یادرفتگاں: علامہ نیازفتح پوری کی ذہنی و فکری وسعت

تحریر : صابر علی


وہ ایک جدید صوفی کے روپ میں نظر آتے ہیںجس نے اسلام کی رُوح تلاش کرنے کی دیانتداری کیساتھ کوشش کی ادب کی مختلف اصناف پر طبع آزمائی کرکے انہوں نے ہر پہلو کو سجایا اوراپنے آ پ کو کسی ایک خاص صنف کا پابند نہیں کیا

جستہ جستہ

علامہ نیاز فتح پوری 28 دسمبر 188 کو فتح پور، سہوہ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1922ء  میں ایک ادبی جریدہ’’ نگار ‘‘جاری کیا جو تھوڑے ہی عرصے میں اردو میں روشن خیالی کی ایک مثال بن گیا۔ علامہ نیاز فتح پوری نے 35 کتابیں یادگار چھوڑی ہیں جو ان کے فکر و فن اور انشا پردازی کا عمدہ نمونہ ہیں۔ وہ شاعر اور افسانہ نگار بھی تھے اور مؤرخ و ماہر مترجم بھی۔ ہمہ جہت نیاز فتح پوری کی کتاب ’’من و یزداں‘‘، ’’نگارستان‘‘، ’’شہاب کی سرگزشت‘‘، ’’جمالستان‘‘ اور ’’انتقادیات‘‘ علمی و ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہیں۔ انھیں بعض نظریات اور روشن خیالی کے سبب تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔نیاز فتح پوری 24 مئی 1966ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔وہ کراچی میں مدفون ہیں۔

اردو ادب میں علامہ نیاز فتح پوری کی شخصیت مختلف پیچ و خم کے ساتھ ابھرتی ہے۔ وہ اپنے ہم عصروں میں ایک انفرادی مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے تاریخی و تحقیقی ادب کے ساتھ ساتھ اردو کو وہ ادب بھی دیا جس میں اس زمانے کے عصری رجحانات کو سمجھنے پرکھنے اور پیش کرنے کا حوصلہ پایا جاتا ہے۔ نیاز کے یہاں ایک طرف تحقیق کا ذوق کار فرما ہے تو دوسری طرف ان کے تخلیقی کارنامے بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ جنہوں نے نیاز فتح پوری کی ادبی حیثیت کو کافی بلند کیا ہے۔ وہ اگر صرف محقق بن جاتے اور تاریخی و تحقیقی واقعات کو تحریر کرنا اپنا مقصد اوّلین بنا لیتے تو آج اتنی جاذب اور ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہرگز نہ ہوتے۔ انہوں نے جو کچھ لکھا اس کے ایک ایک جملے میں خواہ وہ علمی ہو یا تاریخی، تحقیقی ہو یا تخلیقی، غرض کہ ساری تحریریں ان کی انتھک کاوشوں اور انتہائی غور و فکر کا نتیجہ ہیں۔

نیاز فتح پوری کے والد کا نام محمد امیر خاں اوروطن فتح پور تھا ۔ ان کے تمام اعزا و اقربا سب ناخواندہ اور اکھڑ پٹھان تھے جن کا پیشہ سپہ گری اور تلوار ذریعہ معاش تھا۔ یہ لوگ ایک گڑھی سی بنا کر رہتے تھے۔ 

 ان کی والدہ کو تعلیم کا شوق تھا، وہ اپنے بچے کی تعلیم کیلئے بڑی خواہش مند تھیں۔ ان کی اس غیر معمولی دلچسپی کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے بہت سا اثاثہ اور زیور تک بیچ کر اپنے اس ارادے کو پورا کیا۔ نیاز فتح پوری نے 1898ء میں مڈل سکول اور 1899ء میں میٹرک کا امتحان فتح پور سے پاس کیا تھا۔ ان تمام علمی اور ادبی مسائل کو سمجھنے کا جو شعور انہیں حاصل ہوا تھا اس میں ان کے اساتذہ نے بہت اہم رول ادا کیا تھا۔ انسان زندگی میں جو کچھ سیکھتا ہے اس کیلئے اس کو ماہرین فن کے سامنے اپنا سر نیاز خم کرنا پڑتا ہے۔ وہ قابل ذکر اساتذہ جنہوں نے نیاز فتح پوری کے ذہن کو متاثر کیا اور جن سے انہوں نے مثبت یا منفی اثر قبول کیا ہمیشہ نمایاں طور پر ان کی حیات اور علم و حکمت پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ مولانا سید ظہور الاسلام، جن کا شمارندوۃ العلماء کے محرکوں میں ہوتا ہے۔ مدرسہ اسلامیہ فتح پور کے بانی تھے ان کے علم و حکمت سے نیاز فتح پوری کو فیض پہنچا اور ذوق و جستجو کی بدولت وہ ان سے بہت قریب رہے۔ انہوں نے بھی محنت اور جانفشانی سے نیاز فتح پوری کو علم کی دولت بخشنے میں کسی قسم کا دریغ نہ کیا۔ 

مولانا نور محمد جو مدرسہ اسلامیہ فتح پور میں استاد تھے ان کو عربی پر کامل عبور حاصل تھا۔ نیاز فتح پوری کو ان سے شاگردی کا شرف حاصل رہا۔ عربی زبان اور ادب کا درس انہی سے ملا۔ مولانا فاروق چڑیا کوٹی کے علم و فضل کے چرچے دور دور تھے، ان سے بھی نیاز نے علم کی دولت حاصل کی۔ مدرسہ عالیہ رام پور میں بھی کچھ وقت حصول تعلیم کیلئے گزرا۔ اس مدرسہ کے پرنسپل مولانا نصیب تھے جو علم و فضل کے اعتبار سے اس دور کی نمایاں شخصیات میں شمار کئے جاتے تھے۔ ان کے زیر نگرانی انہوںنے اپنے دائرہ علم کو وسیع کیا۔ رام پور کے مدرسہ عالیہ کے ایک اور استاد وزیر محمد خاں سے بھی شرف قلمبند حاصل رہا۔ مولوی اعزاز علی، ہیڈ ماسٹر شاخ انگریزی مدرسہ اسلامیہ فتح پور کی شاگردی کا فخر بھی نیاز فتح پوری کو حاصل رہا۔

نیاز فتح پوری کا ذہن زرخیز اور فکر حسین ہے۔ ان کا تخلیق کردہ ادب ذہن کی وسعتوں اورفکر کی جمال آرائیوں سے مزین ہے۔ ادب کی مختلف اصناف پر طبع آزمائی کرکے انہوں نے ہر پہلو کو سجایا اورخود کو کسی ایک خاص صنف کا پابند نہیں کیا جبکہ ان کا سابقہ ایسے لوگوں سے بھی تھا جو زندگی کے کسی شعبہ میں کوئی تبدیلی گوارا کرنے پر آمادہ نہیں تھے اور اپنے بنائے ہوئے چند اصولوں پر قائم رہنے کو ہی اپنا مقصد زندگی سمجھتے تھے۔ 

دوسری طرف اس نظریے کے لوگ تھے جو تغیر، تبدیلی اور انقلاب ہی کو زندگی کی حرارت کا نام دیتے تھے۔ اوّل الذکر لوگوں کو یہ احساس نہیں تھا کہ حرکت ہی دراصل زندگی کا نام ہے اور اس دور کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ احساس پیدا ہونا بھی بظاہر مشکل بلکہ ناممکن تھا۔ آخر الذکر بھی اس جوش انقلاب میں اکثر راہ سے بے راہ ہو جاتے تھے لیکن نیاز فتح پوری کو یہ احساس تھا کہ یہ لوگ اپنے ذہن میں تغیر اور انقلاب کا کوئی واضح تصور نہیں رکھتے ہیں بلکہ اپنی عقل کی بتائی ہوئی راہوں پر گامزن ہیں۔ اس لئے انہوں نے اپنے لیے ایک درمیانی راہ تلاش کی اور اس کے ذریعہ دونوں طبقوں کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش کا خاطر خواہ اثر ان کی صحافت پر پڑا۔ وہ ایک کامیاب صحافی ثابت ہوئے اور 44سال تک بہت پابندی سے لوگوں کے ذہنوں پر اپنی فکر کے اثرات مرتب کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیاز فتح پوری کی تخلیقات ’’سرد خانوں‘‘ کی نذر ہونے کے بجائے زندگی کے ہر ’’ سرد و گرم‘‘ سے عہدہ برا ہوتی رہیں۔ اور قارئین کی نظر میں بے کیف و بے فیض ہونے کے بجائے دلکش دلچسپ اور متحرک بنی رہیں۔

نیاز فتح پوری کی تحریروں کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ رومانیت کے خاص انداز فکر اور جمالیاتی احساس کے اچھوتے زاویوں پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے ادب کی دنیا میں اس وقت قدم رکھا کہ جب رومانی انداز فکر کی بنا پڑ رہی تھی اور ایک خاص کلاسیکی دور سے ادبی فضا میں اکتاہٹ پیدا ہو چکی تھی۔ اس اکتاہٹ کا ردعمل یہ رومانیت تھی جس کو انہوںنے اپنی تحریروں میں سمو دیالیکن اس کے باوجود وہ صرف رومان پرور نہیں ہیں بلکہ سماجی اور معاشرتی مسائل پر غورو فکر اور اس کا حل پیش کرنے کی کوشش بھی ان کے یہاں بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ان کی رومانی تحریریں اس دور کے مذہبی اور روایتی انداز فکر کے خلاف اعلان بغاوت کا درجہ رکھتی تھیں۔اپنے انشائی اسلوب کے لحاظ سے اور فکر کے اعتبار سے بھی اگر نیاز فتح پوری کی تمام تحریروں کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے یہاں ایک چونکا دینے والا انداز نظر آتا ہے چاہے وہ ’’ من و یزداں‘‘ ہو یا ’’انتقادیات‘‘۔ ان کی تحریریں خود بھی فکرمیں ڈوبی ہوئی معلوم ہوتی ہیںاور قارئین کو بھی کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

نیاز فتح پوری جیسے قلم کاروں نے اسلام کے عظیم اور لازوال پیغام انسانیت کو اپنی تعقل پسندی اور دلائل و براہین کی مدد سے مقبول بنانے نیز اس میں استقامت پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اپنی اس کوشش میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ جس طرح نیاز فتح پوری نے اسلام کے علم کو عالمانہ استدلال کے ہاتھوں میں سنبھالے رکھا۔ یہ ان کے ذہن سلیم اور شعور پختہ کا بین ثبوت ہے۔

نیاز فتح پوری ہمیں اس دور کے ایک جدید صوفی کے لباس میں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کی روح تلاش کرنے کی دیانتداری کے ساتھ کوشش کی۔ ان کی بنیادی فکر جن عناصر سے ترتیب پائی ہے ان میں مذہب اور حسن کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ دراصل یہ حسن پرستی خود ایک مذہب بن کر ان کے یہاں ابھری ،پھر رفتہ رفتہ ان کا ذہن جب فکر کی پختہ منزلوں کی حد میں داخل ہوا تو یہی حسن سمٹ کر ان کے نظریہ مذہب میں سما گیا۔ اور پھر ان کا حسن انشائی اپنے حسن اسلوب کے ساتھ مذہب کے بنیادی اصولوں کا مظہر اور ترجمان بن گیا۔

نیاز فتح پوری کے خیال میں شاعری کا تعلق وجدان سے ہے۔ وہ انسان کیلئے لطف کا باعث بنتی ہے ساتھ ہی ساتھ وہ شاعری کو کسی نہ کسی پیغام کا حاصل ضرور دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اس میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ ملکی یا ملی ہو۔ وہ صرف ایک بات کو دوسرے تک پہنچانے ہی کو دراصل پیغام سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں خود رقم طراز ہیں: ’’ہر فطری شاعری کسی نہ کسی پیغام کا حامل ہوا کرتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ پیغام دنیا کیلئے مفید اور ضروری بھی ہو‘‘

 وہ اپنے ان خیالات پر زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہ سکے اور ان کے نظریات میں بڑی تبدیلی آ گئی۔ بعد میں وہ شعر و ادب کی سماجی اہمیت کے بھی قائل ہو گئے لیکن تاثراتی انداز ان سے نہیں چھوٹا، چونکہ وہ جمالیاتی اور تاثراتی نظریات کے قائل تھے۔ اس لئے ان کی عملی تنقید میں بھی یہی خصوصیات جا بہ جا نظر آتی ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید الاضحی:صبرووفا،اطاعت ربانی کی عظیم داستان

عید الاضحی ایک اسلامی تہوار ہے اور عبادت و خوشی کے اظہار کا دن بھی ہے۔ ہر قوم میں خوشی کے اظہار کے کچھ دن ہوا کرتے ہیں۔ زمانہ جہالیت میں بھی سرکار دوعالم ﷺجب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگ دو دن ناچ گانے کھیل کود میں گزارا کرتے۔

عید کے دن کیسے گزاریں؟

ادیان عالم میں ہر مذہب سے وابستہ ہر قوم اپنا ایک مذہبی تہوار رکھتی ہے۔ جس میں وہ اپنی خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے جداگانہ تشخص کا اظہار بھی کرتی ہے۔مسلمانوں کی عید دیگر مذاہب و اقوام کے تہواروں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے۔اہل اسلام کی عید اپنے اندر اطاعتِ خداوندی،اسوہ نبوی ،جذبہ ایثار و قربانی، اجتماعیت،غریب پروری، انسانی ہمدردی رکھتی ہے۔ جانور کی قربانی کرنا دراصل اسلامی احکامات پر عمل کرنے کیلئے خواہشات کی قربانی کا سنگ میل ہے۔

فلسفہ قربانی:تاریخ،اسلامی اور معاشی حیثیت

اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر قوم میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ ہزاروں سال پہلے جب انسان اپنے حقیقی خالق و مالک کو بھول چکا تھا اور اپنے دیوتاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے یا ان کے نام کی نذر و نیاز مانتے ہوئے جانور کو ذبح کر کے ان کے سامنے رکھ دیتا تھا اور یہ عقیدہ رکھتا کہ اب دیوتا مجھے آفات سے محفوظ رکھیں گے۔

پیغمبروں کی عظیم قربانی

ماہ ذوالحجہ قمری سال کا آخری مہینہ ہے، رب ذوالجلال نے جس طرح سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان المبارک کو اور پھر رمضان المبارک کے تین عشروں میں سے آخری عشرہ کو جو فضیلت بخشی ہے بعینہ ماہ ذوالحجہ کے تین عشروں میں سے پہلے عشرہ کو بھی خاص فضیلت سے نوازاہے۔

گرین شرٹس کو واپسی

آئی سی سی مینز ٹی20ورلڈکپ کے گزشتہ 8 ایڈیشنز میں تین بار سیمی فائنل اور تین بار فائنل کھیل کر ایک بار ورلڈ چیمپئن بننے والی پاکستان کرکٹ ٹیم امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں جاری ٹی20ورلڈ کپ کے 9ویں ایڈیشن میں گروپ مرحلے سے ہی آئوٹ ہو گئی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں متاثر کن ریکارڈ کا حامل پاکستان فائنل یا سیمی فائنل تو بہت دور کی بات، سپرایٹ مرحلے کیلئے بھی کوالیفائی نہ کر سکا۔

ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 اب تک کے ریکارڈز

بہترین بلے بازورلڈ کپ 2024ء میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی افغانستان کے رحمت اللہ گرباز ہیں، جنہوں نے 3 میچ کھیل کر 167رنز بنائے ہیں۔ اس فہرست میں امریکہ کے ارون جونز141 رنز کے ساتھ دوسرے، آسٹریلیا کے وارنر 115 رنز کے ساتھ تیسرے، افغانستان کے ابراہیم زردان 114 رنز کے ساتھ چوتھے اور امریکہ کے غوث 102 رنز کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔