اسلام کی عالم گیرترویج میں سفراءنبی ﷺکا کردار

تحریر : مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی


حضور اکرم ﷺ نے اسلام کے آفاقی پیغام کو دنیا بھر تک پہنچانے کیلئے مختلف قوموں اورمذاہب کے سرکردگان کی طرف مراسلات و مکتوبات روانہ فرمائے۔ اِن مراسلات و مکتوبات کے اندر ہر ایک کو واضح انداز میں اسلام کا پیغام پہنچاتے ہوئے لکھا کہ اسلام قبول کرنے سے انکار کرنے کا وبال نہ صرف اس لیے پڑے گا کہ تم نے اپنی ذات کیلئے انکار کر دیا بلکہ تمہارے انکار کی وجہ سے تمہاری قوم بھی ہدایت سے دور رہے گی، جس کی ضلالت و گمراہی کا وبال بھی تم پر ہی پڑے گا۔

اپنے عقیدہ و نظریہ کے فروغ کیلئے مراسلات ومکتوبات بھیجنے کی نظیر دنیا کے کسی سابقہ مذہب کی تاریخ میں نہیں پائی جاتی۔صلح حدیبیہ کے بعد نبی کریم ﷺ نے کفار کی طرف سے ہونے والے ممکنہ حملوں، سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو جب حکمت عملی کے تحت ایک معاہدہ کے ذریعے روک دیا تو آپ ﷺ نے فروغِ اسلام کیلئے مختلف ممالک کے بادشاہوں اور مختلف قبائل کے سرداروں کی طرف دعوتِ حق دے کر اپنے سفیروں کو روانہ فرمایا۔ اس سلسلہ میں ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بطور سفیر منتخب کیا گیا جو متعلقہ علاقوں، اقوام کے رسم و رواج، زبان اور کلچر سے بخوبی واقف تھے۔نبی کریم ﷺ نے جب دنیا کے مختلف بادشاہوں اور امراء کے نام خطوط لکھے تو ان پر مہر ثبت کرنے کیلئے چاندی کی ایک انگوٹھی تیار کی گئی جس پر تین الفاظ درج تھے۔ سب سے اوپر لفظ اللہ ، دوسری سطر میں لفظ رسول اور تیسری سطر میں لفظ محمد لکھا گیا تھا۔

حضور نبی اکرمﷺ کے تمام سفراء وہ عظیم المرتبت ہستیاں تھیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنی جانوں پر دین اسلام اور اعلائے کلمۃ الحق کو مقدم رکھا۔ ان صحابہ کرام کی فضیلت و عظمت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مراسلات و مکتوبات نبوی لے کر اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دین اسلام کی ترویج کیلئے متعلقہ لوگوں تک گئے۔

رسولِ اکرم ﷺ کے سفرا ء کے اسمائے گرامی

سیرت ابن ہشام میں ہے کہ ایک دفعہ حضور نبی اکرمﷺ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمت بنا کر بھیجا ہے، تم میری طرف سے اسے دوسروں تک پہنچائو۔ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔ بعد ازاں نبی کریم ﷺ نے مختلف صحابہ کرام کو دیگر اقوام وممالک کی طرف دین اسلام کی اشاعت کیلئے اپنے خطوط دے کر بھیجا۔ ان سفراء صحابہ کے نام اور جن کی طرف بھیجا گیا ان کا اجمالی جائزہ درج ذیل ہے۔

تاریخ اسلام کے سب سے پہلے سفیر حضرت جعفر ؓ بن ابی طالب تھے جنہیں 5 ہجری میں حبشہ کی طرف سفیر بناکر بھیجا گیا۔ حضرت جعفرؓ بن ابی طالب  نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی اوّل کونبی کریمﷺ کا خط دیا۔ نجاشی اوّل نے آپﷺ کا مکتوب پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔حضرت عمرو بن امیہ کنانی ؓ نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی ثانی کو 6 ہجری میںنبی کریمﷺ کا خط دیا۔ اس نے خط  آنکھوں پر رکھا، تخت سے اتر کر زمین پر بیٹھ گیا اور اسلام قبول کیا۔

 حضرت دحیہ کلبی ؓ کو قیصر روم ہرقل کی طرف6ہجری کے اواخر میں بھیجا گیا۔ ہرقل نے آپ ؓ سے نبی کریمﷺ کی صفات کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے واضح انداز میں آپ ﷺ کی صفات و خصائل ذکر فرمائے۔ ہرقل نے نبی اکرم ﷺ کی نبوت کی تصدیق کی اور اسلام لانے کا ارادہ کیا مگراس کے حواریوں نے اس کی رائے سے اتفاق نہ کیا۔  اس نے نبی کریم ﷺ کو خط میں لکھا کہ بیشک میں مسلمان ہوں لیکن میں اپنے لوگوں کی وجہ سے مغلوب ہوں اور واضح طور پر اپنے اسلام کا اظہار نہیں کرسکتا۔ حضرت دحیہ کلبی ؓ اس کا خط لے کر آقا ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ اور آپﷺ نے خط پڑھنے کے بعد فرمایا: اللہ کے دشمن نے جھوٹ بولا ہے، وہ مسلمان نہیں ہوا بلکہ اپنی نصرانیت پر قائم ہے۔حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ  کو مصر کے بادشاہ مقوقس کی طرف 6 ہجری کے اواخر میں روانہ کیا گیا۔حضرت شجاع بن وہبؓ  کو حارث بن شمر الغسانی (جو شام میں غسانہ کا بادشاہ تھا)کی طرف روانہ کیا گیا لیکن اس نے اسلام قبول نہ کیا۔ حضرت سلیط بن عمرو العامری ؓ کو 6 ہجری کے اواخر میںیمامہ کے بادشاہ ہوذہ بن علی الحنفی کی طرف بھیجا گیا۔ اس نے اسلام قبول کر لیا۔

حضرت عمرو بن العاصی القرشیؓ کو عمان کے بادشاہ جلندی کے دو بیٹوں جیفر اور عبد کی طرف8ہجری میں مکتوب دے کر بھیجا گیا۔ یہ دونوں مشرف بااسلام ہوئے۔ حضرت علا بن حضرمیؓ بحرین کے بادشاہ منذر بن ساوی العبدی کی طرف 6 ہجری کے اواخر میں بھیجا گیا۔ یہ بھی مشرف بااسلام ہوا۔حضرت الحارث بن عمیر الازدی ؓ کو8ہجری میں شام میں بصری کے بادشاہ کی طرف بھیجا گیا۔ نبی کریمﷺ کے اس سفیر کو بصری کے بادشاہ کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی شرحبیل بن عمر غسانی نے موتہ کے مقام پر شہید کر دیا۔ ان کے قتل کی وجہ سے ہی اس مقام پر غزوہ موتہ ہوا۔9ہجری میں حضرت مہاجر بن ابی امیہؓ  کو یمن کے بادشاہ حارث بن عبد کلال کی طرف بھیجا گیا۔ اس نے اسلام قبول کر  لیا۔

حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی ؓ کو یمن کے رئووسا ذو الکلاع اور ذو عمرو کی طرف 11 ہجری کو روانہ کیا گیا۔ یہ دونوں بھی مشرف با اسلام ہوئے۔9 ہجری میں حضرت معاذ بن جبل الانصاریؓ کو حارث، شرحبیل، نعیم بن عبد کلال کی طرف بھیجا گیا اور یہ تینوں مشرف بااسلام ہوئے۔حضرت ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ کو الحارث بن عبد کلال کے بھائیوں کی طرف 9 ہجری کے اواخر میں بھیجا گیا اور یہ سب مشرف بااسلام ہوئے۔ حضرت عمرو بن حزم الانصاری رضی اللہ عنہ کو نجران کے ابن کعب اور الحارث کے بیٹوں کے طرف 10 ہجری کے اواخر میں بھیجا گیا اور یہ سب مشرف بااسلام ہوئے۔ حضرت عبد اللہ بن حذافہ ؓ  ابرویز بن ہرمز فارس کے بادشاہ کی طرف 7 ہجری کے اوائل میں دعوت نامہ لے کر گئے۔ اس نے حضور نبی اکرم ﷺکے خط مبارک کو پھاڑ دیا۔

قارئین کرام !حضور نبی اکرمﷺ کی پر امن اور مبنی بر حکمت اس دعوت و تبلیغ کے نتیجے میں ایک مختصر مدت میں اسلام خطہ عرب و عجم میں پھیل گیا۔ اسلام کی اس تبلیغ واشاعت میں آپ ﷺکے ان جانثار سفراء صحابہ کرام ؓکا خاص کردار ہے جنہیں اسلام کی ترویج واشاعت کی سعادت نصیب ہوئی۔آج ہم تک دین ان ہی سفراء کرام کی محنتوں سے پہنچا ہے ۔ اللہ پاک ان سفراء کرام کی برکت سے ہمیں دین اسلام کا مبلغ و داعی بنائے اور ان کے نقش قدم پہ چلائے (آمین)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان پندرہ سفرا ء میں سے ایک کو راستے میں شہید کر دیا گیا۔ بادشاہوں میں سے ایک نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکتوب پھاڑ دیا۔ فارس کے بادشاہ ابرویز بن ہرمز اور شام میں غسانہ کا بادشاہ الحارث بن شمر الغسانی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو قبول نہ کیا اور سختی اور دھمکی کے ساتھ اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔

 

 جن ملوک ورئووسا کی طرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سفرا ء کو بھیجا، ان میں سے چار اپنے اپنے دین پر قائم رہے۔ اس کے علاوہ باقی سب نے اور ان کے پیروکاروں کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اسی وجہ سے ان علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہوگئی تھی۔

سفراء ِمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب تبلیغ و اشاعتِ اسلام کا ارادہ فرمایا اور مختلف اقوام وممالک کے بادشاہوں، امرا، رئووسا کی جانب خطوط بھیجے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس امر کے لیے نہ صرف حسین افراد کا انتخاب فرمایا بلکہ ایسے اصحاب کو بھی ترجیح دی جو فصیح اللسان تھے۔ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ سفیر تھے جو سب صحابہ کرام ؓسے حسین تھے اور جبریل امین علیہ السلام وحی لے کر آپ رضی اللہ عنہ کی شکل میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تھے۔

(ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج2، ص: 385)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفیروں کو چونکہ یہ خصوصیت بھی حاصل تھی کہ ان کے قلوب واذہان علوم نبویہ سے معطر ومطہر تھے، اسی وجہ سے ان میں علم، تحمل اوروبردباری کے ساتھ ساتھ فصاحت وبلاغت اور قادر الکلامی بدرجہ اتم موجود تھی اور وہ مخالف کو دلائل مسکتہ سے قائل کرنے میں کمال رکھتے تھے۔

علامہ سہیلی اپنی کتاب الروض الانف میں لکھتے ہیں کہ جب حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ قیصر روم کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام لے کر گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا:

اے قیصر!مجھے اس ذات نے بھیجا ہے جو تم سے بہتر ہے، جسے اس ذات نے پوری کائنات کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے جو تمام لوگوں سے بہتر ہیں۔ سو تم میری بات عاجزی سے سنو، پھر اس کا جواب مخلصانہ مشورے سے دو۔ کیونکہ اگر تم عاجزی نہیں کرو گے، سمجھو گے نہیں اور اگر تم نے مخلصانہ مشورہ نہ لیا تو تم انصاف نہیں کر پا ئوگے۔

قیصر نے کہا: لائو کیا ہے ؟ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نماز پڑھتے تھے؟ 

اس نے کہا: ہاں۔ 

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اس ذات کی طرف دعوت دیتا ہوں جس کے لیے مسیح علیہ السلام نماز پڑھتے تھے، اور میں تمہیں اس ذات کی طرف بلاتا ہوں جس نے اس وقت بھی آسمانوں اور زمین کے نظام کی تدبیر فرمائی جب مسیح علیہ السلام ابھی اپنی ماں کے شکم میں تھے اور میں تمہیں اس نبی آخر الزمان کی طرف دعوت دیتا ہوں جس کی آمد کی بشارت موسی علیہ السلام نے اور ان کے بعد عیسی علیہ السلام نے دی اور تمہارے پاس اس کے متعلق جو علم موجود ہے وہ اس سلسلہ میں کافی ہے اور اس خبر پر یقین کے لیے اطمینان بخش ہے۔ اگر تم نے اس دعوت کو قبول کر لیا تو تمہارے لیے دنیا اور آخرت میں سرفرازی ہے ورنہ آخرت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گی اور دنیا کا حصہ تم پالو گے۔ اور جان لو کہ تمہارا ایک مالک وپروردگار ہے جو ظالموں، جابروں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے اور عظیم نعمتوں کو بدل دیتا ہے۔

قیصر نے مکتوبِ گرامی کو لے کر اپنی آنکھوں اور سر پر رکھا اس کے بعد اسے چوما اور پھر کہا:

بخدا!میں ہر خط کو پڑھتا ہوں اور ہر عالم سے سوال کرتا ہوں، میں نے اس مکتوب میں خیر ہی خیر دیکھی ہے۔ آپ مجھے مہلت دو تاکہ میں غور کروں کہ مسیح علیہ السلام کس کے لیے نماز پڑھتے تھے۔ مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں آج تمہیں ایسا جواب دوں کہ کل اس سے بہتر جواب دے سکوں اور میں اپنے سابقہ جواب کی وجہ سے نقصان پائوں اور فائدہ نہ پائوں۔ تم ٹھہرو یہاں تک کہ میں کسی فیصلہ پر پہنچ سکوں۔

وہ اسی حال میں رہا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوگیا۔

(سہیلی، الروض الانف، 4: 388)

حضرت عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ 7 ہجری کے اوائل میں فارس کے بادشاہ ابرویز کی طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دعوت نامہ لے کر گئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کے ساتھ روم کی طرف روانہ کیا۔ ان کے 80 آدمیوں کورومیوں نے قید کر لیا۔ حضرت عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو رومیوں نے دینِ اسلام چھوڑنے اور کفر اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ ان کے کئی حربے استعمال کرنے کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ مسلسل انکار کرتے رہے۔ یہاں تک کہ روم کے بادشاہ نے کہا:

اے عبد اللہ بن حذافہ!اگر تم میرے سر کا بوسہ لے لو تو میں تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو رہا کر دوں گا۔

آپ نے اپنے دل میں کہا کہ اگرچہ یہ اللہ کا دشمن ہے مگر حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ میں مسلمان قیدیوں کو رہا کروانے کے لیے اس کے سر کا بوسہ لے لیتا ہوں۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور مسلمان قیدیوں کو رہائی دلواکر واپس مدینے پہنچے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو رہا کروا کر سیدنا عمر بن خطاب کی بارگاہ میں پہنچے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

آج ہر مسلمان کا حق ہے کہ وہ عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے سر کا بوسہ لے اور اس کی ابتداء میں کرتا ہوں۔(عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج5، ص: 162)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید الاضحی:صبرووفا،اطاعت ربانی کی عظیم داستان

عید الاضحی ایک اسلامی تہوار ہے اور عبادت و خوشی کے اظہار کا دن بھی ہے۔ ہر قوم میں خوشی کے اظہار کے کچھ دن ہوا کرتے ہیں۔ زمانہ جہالیت میں بھی سرکار دوعالم ﷺجب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگ دو دن ناچ گانے کھیل کود میں گزارا کرتے۔

عید کے دن کیسے گزاریں؟

ادیان عالم میں ہر مذہب سے وابستہ ہر قوم اپنا ایک مذہبی تہوار رکھتی ہے۔ جس میں وہ اپنی خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے جداگانہ تشخص کا اظہار بھی کرتی ہے۔مسلمانوں کی عید دیگر مذاہب و اقوام کے تہواروں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے۔اہل اسلام کی عید اپنے اندر اطاعتِ خداوندی،اسوہ نبوی ،جذبہ ایثار و قربانی، اجتماعیت،غریب پروری، انسانی ہمدردی رکھتی ہے۔ جانور کی قربانی کرنا دراصل اسلامی احکامات پر عمل کرنے کیلئے خواہشات کی قربانی کا سنگ میل ہے۔

فلسفہ قربانی:تاریخ،اسلامی اور معاشی حیثیت

اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر قوم میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ ہزاروں سال پہلے جب انسان اپنے حقیقی خالق و مالک کو بھول چکا تھا اور اپنے دیوتاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے یا ان کے نام کی نذر و نیاز مانتے ہوئے جانور کو ذبح کر کے ان کے سامنے رکھ دیتا تھا اور یہ عقیدہ رکھتا کہ اب دیوتا مجھے آفات سے محفوظ رکھیں گے۔

پیغمبروں کی عظیم قربانی

ماہ ذوالحجہ قمری سال کا آخری مہینہ ہے، رب ذوالجلال نے جس طرح سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان المبارک کو اور پھر رمضان المبارک کے تین عشروں میں سے آخری عشرہ کو جو فضیلت بخشی ہے بعینہ ماہ ذوالحجہ کے تین عشروں میں سے پہلے عشرہ کو بھی خاص فضیلت سے نوازاہے۔

گرین شرٹس کو واپسی

آئی سی سی مینز ٹی20ورلڈکپ کے گزشتہ 8 ایڈیشنز میں تین بار سیمی فائنل اور تین بار فائنل کھیل کر ایک بار ورلڈ چیمپئن بننے والی پاکستان کرکٹ ٹیم امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں جاری ٹی20ورلڈ کپ کے 9ویں ایڈیشن میں گروپ مرحلے سے ہی آئوٹ ہو گئی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں متاثر کن ریکارڈ کا حامل پاکستان فائنل یا سیمی فائنل تو بہت دور کی بات، سپرایٹ مرحلے کیلئے بھی کوالیفائی نہ کر سکا۔

ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 اب تک کے ریکارڈز

بہترین بلے بازورلڈ کپ 2024ء میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی افغانستان کے رحمت اللہ گرباز ہیں، جنہوں نے 3 میچ کھیل کر 167رنز بنائے ہیں۔ اس فہرست میں امریکہ کے ارون جونز141 رنز کے ساتھ دوسرے، آسٹریلیا کے وارنر 115 رنز کے ساتھ تیسرے، افغانستان کے ابراہیم زردان 114 رنز کے ساتھ چوتھے اور امریکہ کے غوث 102 رنز کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔