردگار! شیطان مجھے تکلیف دے رہا ہے‘ آپ مجھ پر رحم فرمائیں‘ بے شک آپ سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام تکلیفوں کو دور فرما دیا۔

سورۃ الزمر: اس کے بعد سورہ زمر ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاکﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے۔ پس‘ آپ مخلص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ فرمایا کہ بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مددگار تلاش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی پوجا اس لیے کر رہے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان اختلافات کا فیصلہ وہ خود فرمائے گا اور بے شک وہ جھوٹ بولنے والے گمراہوں کو کچھ ہدایت نہیں دیتا۔ 

اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے انسانوں کو تین اندھیروں میں سے پیدا فرمایا‘ پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حقیقی گھاٹا ان لوگوں کیلئے ہے‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں گھاٹا دیا اور یہ وہ لوگ ہیں جن کوآگ کا عذاب سہنا ہو گا اور ان کے مقابلے میں جنتیوں کو ایسے بالا خانے ملنے والے ہیں‘ جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا۔ اللہ فرماتا ہے کہ اُس نے بہترین بات کو نازل کیا‘ جس کے مضامین میں ہم آہنگی اور تکرار بھی ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد جن کے دلوںمیں اللہ کا خوف ہوتا ہے‘ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دل اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کر دے‘ کوئی اس کو ہدایت دینے والا نہیں۔ 

 اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

عید الفطر:نعمت الہٰی پر شکر اور بخشش کا دن

نبی کریم ﷺ نے ماہ رَمضان المبارک کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنَّم سے آزادی کا ہے‘‘ (صحیح ابن خُزَیمہ:1887)۔ معلوم ہوا کہ رمضان المبارک رحمت و مغفرت اور جہنَّم سے آزادی کا مہینہ ہے، لہٰذا اِس رحمتوں اور برکتوں بھرے مہینے کے فوراً بعد ہمیں عید سعید کی خوشی منانے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

عید شکرانہ نعمت

ہمارا مذہب اسلام ایک جامع اور مکمل دستور حیات ہے جو زندگی کے ہر ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کی مکمل رہنمائی کرتا ہے ۔خوشی و مسرت کا لمحہ ہو یا رنج و الم کا مرحلہ اس کا دامن ہدایت سے خالی نہیں اور اسلام تو خوشیوں کا مذہب ہے۔ یہ خوشی کے لمحات میں مسرت کے اظہار پر کوئی قدغن نہیں لگاتا مگر اتنا ضرور ہے کہ خوشی و شادمانی کے حوالے سے اس کا اپنا ایک خاص زاویہ نظر ہے۔

عید الفطر:مسلمانوں کا عظیم تہوار

دنیاکے تمام مسلمان خواہ وہ کسی بھی خطے میں رہتے ہوں۔ اجتماعی خوشی عید کا دن عقیدت و احترام سے مناتے ہیں کیونکہ عید الفطرمسلمانوں کاایک مقدس اور عظیم تہوارہے ۔

عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت

عید الفطر خوشی اور مسرت کا دن ہے۔ اس دن روزہ رکھنا منع ہے۔ یہ دن کھانے پینے اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا دن ہے۔ خو شی کے اظہار کیلئے چاند رات سے ہی مساجد، بازاروں، راستوں اور گھروں میں تکبیرات بلند کرنی چاہئیں۔ صدقہ فطر ہر مسلمان پر فرض ہے خواہ اُس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں یا نہیں۔

تیسویں پارے کا خلاصہ

سورۃ النباء: ’’نبا،، خبر کو کہتے ہیں۔ سورت کے شروع میں فرمایا کہ لوگ ایک عظیم خبر کے متعلق، جس کے بارے میں یہ باہم اختلاف کر رہے ہیں، ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں، یعنی قیامت، اس کے وقوع اور حق ہونے کے بارے میں کچھ لوگوں کو اختلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: عنقریب قیامت برپا ہوگی تو انہیں معلوم ہو جائے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فیصلے کے دن کا وقت مقرر ہے اور پھر علامات قیامت کا بیان فرمایا۔ اس کے بعد جہنمیوں کیلئے عذاب اور اہل تقویٰ کیلئے انعامات کا بیان ہوا۔

تیسویں پارے کا خلاصہ

تیسویں پارے میں چونکہ سورتوں کی تعداد زیادہ ہے اس لیے تمام سورتوں پر گفتگو نہیں ہو سکے گی بلکہ پارے کے بعض اہم مضامین کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی۔