سچی توبہ

تحریر : روزنامہ دنیا


خالد بہت شرارتی بچہ تھا۔ سکول اور محلے کا ہر چھوٹا بڑا اس کی شرارتوں سے تنگ تھا۔ وہ جانوروں کو بھی تنگ کرتا رہتا ، امی ابو اسے سمجھاتے مگر خالد باز نہ آتا۔

آج جب وہ چھوٹی بہن ساجدہ کو تنگ کر رہا تھا تو اس نے غصے میں خالد کو دھکا دے دیا۔ خالد فرش پر گر گیا اور زور زور سے رونے لگا۔  وہ اسی طرح خود کو مظلوم اور معصوم ثابت کرتا تھا۔ اس کے رونے کی آواز سن کر امی جان اپنے کمرے سے نکلیں اور رونے کی وجہ پوچھی تو خالد نے جھوٹ بول کر خود کو بے قصور ثابت کر دیا۔

امی جان نے اس کی بات پر یقین کر لیا اور ساجدہ کو ڈانٹ کر چلی گئیں۔ ساجدہ اچھی اور سمجھدار لڑکی تھی۔ وہ خاموش رہی اور امی کو اصل بات بتا دی۔

 شام کو خالد گھر سے باہر گلی میں گیا تو اس کی نظر ایک بلی پر پڑی جو اپنے دو بچوں کے ساتھ وہاں سے گزر رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہی خالد کی آنکھیں شرارت سے چمکنے لگیں۔ اس نے  زمین سے پتھر اُٹھائے اور بلی کو مارنے لگا، دو چار پتھر بلی کو لگے اور ایک پتھر بلی کے چھوٹے بچے کو بھی لگا۔ وہ تینوں خوفزدہ ہو کر بھاگ گئے۔

امی نے اسے کئی بار سمجھایا تھا کہ بے زبان جانوروں کو تنگ نہ کیا کرو، یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، مگر خالد یہ باتیں کہاں سمجھتا تھا۔ آج خالد اپنے کارنامے پر بہت خوش تھا۔ وہ گھر لوٹا اور چائے پی کر تھوڑی دیر بعد دوبارہ باہر نکل گیا۔ابھی اس نے گلی میں قدم رکھا ہی تھا کہ ایک تیز رفتار موٹر سائیکل سے ٹکرا کر زمین پر گر پڑا۔ اس کے ہاتھوں اور پیروں پر چوٹ آئی اور زخموں سے خون نکلنے لگا۔ خالد درد کی شدت سے رو رہا تھا۔ وہاں موجود لڑکوں نے اسے اْٹھایا اور اس کے گھر لے گئے۔ خالد کو اپنی امی کی بات یاد آگئی جنہوں نے اسے بے زبان جانوروں کو تنگ کرنے سے منع کیا تھا۔ ابو فوراً اسے ہسپتال لے گئے اور مرہم پٹی کروائی۔

خالد کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔ گھر آنے کے بعد اس نے امی سے کہا آپ ٹھیک کہتی تھیں۔ آج میں نے بے زبان بلی اور اس کے بچوں کو پتھر مارے تھے، اس نے مجھے بد دعا دی ہو گی اور یہ اسی کی سزا ہے۔ 

 امی نے پیار سے خالد کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولیں،بیٹا! اگر تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو تم توبہ کرو اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا عہد کرو۔ اللہ بہت رحیم ہے وہ توبہ کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے۔ 

خالد نے سچے دل سے توبہ کی اور امی سے وعدہ کیا کہ وہ کبھی دوبارہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچائے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید الاضحی:صبرووفا،اطاعت ربانی کی عظیم داستان

عید الاضحی ایک اسلامی تہوار ہے اور عبادت و خوشی کے اظہار کا دن بھی ہے۔ ہر قوم میں خوشی کے اظہار کے کچھ دن ہوا کرتے ہیں۔ زمانہ جہالیت میں بھی سرکار دوعالم ﷺجب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگ دو دن ناچ گانے کھیل کود میں گزارا کرتے۔

عید کے دن کیسے گزاریں؟

ادیان عالم میں ہر مذہب سے وابستہ ہر قوم اپنا ایک مذہبی تہوار رکھتی ہے۔ جس میں وہ اپنی خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے جداگانہ تشخص کا اظہار بھی کرتی ہے۔مسلمانوں کی عید دیگر مذاہب و اقوام کے تہواروں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے۔اہل اسلام کی عید اپنے اندر اطاعتِ خداوندی،اسوہ نبوی ،جذبہ ایثار و قربانی، اجتماعیت،غریب پروری، انسانی ہمدردی رکھتی ہے۔ جانور کی قربانی کرنا دراصل اسلامی احکامات پر عمل کرنے کیلئے خواہشات کی قربانی کا سنگ میل ہے۔

فلسفہ قربانی:تاریخ،اسلامی اور معاشی حیثیت

اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر قوم میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ ہزاروں سال پہلے جب انسان اپنے حقیقی خالق و مالک کو بھول چکا تھا اور اپنے دیوتاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے یا ان کے نام کی نذر و نیاز مانتے ہوئے جانور کو ذبح کر کے ان کے سامنے رکھ دیتا تھا اور یہ عقیدہ رکھتا کہ اب دیوتا مجھے آفات سے محفوظ رکھیں گے۔

پیغمبروں کی عظیم قربانی

ماہ ذوالحجہ قمری سال کا آخری مہینہ ہے، رب ذوالجلال نے جس طرح سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان المبارک کو اور پھر رمضان المبارک کے تین عشروں میں سے آخری عشرہ کو جو فضیلت بخشی ہے بعینہ ماہ ذوالحجہ کے تین عشروں میں سے پہلے عشرہ کو بھی خاص فضیلت سے نوازاہے۔

گرین شرٹس کو واپسی

آئی سی سی مینز ٹی20ورلڈکپ کے گزشتہ 8 ایڈیشنز میں تین بار سیمی فائنل اور تین بار فائنل کھیل کر ایک بار ورلڈ چیمپئن بننے والی پاکستان کرکٹ ٹیم امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں جاری ٹی20ورلڈ کپ کے 9ویں ایڈیشن میں گروپ مرحلے سے ہی آئوٹ ہو گئی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں متاثر کن ریکارڈ کا حامل پاکستان فائنل یا سیمی فائنل تو بہت دور کی بات، سپرایٹ مرحلے کیلئے بھی کوالیفائی نہ کر سکا۔

ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 اب تک کے ریکارڈز

بہترین بلے بازورلڈ کپ 2024ء میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی افغانستان کے رحمت اللہ گرباز ہیں، جنہوں نے 3 میچ کھیل کر 167رنز بنائے ہیں۔ اس فہرست میں امریکہ کے ارون جونز141 رنز کے ساتھ دوسرے، آسٹریلیا کے وارنر 115 رنز کے ساتھ تیسرے، افغانستان کے ابراہیم زردان 114 رنز کے ساتھ چوتھے اور امریکہ کے غوث 102 رنز کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔