عید الفطر:مسلمانوں کا عظیم تہوار

تحریر : اللہ دتہ انجم


دنیاکے تمام مسلمان خواہ وہ کسی بھی خطے میں رہتے ہوں۔ اجتماعی خوشی عید کا دن عقیدت و احترام سے مناتے ہیں کیونکہ عید الفطرمسلمانوں کاایک مقدس اور عظیم تہوارہے ۔

عید کی اجتماعی شان تو اپنی جگہ لیکن ایک توعید ہمارے اندرقلبی اور روحانی خوشی پیداکرتی ہے اوردوسری طرف مسلمانوں کے تعلقات، محبت اور جذبۂ ایثار میں اضافہ کرتی ہے۔ عیدالفطر خوشیوں بھرا دن ہونے کیساتھ ساتھ اﷲ تعالیٰ کے حضور تشکر کا دن بھی ہے۔ اسی لئے روز ِعیدکی ابتدأخصوصی نمازسے ہوتی ہے۔

جشن عیدپرعبادت کارنگ نمایاںہونے کے ساتھ ساتھ رنگ برنگے لباس،لہلاتے ہوئے آنچل ،چہروں پرمسکراہٹیں،آنکھوں میں روشنی کی پھوٹتی ہوئی کرنیں ،لڑکیوں اورخواتین کے مہندی سے سجے ہوئے ہاتھوں میں چوڑیوں کی کھنک، بچوں کی شرارتیں اور قہقہے، نوجوانوں کی سلام اور آداب کی صدائیں،بڑے بوڑھوں کی سبھی کیلئے دعائیں، باورچی خانوں سے طرح طرح کے کھانوں کی خوشبوئیں، گھرسے باہرجگہ جگہ میلوں کا دلفریب سماں، قسم قسم کے سجے ہوئے سٹال ، پہلے سے کہیں زیادہ صاف اوربھری ہوئی مٹھائی کی دوکانیں ،دہی بھلے، جملہ عروسی کی طرح سجے ہوئے پھل فروٹ کے سٹال،قصابوںکی دوکانوں کے اردگردچونے کی مددسے گل فشانی غرض ہرسورونق ہوتی ہے۔ زندگی محو رقص نظر آتی ہے۔ ان سب کواگریکجاکریں توعید کی قوسِ قزح بنتی ہے۔

 عیدماہِ رمضان کی آزمائشوں سے گزرنے والوں اورعبادت گزاروں کیلئے ایک تحفہ اورعبادات کے تشکر کے اظہارکی ایک صورت ہے ۔ ماہِ صیام اورجشن نزول قرآن حکیم کے بخیروخوبی اختتام پر دنیا بھر کے مسلمان اﷲتعالیٰ کے حضورسجدہ ٔ شکر بجا لاتے ہیں۔ دنیامیں جہاں کہیں بھی مسلمان آبادہیں وہ حسبِ توفیق صاف ستھرے کپڑے پہنے ،خوشبو لگائے نمازعیداداکرتے ہیں۔ نمازکی ادائیگی کے بعدایک دوسرے کے گلے ملتے اور شکایات دورکرتے نظر آتے ہیں،خوشیاں بانٹتے ہوئے عیدکی مبارکبادیں پیش کرتے ہیں۔ عید کے دن گھرمیں اچھے اچھے پکوان پکانا، ایک دوسرے کی دعوت کرنا اور ہمسائیوں و عزیزوں کے گھروں میںکھانابھیج کر خوشی محسوس کی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتاہے۔ 

نمازعیدوہ واحدنمازہے جس کااہتمام کئی دن پہلے سے ہی شروع ہوجاتاہے۔ کئی روزپہلے کپڑے سلوائے جاتے ہیں۔ نئے جوتے خریدے جاتے ہیں۔ بروز عیدہرشخص صبح سویرے اٹھ کر غسل کرتا ہے اور صاف ستھرے کپڑے پہن کرخوشبولگاتاہے۔نمازکی ادائیگی سے قبل چندکھجوریں یا کوئی میٹھی چیزیںکھائی جاتی ہیں۔ یہ تمام طریقے مسنون ہیں۔

 عیدکی خوشیوں کے رنگ اگرچہ روزِاوّل کی طرح سے تقریباًوہی ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بعض طورطریقے بدل چکے ہیں۔پہلے زمانے میں روزوں کے آخری دن مغرب ہوتے ہی کھلے میدانوں اور گھروں کی چھتوںوغیرہ پربڑے بوڑھوں، جوانوں، بچوں کا ہجوم ہوتا تھا، ہر نظرآسمان پرٹکی ہوتی تھی۔مردو خواتین غرض ہرشخص عید کا چاند خود دیکھنا اپنا فرض سمجھتاتھا۔ چاندنظر آتے ہی ہرسوشورمچ جاتا، نقارے ،گولے اور سائرن کی آوازیں ہرکسی کوچاندکی نویددیتی تھیں۔ ایک دوسرے کوچاندکی مبارک باد دی جاتی۔ بچوں کا اشتیاق اور جوش دیکھ کر بڑے بھی خوش ہوا کرتے تھے۔ ملک بھر میں لاکھوں افراد اپنے دوستوں اور عزیزوں کو ایک سے ایک خوبصورت عیدکارڈبھیج کربڑی خوشی محسوس کرتے تھے۔ عیدکارڈمحبت کاایک بہترین اور خوبصورت ذریعہ تھا ۔ عیدسے کئی روزقبل عیدکارڈبھیجنے کی پرانی روایت تقریباًختم ہوچکی ہے۔ اب اس کی جگہ موبائلSMS،واٹس ایپ نے لے لی ہے۔  رویت ہلال کمیٹی کے سوأ کوئی چاندنہیں دیکھتا۔ٹی وی یاریڈیوپر نظریں اور کان لگائے ہوئے ہوتے ہیں۔ نمازعید،عیدگاہ میں ہی جا کر ادا کی جاتی ہے۔ عیدگاہ جانے کیلئے جس راستے سے جائیں واپسی کیلئے دوسراراستہ اختیارکریں۔فطرانہ کی ادائیگی نمازعیدسے پہلے ضرورکی جائے ۔ بہرحال عیدمسلمانوں کاسب سے خوبصورت تہوارہے۔

ایک دفعہ عید کے دن نبی 

کریم حضرت محمدﷺمسجد جارہے تھے کہ راستے میں کچھ ایسے بچوں کوکھیلتے دیکھا جنہوں نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ بچوں سے سلام دعا کے بعد آپ ﷺ آگے تشریف لے گئے تووہاں ایک بچے کو اُداس بیٹھے دیکھا۔آپ ﷺنے اس کے قریب جا کرپوچھا تم کیوں اُداس اور پریشان ہو؟اس نے روتے ہوئے جواب دیا۔اے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺمیں یتیم ہوں میراباپ نہیں ہے جو میرے لئے نئے کپڑے خریدتا۔میری ماں نہیں ہے جو مجھے نہلاکر نئے کپڑے پہنادیتی۔ اس لئے میں یہاں اکیلا اداس بیٹھا ہوں۔ آپ ﷺ اسے لے کر اپنے گھر تشریف لے گئے اور ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ سے فرمایا ’’اس بچے کو نہلا دو ’’اتنے میں آپﷺنے اپنی چادر مبارک کے دو ٹکڑے کردیئے۔چادر کا ایک ٹکڑا شلوار کی طرح باندھ دیا اور دوسرا اس کے بدن پر لپیٹ د یا ۔بچہ  جب نہلاکر نئے کپڑے پہن کر تیار ہوگیا تو آپ ﷺنے بچے سے فرمایا آج تو پیدل چل کر مسجد نہیں جائے گابلکہ میرے کندھوں پرسوار ہوکر جائے گا۔آپ ﷺنے یتیم بچے کو اپنے کندھوں پر سوار کرلیا اور مسجد کی طرٖف روانہ ہو گئے۔ راستے میں وہ مقام آیا جہاں بچے نئے کپڑے پہنے کھیل رہے تھے جب اُن بچوں نے دیکھا وہ یتیم بچہ جو اکیلا اُداس بیٹھا تھا۔ رحمت دوعالم حضرت محمدﷺکے کندھوں سوار ہے تو کچھ کے دلوں میں خیال گزرا کہ کاش وہ بھی یتیم ہوتے تو آج نبی کریم ﷺکے کندھوں کی سواری کرتے ۔ یہاں تک کہ سرکار دوعالم ﷺنے اُس بچے کو اپنے ساتھ ممبر پر بٹھایا اور فرمایا جو شخص یتیم کی کفالت کرے گااور محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرے گا۔اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں اتنی نیکیاں لکھ دے گا۔

ہمیں بھی نبی کریم ﷺکی پیروی کرتے ہوئے عید کے موقع پر اپنے ارد گرد بسنے والے غریب،یتیم بچوں کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہئے۔ تاکہ ان کی بھی عید ہوجائے اور ہمیں بروز قیامت آپ ﷺکے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے ۔عید الفطر کے دن غربأو مساکین کی امداد و تعاون کرنا، بیماروں کی مزاج پرسی کرنا نہیں بھولنا چاہیئے یہ ہمارااخلاقی،قومی اورمذہبی فریضہ ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

T-20 کرکٹ کا سنسنی خیز فارمیٹ

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ 2024ء کے آغاز میں 6 روز باقی رہ گئے،انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یکم جون2024ء سے کیریبین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے نویں ایڈیشن کی میزبانی کر رہی ہے۔ٹی 20، کرکٹ کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز فارمیٹ ہے، قارئین کیلئے ٹی 20ورلڈکپ کی مختصر تاریخ پیش خدمت ہے۔

بھیڑ اور بھیڑیا

بھیڑیا اپنے گھر میں بیٹھا آرام کر رہا تھا جب اسے باہر سے اونچی ،اونچی آوازیں آئیں۔پہلے تو وہ آنکھیں موندے لیٹا رہا لیکن جب شور مسلسل بڑھنے لگا تو اس نے سوچا باہر نکل کر دیکھناتو چاہیے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔گھر سے باہر جا کر دیکھا تو سامنے 2 بھیڑیں کھڑی آپس میں لڑ رہی تھیں۔

سچی توبہ

خالد بہت شرارتی بچہ تھا۔ سکول اور محلے کا ہر چھوٹا بڑا اس کی شرارتوں سے تنگ تھا۔ وہ جانوروں کو بھی تنگ کرتا رہتا ، امی ابو اسے سمجھاتے مگر خالد باز نہ آتا۔

ذرامسکرائیے

اُستاد(شاگرد سے) انڈے اور ڈنڈے میں کیا فرق ہے؟ شاگرد: ’’کوئی فرق نہیں‘‘۔ اُستاد: ’’وہ کیسے‘‘؟شاگرد: ’’دونوں ہی کھانے کی چیزیں ہیں‘‘۔٭٭٭٭

پہیلیاں

مٹی سے نکلی اک گوری سر پر لیے پتوں کی بوری جواب :مولی٭٭٭٭

ادائیگی حقوق پڑوسی ایمان کا حصہ

اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ دو باتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک۔ اسی لیے جیسے شریعت میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے حقوق ملتے ہیں، اسی طرح ایک انسان کے دوسرے انسان پر بھی حقوق رکھے گئے ہیں۔