آئن سٹائن کی باتیں

تحریر : روزنامہ دنیا


٭…صرف دو چیزیں لامحدود ہیں، پہلی کائنات اور دوسری انسان کی حماقت۔میں کائنات کے بارے میں یہ دعویٰ یقینی طور پر نہیں کر سکتا۔ ٭… مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ تیسری عالمی جنگ کن ہتھیاروں سے لڑی جائے گی لیکن مجھے یقین ہے کہ انسان چوتھی عالمی جنگ لاٹھیوں اور پتھروں کے ساتھ لڑے گا۔

٭… جس نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی، اس نے نیا بھی کچھ نہیں کیا۔

٭… اگر سائنس آپ کی گزربسر کا ذریعہ نہ ہوتو دنیا میں اس سے حیران کن چیز اور کوئی نہیں۔

٭… میں کبھی مستقبل کے بارے میں نہیں سوچتا کیونکہ وہ فوراً آجاتا ہے۔

٭… میری تعلیم میرے سیکھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

 ۔۔۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 18)

سورۃ المؤمنون: سورہ مؤمنون کی ابتدائی گیارہ آیات تعلیماتِ اسلامی کی جامع ہیں‘ ان میں فلاح یافتہ اہلِ ایمان کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں۔ نمازوں میں خشوع وخضوع‘ ہر قسم کی بیہودہ باتوں سے لاتعلقی‘ زکوٰۃ کی ادائیگی‘ اپنی پاکدامنی کی حفاظت‘ امانت اور عہد کی پاسداری اور نمازوں کی پابندی۔ آخر میں فرمایا کہ ان صفات کے حامل اہلِ ایمان ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 18)

سورۃ المؤمنون:اٹھارہویں پارے کا آغاز سورہ مومنون سے ہوتا ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اس گروہ کا ذکر کیا ہے جو جنت کے سب سے بلند مقام یعنی فردوس کا وارث بننے والا ہے۔

غزوہ بدر:حق و باطل کا پہلا فیصلہ کن معرکہ

17رمضان المبارک کو ملنے والی فتح اسلام کی عالمگیر ترویج کا پیش خیمہ ثابت ہوئی:اسے قرآن کی اصطلاح میں ’’یوم الفرقان ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

حضرت عائشہ صدیقہؓ:اخلاق و کردار کا روشن مینار

خادمہ ہونے کے باوجود آپؓ نبی کریم ﷺ کے کام خود انجام دیتیں، آٹا پیستیں، کھانا پکاتیں، بستر بچھاتیں: سیدہ عائشہ ؓسے مروی احادیث کی تعداد 2210 ہے، کثرت کے ساتھ غلاموں کو آزاد کیا، حج کی پابند تھیں

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء : سورۂ انبیا میں فرمایاگیا ہے: لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور وہ غفلت کا شکار ہیں، دین کی باتوں سے رو گردانی کر رہے ہیں اور جب بھی نصیحت کی کوئی نئی بات ان کے پاس آتی ہے تو توجہ سے نہیں سنتے‘ بس کھیل تماشے کے انداز سے سنتے ہیں اور نبی کریم کو اپنے جیسا بشر قرار دیتے ہیں‘ قرآن کو جادو‘ خوابِ پریشاں‘ شاعری اور خود ساختہ کلام قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء :سترہویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ لوگوں کے حساب و کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔