عبرتناک شکست کے بعد آج کڑا امتحان

تحریر : زاہداعوان


ٹی 20 کرکٹ پر حکمرانی کی عالمی جنگ، امریکہ اور ویسٹ انڈیز کے میدانوں میں جاری، 20ٹیمیں مدمقابل ہیں۔دنیائے کرکٹ کے شائقین چوکوں چھکوں کی بہار سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی 20 کرکٹ کی عالمی جنگ میں اپنے پہلے ہی معرکے میں بری طرح ناکام رہی اور دنیائے کرکٹ کی نووارد ٹیم میزبان امریکہ کے ہاتھوں ٹی20ورلڈکپ کی سب سے بڑی اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

 ٹی20 ورلڈکپ میںتین بار کی فائنلسٹ پاکستانی ٹیم جس طرح اپنا پہلا میگا ایونٹ کھیلنے والی امریکی الیون کے سامنے بیٹنگ، بائولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں ناکام دکھائی دی اس نے میرٹ اور ٹیم سلیکشن پر بھی ایک بار سوال اٹھا دئیے ہیں۔ زبانِ خلق کی جانب سے ہدف تنقید اعظم خان نے اپنی کارکردگی سے ثابت کیاکہ ان کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں بنتی جبکہ ٹیم کوسپر اوور میں صائم ایوب کی یاد بھی آئی، اگر نوجوان اوپنر پلیئنگ الیون کا حصہ ہوتے تو یقینا سپر اوور میں بہتر کھیل پیش کر سکتے تھے۔ 

6جون کوڈیلس میں ہونے والے ورلڈکپ کے گیارہویں میچ میں امریکی کپتان نے ٹاس جیت کر شاہینوں کوپہلے بیٹنگ کی دعوت دی، قومی ٹیم نے مقررہ20اوورزمیں7وکٹوں کے نقصان پر 159سکور کیا۔ جواب میں امریکی ٹیم نے صرف 3وکٹوں پر 159رنز بنا کر میچ مقررہ اوورز میں برابر کردیا اور میچ کا فیصلہ سپراوور میں ہوا۔ فیصلہ کن اوور میں بھی پاکستانی بیٹنگ نہ چلی اور یوں میزبان امریکہ نے خود کو سپرسٹارز سے کچھ اوپر کی شے سمجھنے والی بابرالیون کو میگا ایونٹ کے پہلے ہی میچ میں شرمناک شکست دے کر ثابت کیاکہ ٹیم میں جذبہ اور اتحاد جیت کیلئے زیادہ اہم ہے۔

گرین شرٹس کی اس شکست کو ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا اپ سیٹ قرار دیا جا سکتا ہے جو پاکستان کیلئے بہت بڑا دھچکاہے اور اس بڑی اپ سیٹ شکست کے بعد شاہینوں کو آج پھر سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کرنا ہے۔ شاہینوں کا اصل امتحان روایتی حریف بھارتی سورمائوں کے ساتھ آج نیویارک سٹیڈیم میں ہوگا جو یقینا فائنل سے قبل ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا، دلچسپ اور سخت معرکہ قرار دیا جا سکتاہے کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ کرکٹ کے کسی بھی بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شائقین کو فائنل سے بھی زیادہ انتظار ان دونوں روایتی حریف ٹیموں کے مابین ہونے والے مقابلے کا ہوتاہے۔آج کے میچ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ آئی سی سی نے شائقین کی دلچسپی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے کمائی کا ذریعہ بنالیا اور پاک بھارت میچ کے ٹکٹ کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر رہی۔انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے آج میچ کیلئے ڈائمنڈ کلب کے6 ہاسپیٹلٹی پیکج رکھے ہیں جن میں ڈائمنڈ کلب، کیبا ناس،پریمیم کلب لاونجز،  کارنر کلب، پویلین کلب اور باونڈری کلب شامل ہیں۔ سب سے مہنگے ڈائمنڈ کلب کے ایک ٹکٹ کی قیمت 27 لاکھ 80 ہزارروپے سے زائد مقرر کی گئی ہے،ڈائمنڈ کلب کے ٹکٹ ہولڈرکو میچ کا بہترین منظر دیکھنے کو ملے گا۔ڈائمنڈ کلب میں کھانے پینے کی اشیاء سمیت کرکٹ کے لیجنڈزکیساتھ ملاقات کا بھی موقع فراہم کیا جائے گا۔پریمیئم کلب کے ٹکٹ کی قیمت 6 لاکھ 95 ہزار پاکستانی ،کارنرکلب کے ٹکٹ کی قیمت 7 لاکھ 64 ہزار پاکستانی روپے مقرر کی گئی ہے جنہیں کرکٹ تاریخ کے سب سے مہنگے ٹکٹ قرار دیا جاسکتاہے۔

ٹی 20ورلڈکپ میں چوکوں وچھکوں کی برسات جاری ہے اور کرکٹ کا یہ عالمی میلہ اپنے عروج پر ہے ، یوں تو اب تک مجموعی طور پر ویسٹ انڈیز اور امریکہ میں ورلڈکپ کے 18 میچز کھیلے جا چکے ہیں اور دنیا بھر کی نظریں ٹورنامنٹ کے آج دو روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے 19ویں میچ پر جمی ہوئی ہیں جو آج شام ساڑھے سات بجے نیویارک سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ باقی سارا ورلڈ کپ ایک طرف اور آج شاہینوں کا سورمائوں سے مقابلہ ایک طرف ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے باہمی ٹی20انٹرنیشنل ریکارڈکا مختصر سا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت نے 2007 ء میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے افتتاحی آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ کے فائنل میں پہنچنے والے پہلے دو ممالک بن کر تاریخ رقم کی۔دونوں روایتی حریفوں کے مابین کسی بھی ٹیم کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ ٹوٹل انڈیا کا ہے جوانہوں نے 2012 ء میں احمد آباد میں دوسرے ٹی 20 انٹرنیشنل میں پاکستان کے خلاف 192/5 سکور کیا۔ ٹی20میں دونوں ٹیموں کا سب سے کم ٹوٹل گرین شرٹس کا ہے، بھارت نے 2016 ء میں ایشیا کپ کے دوران ڈھاکہ میں چوتھے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کو 83 رنز پر آئوٹ کر دیا۔ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں روایتی حریفوں میں سب سے زیادہ انفرادی سکورٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021ء سپر12 میچ کے دوران پاکستان کے اوپنر محمد رضوان کا ہے جنہوں نے بھارت کے خلاف ناقابل شکست79رنزبنائے جو اب تک پاک بھارت مقابلوں میں کسی بھی بلے باز کا سب سے بڑا انفرادی سکور ہے۔ٹی ٹوئنٹی میں بہترین انفرادی بائولنگ کا اعزاز بھی پاکستان کے محمد آصف کا ہے جنہوںنے ڈربن میں 2007ء کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کیخلاف 18رنز دے کر 4وکٹیںحاصل کیں۔ 

دونوں ہمسایہ روایتی حریفوں کے درمیان اب تک کل 12ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے گئے جن میں سے بھارت نے 9جبکہ پاکستان نے 3جیتے۔ دونوں روایتی حریف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ مقابلوں میں کل 7بار مدمقابل آئے، 5بار انڈیا جبکہ 1بار پاکستان کو فتح نصیب ہوئی اور ایک میچ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوا۔

پاکستان ورلڈکپ میں اپنا تیسرا میچ کینیڈا کے خلاف نیویارک میں 11جون کو جبکہ چوتھا گروپ میچ آئرلینڈ کے خلاف فلوریڈا میں 16 جون کو کھیلے گا۔

ایک طرف آج کے میچ کیلئے بھرپور وتاریخی تیاریاں کی گئی ہیں تو دوسری طرف آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے نیویارک سٹیڈیم کی ڈراپ ان پچ پر تنقید کی جارہی ہے۔جنوبی افریقہ اور سری لنکا کا میچ نیو یارک میں لو سکورنگ رہا، سری لنکن ٹیم 77 رنز پر آئوٹ ہوئی جبکہ میچ میں مجموعی طور پر 14 وکٹیں گریں، جنوبی افریقہ نے میچ میں6 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی، بیٹرز کیلئے پچ میں کچھ نہ ہونے پر ڈراپ ان پچ کو تنقید کا سامنا ہے۔

آج کے تاریخی میچ کے حوالے سے پاکستان کے سابق کپتان اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لئے آئی سی سی کے برانڈ ایمبیسیڈر شاہد آفریدی کاکہناہے کہ ٹورنامنٹ دیکھنے والے امریکیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت کے خلاف پاکستان کا کھیل ہمارے سپر بال جیسا ہے۔دونوں ٹیموں میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے، جو ٹیم اپنے اعصاب کو تھامے گی وہ ہی اوپر آئے گی۔

ہمیشہ کی طرح جاری ٹی 20ورلڈکپ میں بھی آئی سی سی بھارت کے ہاتھوں میں یرغمال ہے ، اسی لیے ٹی ورلڈکپ میں بھارتی کرکٹرز کے ساتھ لاڈلے جبکہ دیگر ٹیموں سے سوتیلے والا سلوک دیکھنے میں آرہا ہے۔ امریکہ میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز پرسری لنکا، جنوبی افریقہ اور آئر لینڈ کو لاجسٹک کے مسائل کا سامنا ہے، اس کے مقابلے میں بھارتی ٹیم کو پریکٹس وینیو اور سٹیڈیم کے بالکل قریب رہائش فراہم کی گئی ہے۔ ٹیموں کا شکوہ ہے کہ بھارتی ٹیم کو زیادہ میچز ایک وینیو پر رکھ کر بھی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ سری لنکا نے جنوبی افریقہ اور آئر لینڈ کے ساتھ مل کر باقاعدہ طور پر آئی سی سی سے شکایت بھی کی ہے۔تینوں ممالک کو فلوریڈا سے نیویارک تک شدید سفری مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ فلوریڈا کے گرم موسم میں کھیلنے کے بعد سری لنکا اور آئر لینڈ کو چارٹرڈ فلائٹ کیلئے 7 گھنٹے پریشان ہونا پڑا، ٹیموں کو نیویارک گزشتہ جمعے کی رات 8 بجے پہنچنا تھا لیکن اگلے روز صبح 5 بجے پہنچیں۔ سری لنکا کو تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے صبح کا ٹریننگ سیشن منسوخ کرنا پڑا ۔ سری لنکن ٹیم کا ہوٹل پریکٹس وینیو سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ہے جس کے باعث مختلف ٹیموں میں اضطراب پایا جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید کی خریداری خواتین کی سب سے بڑی پریشانی

عید کا کوئی دوسرا نام سوچا جائے تو وہ خوشی ہی ہو سکتاہے ،چاند رات کے گزرنے کے بعد آنے والی صبح وہ نوید لے کر آتی ہے جسے عید کہا جاتا ہے۔جب چہرے جگمگانے لگتے ہیں،ہتھیلیوں پر مہندی کے گہرے رنگ دیکھے جاتے ہیں، کپڑوں کی بہار اور چمک چہروں پر بھی نظر آنے لگتی ہیں۔بچے،خواتین اور مرد، بڑے ،بوڑھے سبھی اپنے اپنے انداز میںخوشی کے اظہار کے طریقے سوچنے لگتے ہیں۔

موسم گرما کی عید:میک اپ کیساکیا جائے !

ماہ ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی عید کی تیاریوں میں تیزی آجاتی ہے۔عید کے دن ہر کسی کی کوشش اور خواہش یہ ہی ہوتی ہے کہ اس کی ڈریسنگ اورمیک اپ اچھے سے اچھا ہو تاتاکہ وہ سب سے خوبصورت اور الگ نظرآسکیں۔اس لیے آج ہم آپ کوچند ایسی باتیں بتائیں گے جن پر عمل کر کے آپ سب سے الگ اور منفرد نظر آ سکیں گی۔

آج کا پکوان

عید کی خاص بریانی اجزاء: چکن1/2کلو،نمک ایک چائے کا چمچ، لونگ دس سے بارہ عدد،دہی ایک کپ،ثابت گرم مصالحہ دو چائے کے چمچ،ادرک حسبِ ضرورت، کُٹی لال مرچ ایک چائے کا چمچ،ہری الائچی چار عدد،کالی الائچی چار عدد،ٹماٹر دو عدد،ہری مرچ چھ سے آٹھ عدد،کالا زیرہ 1/4 چائے کا چمچ،لہسن حسبِ ضرورت، کھانے کا پیلا رنگ ایک چُٹکی،کیوڑا 1/2چائے کا چمچ،گھی یا تیل ایک کپ،پیاز دوعدد،دودھ حسبِ ضرورت، چاول دو کپ،نمک حسبِ ذائقہ،دار چینی ایک ٹکڑا، لونگ چار عدد

حفیظ تائب :نعت کی شیریں آواز

کہ آپ اپنا تعارف۔۔۔۔ اُردو کے جدید نعت گو شعرا میں حفیظ تائب کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ان کا اصل نام عبدالحفیظ تھا ۔ وہ 14 فروری 1931ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے نعتیہ مجموعوں میں ’’صلو علیہ و آلہ‘‘، ’’سک متراں دی‘‘، ’’وسلمو تسلیما‘‘، ’’وہی یٰسیں وہی طہٰ‘‘، ’’لیکھ، تعبیر‘‘ اور ’’بہار نعت‘‘ وغیرہ شامل ہیں جبکہ ان کے علاوہ متعدد نثری کتب بھی شامل ہیں، جن میں تحقیق ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی ’’تمغہ برائے حسن کارکردگی ‘‘عطا کیا تھا۔وہ 12 اور13جون 2004 ء کی درمیانی شب لاہور میں وفات پاگئے اوراسی شہر میں مدفون ہیں۔

کلاسیکی شاعری اور تفہیم غالب

اردو نثر اور شاعری کے عظیم ترین اساتذہ میں غالب کا مقام نمایاں حیثیت رکھتا ہے جو ان کی وفات کے ایک صدی اور تقریباً تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ناقابل تسخیر رہا ہے۔ دراصل 1857ء آتے آتے ہی، جو جنوبی ایشیا کی سماجی، سیاسی اور ادبی و تہذیبی تاریخ کا نقطہ انقلاب تھا، غالب کی شہرت و مقبولیت روایت کے عظیم نمائندے اور نئے عہد کے پیش رو کی حیثیت سے قائم ہو چکی تھی اور اس کے بعد ہر نسل نے ان کی کلاسیکی توجہ انگیزی کی توثیق کی ہے۔

جھوٹ کی سزا

پیارے بچو!دور کسی جنگل میں بلیوں کا ایک گروہ رہا کرتا تھا۔ان سب کی آپس میں گہری دوستی تھی۔تمام بلیاں مل جُل کر کھیلا کرتیں اور کھانے پینے بھی اکٹھی ہی نکلا کرتیں۔