تنقید اور کہانی کی منطق

تحریر : پروفیسر وقار عظیم


کہانی کا خاتمہ یا انجام قابل قبول بھی اور موثر ہونا چاہئے ،بڑی بات یہ ہے کہ وہ دلوں میں اپنے سنج ہونے کا یقین پیدا کر سکے کہانی کی منطق ہر موقع اور محل پر ضرورت اور اہمیت کے پیش نظر نئی صورتیں اختیار کرتی ہے

کسی نے کہانی کی تعریف یہ کہہ کر کی ہے کہ کہانی ایک حل طلب معمہ ہے اور یہ بات سچ ہے، اور معتبر منطق بھی اس بات کو سچ تسلیم کرے گی کہ کہانی میں اگر معمہ کی کیفیت نہ ہو تو پڑھنے والے یا سننے والے کیلئے اس میں ذرا بھی کشش نہیں۔ کہانی کا معمہ ہونا ہی اسے دلچسپ بناتا ہے۔ کہانی ایک اہم اور بعض صورتوں میں پیچیدہ سوالیہ نشان ہے۔ کہانی شروع ہوتی اور ارتفاع کی منزلیں طے کرتی ہوئی انجام کی طرف بڑھتی رہتی ہے اور یہ سوالیہ نشان آہستہ آہستہ گھٹتا اور نظر کے سامنے سے غائب ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک واضح، اطمینان بخش، موثر اور مُسکت جواب اس کی جگہ لے لیتا ہے اور کہانی اس جواب پر ختم ہو جاتی ہے۔

اس باب کو کسی اور نقاد نے یوں کہا ہے کہ ’’کہانی سوال سے جواب تک کے سفر کا نام ہے‘‘ یا یوں کہئے کہ کہانی شروع ہوئی ہے اور شروع ہوتے ہی اس کے سننے اور پڑھنے والے کے ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے اور اس سوال کا جواب حاصل کرنے کیلئے وہ واقعات کی زد کے ساتھ یا کرداروں کے عمل کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ اس لئے کہانی سنانے والے کا کام بس اتنا ہے کہ کہانی کو سوال سے شروع کرکے جواب تک پہنچا دے۔

 امریکہ کی سہل خومشیں زدہ زندگی میں ہر مشکل کو آسان بنا لینے کے جو نسخے ہر گھڑی ایجاد ہوتے رہتے ہیں۔ ان میں ایک نسخہ کہانی لکھنے کا بھی ہے، بڑا آسان اور سیدھا سادا اور منطقی نسخہ۔ افسانہ نویسی کے ایک مدرسے میں افسانہ لکھنے کے فن کی تعلیم ایک استاد اس جملے سے شروع کرتا تھا: ’’Begin at begining and go on till you come to the end begining there start‘‘ لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ منطقی اسلوب کے سانچے میں ڈھلا ڈھلایا یہ نسخہ اس منطق کی بالکل ضد ہے جسے میں نے کہانی کی منطق کہا ہے۔ مشینی ذہن کی پیدا کی ہوئی اس منطق کی تردید میں کسی دل جلے نے کہانی لکھنے کا جو اصول وضع کیا ہے وہ یہ ہے کہ :

Begin at the end and go back  till you come to the begining there start"

کوئی مانے یا نہ مانے حقیقت میں کہانی کی منطق یہی ہے اور بظاہر اُلٹی معلوم ہونے کے باوجود بالکل سیدھی منطق بھی یہی ہے۔ کہانی کہنے یا لکھنے والے کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ کہانی سنا چکے توسننے اور پڑھنے والے اس کی طرف سے مطمئن ہوں۔

کہانی کا خاتمہ یا انجام ان کیلئے قابل قبول بھی ہو اور موثر بھی اور بڑی بات یہ کہ وہ  ان کے دلوں میں اپنے سنج ہونے کا یقین پیدا کر سکے۔ کہانی پڑھتے وقت انہیں جو کچھ جھوٹ معلوم ہوا تھا وہ سچ کی صورت اختیار کرے، جس بات کی طرف سے ان کے دلوں میں شبہ تھا وہ یقین بن کر دل میں بیٹھ جائے اور جو چیز کسی نہ کسی طرح کے تذبذب، الجھن اور خلش کا سبب بنی تھی، وہی سکون اور انبساط کا وسیلہ ثابت ہواور ان سب باتوں سے بھی بڑھ کر یہ کہانی کا انجام ان میں پوری طرح منطقی معلوم ہو، کہانی کے پچھلے حصوں میں گزرنے والے واقعات نے ان کے ذہن میں جس طرح کے نتیجے کی توقع پیدا کی تھی، نتیجہ یا انجام اس توقع کے مطابق ہو۔ اسی منطقی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے قصہ گو اس منطق کو اپناتا ہے جو دوسروں کیلئے  الٹی اور قصہ گو کیلئے سیدھی ہے۔ یہ منطق سوال پیدا کرنے کے بجائے سوالوں کا جواب دینے کو اپنا  فنی منصب جانتی ہے اور اس لئے کہانی سننے والا جو سفر کہانی کی ابتدا سے شروع کرتا ہے۔ کہانی سنانے والا اس کی ابتدا انجام سے کرتا ہے۔ وہ اپنا سفرقاری کی منزل مقصود سے شروع کرکے سفر کے پہلے مرحلے تک پہنچتا اور پھر یہاں سے قاری یا سامع کے سفر میں منزل بہ منزل اس کے ساتھ رہتا ہے۔

کہانی کو انجام سے شروع کرکے آغاز تک پہنچنا اور وہاں پہنچ کر کہانی شروع کرنے کے سوال اور ضابطہ کی تعمیل کہانی والے فنکار کے کام کی پہلی منزل ہے۔ اس منزل سے گزر کر اسے جو سفر نئے سرے سے شروع کرنا پڑتا ہے اس میں ہر جگہ اسے منطق کی رہنمائی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اور یہ منطق ہر موقع اور محل پر ضرورت اور اہمیت کے پیش نظر نئی صورتیں اختیار کرتی ہے۔

کہانی کو اپنے اس منطقی سفر میں جن مرحلوں اور منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے فن نے انہیں مختلف نام دیئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کہانی کے سارے مرحلے کہانی سننے یا پڑھنے والے کی جذباتی اور نفسیاتی کیفیتوں کی بدلتی ہوئی صورتیں ہیں۔ کہانی شروع ہوتے ہی واقعات کو اور ان واقعات سے تعلق رکھنے والے کرداروں کو ایک خاص راستے پر ڈالتی ہے لیکن زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ واقعات کا رخ بدل جاتا ہے اور واقعات کا رخ بدلتے ہی کہانی پڑھنے والے کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہانی ہمیں کدھر لئے جا رہی ہے۔ 

کہانی آگے بڑھتی رہتی ہے اور پڑھنے والے کا یہ سوال زیادہ واضح اور زیادہ اہم بنتا جاتا ہے، اہم اس لحاظ سے کہ یہی سوال پڑھنے والے کو الجھن، کشمکش اور تذبذب میں بھی مبتلا کرتا ہے۔ اسی سے اس کے دل میں امید وبیم کی کیفیتیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ یہی سوال دل کی دھڑکنوں کو کبھی گھٹاتا، کبھی بڑھاتا اور اسے اتار چڑھائو اور مدو جزر کے مزے چکھاتا ہے، کرب و خلش میں مبتلا کرتا، یقین اور یقینی کے جھکولے دیتا، شوق کو بیدار کرکے اسے تھپکیاں دیتا ہوا۔ ایک ایسے مقام پر لاکھڑا کرتا ہے جہاں سوال اور اس سوال سے پیدا ہونے والے کئی ضمنی سوالوں کا جواب پا لینے کی آرزو اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور اعصاب کے تاروں میں ایسی کھنچن اور ایسا تنائو پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر فوراً جواب نہ ملے تو اعصاب کے یہ تار ایک جھنا کے سے ٹوٹ جائیں۔ کہانی کی منطق واقعات کی اسی نفسیاتی ترتیب کا نام ہے۔ یہ ترتیب زندگی کے واقعات سے مشابہ ہونے اور پوری طرح اس کی سچائی کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہونے کے باوجود اس سے مختلف ہوتی ہے کہ یہی فرق اور اختلاف کہانی کی جان اور اس کی روح ہے۔

کہانی کی تمہید جیسا کہ ظاہر ہے، اس سفر کا آغاز ہے جسے قصہ گو اپنے مخاطب کیلئے طے کرتا ہے۔یا یہ کہئے کہ اس طرح کا سامان مہیا کرتا ہے کہ کہانی پڑھنے والے کا یہ سفر دلچسپی اور لطف کے ساتھ کٹے۔ اسے سفر کے کسی مرحلے پر نہ تھکن کا احساس ہو اور نہ اس کے شوق منزل میں فرق آئے بلکہ ہو یہ کہ ہر بڑھتے ہوئے قدم کے ساتھ اس کی آتش شوق تیز سے تیز تر ہوتی رہے۔ اور منزل مقصود تک پہنچنے کی چھپی ہوئی خوشی سفر کی ہر مشکل کو آسان بناتی رہے۔یوں گویا کہانی اصل میں کہانی وہی ہے جو آغاز سے انجام تک دلچسپ بھی ہو اور حصول انبساط کا ذریعہ بھی۔ اس لئے اس کی منطق کا سب سے پہلا اور سب سے اہم ضابطہ یہ ہے کہ کہانی کہنے والا کہانی کی کڑیوں کو اس طرح جوڑے کہ دلچسپی اور انبساط کا سلسلہ کسی جگہ ٹوٹنے نہ پائے۔ 

 

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید الاضحی:صبرووفا،اطاعت ربانی کی عظیم داستان

عید الاضحی ایک اسلامی تہوار ہے اور عبادت و خوشی کے اظہار کا دن بھی ہے۔ ہر قوم میں خوشی کے اظہار کے کچھ دن ہوا کرتے ہیں۔ زمانہ جہالیت میں بھی سرکار دوعالم ﷺجب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگ دو دن ناچ گانے کھیل کود میں گزارا کرتے۔

عید کے دن کیسے گزاریں؟

ادیان عالم میں ہر مذہب سے وابستہ ہر قوم اپنا ایک مذہبی تہوار رکھتی ہے۔ جس میں وہ اپنی خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے جداگانہ تشخص کا اظہار بھی کرتی ہے۔مسلمانوں کی عید دیگر مذاہب و اقوام کے تہواروں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے۔اہل اسلام کی عید اپنے اندر اطاعتِ خداوندی،اسوہ نبوی ،جذبہ ایثار و قربانی، اجتماعیت،غریب پروری، انسانی ہمدردی رکھتی ہے۔ جانور کی قربانی کرنا دراصل اسلامی احکامات پر عمل کرنے کیلئے خواہشات کی قربانی کا سنگ میل ہے۔

فلسفہ قربانی:تاریخ،اسلامی اور معاشی حیثیت

اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر قوم میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ ہزاروں سال پہلے جب انسان اپنے حقیقی خالق و مالک کو بھول چکا تھا اور اپنے دیوتاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے یا ان کے نام کی نذر و نیاز مانتے ہوئے جانور کو ذبح کر کے ان کے سامنے رکھ دیتا تھا اور یہ عقیدہ رکھتا کہ اب دیوتا مجھے آفات سے محفوظ رکھیں گے۔

پیغمبروں کی عظیم قربانی

ماہ ذوالحجہ قمری سال کا آخری مہینہ ہے، رب ذوالجلال نے جس طرح سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان المبارک کو اور پھر رمضان المبارک کے تین عشروں میں سے آخری عشرہ کو جو فضیلت بخشی ہے بعینہ ماہ ذوالحجہ کے تین عشروں میں سے پہلے عشرہ کو بھی خاص فضیلت سے نوازاہے۔

گرین شرٹس کو واپسی

آئی سی سی مینز ٹی20ورلڈکپ کے گزشتہ 8 ایڈیشنز میں تین بار سیمی فائنل اور تین بار فائنل کھیل کر ایک بار ورلڈ چیمپئن بننے والی پاکستان کرکٹ ٹیم امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں جاری ٹی20ورلڈ کپ کے 9ویں ایڈیشن میں گروپ مرحلے سے ہی آئوٹ ہو گئی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں متاثر کن ریکارڈ کا حامل پاکستان فائنل یا سیمی فائنل تو بہت دور کی بات، سپرایٹ مرحلے کیلئے بھی کوالیفائی نہ کر سکا۔

ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 اب تک کے ریکارڈز

بہترین بلے بازورلڈ کپ 2024ء میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی افغانستان کے رحمت اللہ گرباز ہیں، جنہوں نے 3 میچ کھیل کر 167رنز بنائے ہیں۔ اس فہرست میں امریکہ کے ارون جونز141 رنز کے ساتھ دوسرے، آسٹریلیا کے وارنر 115 رنز کے ساتھ تیسرے، افغانستان کے ابراہیم زردان 114 رنز کے ساتھ چوتھے اور امریکہ کے غوث 102 رنز کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔