عید شکرانہ نعمت

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


ہمارا مذہب اسلام ایک جامع اور مکمل دستور حیات ہے جو زندگی کے ہر ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کی مکمل رہنمائی کرتا ہے ۔خوشی و مسرت کا لمحہ ہو یا رنج و الم کا مرحلہ اس کا دامن ہدایت سے خالی نہیں اور اسلام تو خوشیوں کا مذہب ہے۔ یہ خوشی کے لمحات میں مسرت کے اظہار پر کوئی قدغن نہیں لگاتا مگر اتنا ضرور ہے کہ خوشی و شادمانی کے حوالے سے اس کا اپنا ایک خاص زاویہ نظر ہے۔

 اسلام ایسی خوشی کو قطعاً پسند نہیں کرتا جس سے اللہ اور اس کے محبوب پاکﷺ کی نافرمانی ہو، نخوت وغرور کی بو آئے، تکبر کی جھلک نمایاں ہو، خوشی کی آڑ میں اخلاقی قدریں پامال ہوں اور شرعی حدودسے تجاوز کیا جائے۔

 قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے ’’تکبر سے لبریز خوشی مت کر ،بے شک اللہ ایسی خوشی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا‘‘ (القصص:67)مگر جو خوشی و مسرت تشکر و عاجزی سے بھر پور ہو اللہ و رسول کریمﷺ کی رضا کیلئے اور شرعی تقاضوں کے عین مطابق ہو، اسلام ایسی خوشی کی بھر پور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

 جہاں تک رمضان المبارک کا تعلق ہے یہ پورا ماہ منور ہمارے لئے اللہ کا عظیم اور خصوصی فضل و انعام ہے۔ اس ماہ مقدس میں کلام الہٰی قرآن مجید جیسی عظیم اور انقلابی کتاب کا نزول ہوا جو مومنین کیلئے سراسر رحمت ہے، سرچشمہ ہدایت ہے اور کامل دستور حیات بھی ہے۔ جس کی بدولت بے شمار انسانیت کی فلاح و نجات ہوئی۔  ماہ رمضان کو امت مسلمہ کی بخشش کا ذریعہ بنا کے شکرانے کیلئے ہمیں خدا نے عید الفطر کا یہ بابرکت یوم سعید تحفہ رمضان کی صورت میں عطا فرمایا۔

عید الفطر اسی ماہ کامران رمضان کے انعامات میں سے ایک انعام ہے۔ یہ مقدس دن بارگاہ الٰہی میں سجدہ شکر بجا لانے کا یوم ہے۔

اللہ نے ہمیں رمضان المبارک عطا فرمایا، جس کے صدقے میں آج کا یہ حقیقی خوشیوں سے بھر ا دن عید الفطر نصیب ہو رہا ہے۔ ہم نے رمضان المبارک کی عظیم ساعتوں میں رحمتوں برکتوں سے اپنی جھولیاں بھریں تو اللہ نے اپنی ان نعمتوں پر شکر اور خوشی ظاہر کرنے کیلئے مسلمانوں کو یہ عید کا پر مسرت یوم عطا کیا ہے۔ہمارا رب تو یہ چاہتا ہے اور یہ پسند فرماتا ہے کہ اس کے بندے اظہار مسرت کریں اور اس کی نعمتوں کا کثرت سے شکریہ ادا کریں۔ 

 روزوں کی فرضیت اور احکام بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ تم اللہ کی تکبیر کہو اس پر کہ اسْ نے تم کو ہدایت دی۔جب رمضان کے دن پورے ہو جائیں تو اللہ کی طرف سے رمضان کے احکام کی پابندی کرنے اور اس کا شکرادا کرنے پر تم تکبیر کہو اور تکبیر والی نماز پڑھو، ایسی نماز جس میں تمام نمازوں سے زیادہ تکبیریں ہیں۔ 

رمضان میں عطا کی جانے والی نعمتوں کے شکرانے کو ہم عید الفطر کہتے ہیں۔ اس دن مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کو مبارک دینا اور باہمی محبت و الفت کو ظاہر کرنا چاہیے۔ خدا کو اپنے بندوں کی یہ ادا بڑی پیاری لگتی ہے کہ اس کے بندے اس کی رضا کیلئے آپس میں پیار و محبت کریں، اکٹھے ہوں، مل کر خوشیاں منائیں اور اس کی نعمتوں کا شکرادا کریں۔ 

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اہل مدینہ سال میں دو دن تہوار مناتے تھے، جن میں وہ کھیل تماشے لہب و لہو کیا کرتے۔ سرکار دوعالم ﷺ نے ان سے پوچھا تم یہ جو دو دن بطور تہوار مناتے ہو ان کی کوئی حقیقت اور حیثیت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عہد جاہلیت میں یہ دو دن کا تہواراسی طرح مناتے تھے۔  سرکار دوعالم ﷺ نے اپنے غلاموں سے فرمایا کہ اللہ کریم نے ان تہواروں کے بدلے تمہیں ان سے بہتر دو دن عید الفطر اور عید الاضحی مقرر فرمادئیے ہیں ۔ عید کے دن حجامت بنوانا،ناخن تراشنا،غسل کرنا،مسواک کرنا، خوشبو لگانا،اچھے صاف ستھرے کپڑے پہننا، عید گاہ راستہ بدل کر جا نا، نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔

 حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ عیدالفطر کی رات کو اللہ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے والوں کو اجر عطا فرماتا ہے۔ ابن عباس کی روایت میں ہے کہ عید الفطر کی رات کو لیلتہ الجائزہ کہا جاتا ہے۔ اس رات کی صبح فرشتوں کو زمین پر اترنے کا حکم ہوتا ہے۔ وہ گلیوں کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایک ایسی آواز سے پکارتے ہیں جس کو جن و انس کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے۔فرشتے کہہ رہے ہوتے ہیں اے غلامان مصطفیﷺ آؤ اپنے رب کی طرف جو کریم ہے، اس کی عطا کثیر ہے، وہ بڑے گناہ معاف فرماتا ہے۔ جب وہ عید گاہوں کی طرف چلتے ہیں تو  اللہ کریم فرشتوں سے فرماتا ہے کہ جو وہ دعا کرتے ہیں اللہ قبول فرماتا ہے، جو مغفرت طلب کرتے ہیں اس کو بخش دیا جاتا ہے، جب یہ گھر لوٹتے ہیں تو بخشے ہو ئے ہوتے ہیں۔

 لفظ عید کے تین معنی ہیں ، واپس آنا،توجہ کرنا،مسرت ہونا۔ یہ عود سے نکلا ہے، عود یعنی واپس آنا۔ عید کے انعامات، اکرامات اعزازت اور خوشیاں ہر سال لوٹ کر آتی ہیں، اس لئے اس دن کو عید کہا جاتاہے۔ لفظ عید یاد دلاتا ہے کہ آج کی تاریخ کی وہ خوشیاں جو گزشتہ برس آئی تھیں وہ واپس آگئی ہیں۔ ان کو دوبارہ حاصل کر لو۔ لفظ عید یہ سبق دیتا ہے کہ یہ دن ایک سال کے بعد پھر واپس لوٹے گا لہٰذا اپنے آپ کو پھر حصول انعامات کے اہل بناؤ۔

آج عید کا یوم سعید ہے، ماہ صیام کے اختتام پر مسلمانوں کا یہ عظیم مذہبی تہوار درحقیقت اسلام کا ایک مقدس شعار ہے۔ اس روزفرزندان توحید رمضان المبارک میں عبادت ریاضت توفیق عطا ہونے پر اللہ کریم کا شکر بجا لاتے ہیں۔ نماز عید الفطر کے بڑے بڑے اجتماعات میں لوگوں کے ایک ساتھ جمع ہونے سے معاشرے میں اتحادویکجہتی اور محبت و روداری کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ اس عظیم الشان موقع پر باہمی روابط بڑھنے سے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونے کے جذبات فروغ پاتے ہیں۔ عید کا پرمسرت یوم امیر غریب، افسر و ماتحت، تاجر و مزدور سب کیلئے ایک جگہ جمع ہونے کا موجب بنتا ہے یوں مساوات اور یگانگت کے ولولہ انگیز مظاہرے کے ذریعے مسلمانوں کی ملی شناخت آشکار ہوتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

T-20 کرکٹ کا سنسنی خیز فارمیٹ

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ 2024ء کے آغاز میں 6 روز باقی رہ گئے،انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یکم جون2024ء سے کیریبین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے نویں ایڈیشن کی میزبانی کر رہی ہے۔ٹی 20، کرکٹ کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز فارمیٹ ہے، قارئین کیلئے ٹی 20ورلڈکپ کی مختصر تاریخ پیش خدمت ہے۔

بھیڑ اور بھیڑیا

بھیڑیا اپنے گھر میں بیٹھا آرام کر رہا تھا جب اسے باہر سے اونچی ،اونچی آوازیں آئیں۔پہلے تو وہ آنکھیں موندے لیٹا رہا لیکن جب شور مسلسل بڑھنے لگا تو اس نے سوچا باہر نکل کر دیکھناتو چاہیے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔گھر سے باہر جا کر دیکھا تو سامنے 2 بھیڑیں کھڑی آپس میں لڑ رہی تھیں۔

سچی توبہ

خالد بہت شرارتی بچہ تھا۔ سکول اور محلے کا ہر چھوٹا بڑا اس کی شرارتوں سے تنگ تھا۔ وہ جانوروں کو بھی تنگ کرتا رہتا ، امی ابو اسے سمجھاتے مگر خالد باز نہ آتا۔

ذرامسکرائیے

اُستاد(شاگرد سے) انڈے اور ڈنڈے میں کیا فرق ہے؟ شاگرد: ’’کوئی فرق نہیں‘‘۔ اُستاد: ’’وہ کیسے‘‘؟شاگرد: ’’دونوں ہی کھانے کی چیزیں ہیں‘‘۔٭٭٭٭

پہیلیاں

مٹی سے نکلی اک گوری سر پر لیے پتوں کی بوری جواب :مولی٭٭٭٭

ادائیگی حقوق پڑوسی ایمان کا حصہ

اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ دو باتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک۔ اسی لیے جیسے شریعت میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے حقوق ملتے ہیں، اسی طرح ایک انسان کے دوسرے انسان پر بھی حقوق رکھے گئے ہیں۔