سن بلاک:سورج کی تپش کا توڑ

تحریر : مہوش اکرم


گرمی کا موسم اور سورج کی تپش اپنے عروج پر ہے۔ زمین کا درجہ حرارت بڑھتا جارہا ہے اور سورج بھی اپنی گرمی خوب برسا رہا ہے، گرمی کی وجہ سے نہ صرف ہماری طبیعت بے چین ہوجاتی ہے بلکہ جلد بھی بری طرح جھلس جاتی ہے۔ اس موسم میں اپنی جلد اور رنگت کو دھوپ کی مضر شعاعوں سے بچانے کیلئے سن سکرین یا سن بلاک استعمال کرنا بے حد ضروری ہے۔

اپنی جلد کو سورج کی تپش سے جھلسنے سے بچانے کا واحد حل سن سکرین ہے جس کا مشورہ دنیا بھر کے ڈرماٹولوجسٹ دیتے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سن سکرین یا سن بلاک کام کیسے کرتے ہیں؟ اور سن سکرین کا انتخاب کرتے ہوئے ہمیں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ اس کے حوالے سے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

سن بلاک کے استعمال کے ساتھ ساتھ اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اپنی جلد کی ساخت کے مطابق سن بلاک استعمال کیا جائے۔اگر آپ کی جلد خشک ہے تو سن بلاک لگانے سے پہلے موئسچرائزر ضرور لگائیں۔ اگر جلد چکنی ہے تو ’’ایس پی ایف 50‘‘ سن بلاک بہترین انتخاب ہے۔ اگر آپ کی جلد نارمل ہے تو ’’ایس پی ایف 30 ‘‘سن 

بلاک فائدہ مند ہے۔

سن بلاک کا استعمال باہر جانے سے کم از کم 30 منٹ پہلے کرنا چاہئے۔ یہ وقت اس لئے ضروری ہے تاکہ سن بلاک جلد پر اچھی طرح سیٹ ہوجائے اور پسینہ آنے کی وجہ سے جلد سے ہٹ نہ جائے۔ اس کے علاوہ دھوپ میں گزارے جانے والے ہر دو سے تین گھنٹے بعد سن بلاک دوبارہ استعمال کرنا چاہئے۔

سن بلاک یا سن سکرین کے استعمال کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ آپ میک اپ استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔ میک اپ سن بلاک کے ساتھ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے۔ سن بلاک استعمال کرنے سے پہلے ہمیشہ کوئی اچھا موئسچرائزر استعمال کریں۔ اس طرح جلد سورج سے حفاظت کرنے والی خصوصیات کو اچھی طرح جذب کر سکے گی اور میک اپ کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔

بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ سن بلاک لگانے کے بعد موئسچرائزر استعمال کیا جائے تاکہ سن بلاک اچھی طرح جذب ہوسکے۔ سن بلاک موئسچرائزر کے بعد استعمال کرنے سے اچھے نتائج ملتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اوپر موئسچرائزر استعمال کرنے سے سن بلاک کی ایس پی ایف خصوصیات ماند پڑ جائیں گی اور جلد کی سحیح حفاظت نہیں ہو سکے گی۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید الاضحی:صبرووفا،اطاعت ربانی کی عظیم داستان

عید الاضحی ایک اسلامی تہوار ہے اور عبادت و خوشی کے اظہار کا دن بھی ہے۔ ہر قوم میں خوشی کے اظہار کے کچھ دن ہوا کرتے ہیں۔ زمانہ جہالیت میں بھی سرکار دوعالم ﷺجب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگ دو دن ناچ گانے کھیل کود میں گزارا کرتے۔

عید کے دن کیسے گزاریں؟

ادیان عالم میں ہر مذہب سے وابستہ ہر قوم اپنا ایک مذہبی تہوار رکھتی ہے۔ جس میں وہ اپنی خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے جداگانہ تشخص کا اظہار بھی کرتی ہے۔مسلمانوں کی عید دیگر مذاہب و اقوام کے تہواروں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے۔اہل اسلام کی عید اپنے اندر اطاعتِ خداوندی،اسوہ نبوی ،جذبہ ایثار و قربانی، اجتماعیت،غریب پروری، انسانی ہمدردی رکھتی ہے۔ جانور کی قربانی کرنا دراصل اسلامی احکامات پر عمل کرنے کیلئے خواہشات کی قربانی کا سنگ میل ہے۔

فلسفہ قربانی:تاریخ،اسلامی اور معاشی حیثیت

اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر قوم میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ ہزاروں سال پہلے جب انسان اپنے حقیقی خالق و مالک کو بھول چکا تھا اور اپنے دیوتاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے یا ان کے نام کی نذر و نیاز مانتے ہوئے جانور کو ذبح کر کے ان کے سامنے رکھ دیتا تھا اور یہ عقیدہ رکھتا کہ اب دیوتا مجھے آفات سے محفوظ رکھیں گے۔

پیغمبروں کی عظیم قربانی

ماہ ذوالحجہ قمری سال کا آخری مہینہ ہے، رب ذوالجلال نے جس طرح سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان المبارک کو اور پھر رمضان المبارک کے تین عشروں میں سے آخری عشرہ کو جو فضیلت بخشی ہے بعینہ ماہ ذوالحجہ کے تین عشروں میں سے پہلے عشرہ کو بھی خاص فضیلت سے نوازاہے۔

گرین شرٹس کو واپسی

آئی سی سی مینز ٹی20ورلڈکپ کے گزشتہ 8 ایڈیشنز میں تین بار سیمی فائنل اور تین بار فائنل کھیل کر ایک بار ورلڈ چیمپئن بننے والی پاکستان کرکٹ ٹیم امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں جاری ٹی20ورلڈ کپ کے 9ویں ایڈیشن میں گروپ مرحلے سے ہی آئوٹ ہو گئی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں متاثر کن ریکارڈ کا حامل پاکستان فائنل یا سیمی فائنل تو بہت دور کی بات، سپرایٹ مرحلے کیلئے بھی کوالیفائی نہ کر سکا۔

ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 اب تک کے ریکارڈز

بہترین بلے بازورلڈ کپ 2024ء میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی افغانستان کے رحمت اللہ گرباز ہیں، جنہوں نے 3 میچ کھیل کر 167رنز بنائے ہیں۔ اس فہرست میں امریکہ کے ارون جونز141 رنز کے ساتھ دوسرے، آسٹریلیا کے وارنر 115 رنز کے ساتھ تیسرے، افغانستان کے ابراہیم زردان 114 رنز کے ساتھ چوتھے اور امریکہ کے غوث 102 رنز کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔